ایس سی او، تعاون کا نیا سفر

ایس سی او، تعاون کا نیا سفر
بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے وزیراعظم شہباز شریف کا خطاب صرف سفارتی تقریر نہیں تھی بلکہ اس میں جنوبی ایشیا اور پورے خطے کو درپیش چند بنیادی سوالات کی بازگشت سنائی دی۔ امن، پانی، دہشت گردی، توانائی، علاقائی رابطہ کاری اور معاشی تعاون ایسے موضوعات ہیں جن سے خطے کا مستقبل وابستہ ہے۔ بدلتی عالمی سیاست میں ایس سی او کی اہمیت اس لیے بڑھتی ہے کہ اختلافات کے باوجود مشترکہ مفادات کی زبان بولی جاسکتی ہے۔ وزیراعظم نے پانی کو خطے کی زندگی اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کی ضمانت قرار دے کر ایک اہم حقیقت کی طرف توجہ دلائی۔ پانی محض قدرتی وسیلہ نہیں، تہذیبوں کی بقا کا بنیادی ستون ہے۔ دریائوں کا بہائو سرحدوں سے واقف نہیں ہوتا، مگر ان سے وابستہ سیاست اکثر سرحدوں کی سختیوں میں الجھ جاتی ہے۔ اگر پانی کو سیاسی دبائو کے آلے میں تبدیل کیا گیا تو اس کے اثرات صرف سفارتی تعلقات تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ زراعت، خوراک، روزگار اور انسانی زندگی تک پہنچیں گے۔ اس لیے عالمی معاہدوں کی روح اور الفاظ کے مطابق پاسداری صرف قانونی تقاضا نہیں بلکہ خطے کے پائیدار امن کی بنیادی شرط ہے۔ جنوبی ایشیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ جنگ کا ایک لمحہ امن کی کئی دہائیاں نگل سکتا ہے۔ اسی لیے وزیراعظم کا تنازعات کے پُرامن حل اور بین الاقوامی قانون پر اعتماد کا اظہار قابلِ توجہ ہے۔ حالیہ بحرانوں نے واضح کر دیا ہے کہ عسکری طاقت کے باوجود کوئی ملک مستقل استحکام تنہا حاصل نہیں کر سکتا۔ سفارت کاری، مکالمہ اور اعتماد سے کشیدگی کو تعاون میں بدلا جاسکتا ہے۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی جانب پیش رفت بھی اسی سوچ کی علامت ہے کہ پاکستان بحرانوں کے بیچ پل تعمیر کرنے کی صلاحیت کو اپنی خارجہ پالیسی کا حصہ بنانا چاہتا ہے۔ تاہم امن کی خواہش صرف سرحدوں پر خاموشی کا نام نہیں۔ غزہ اور مغربی کنارے میں جاری انسانی المیے نے دنیا کے اجتماعی ضمیر کے سامنے ایک کڑا سوال کھڑا کر دیا ہے۔ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور انسانی وقار کا احترام عالمی برادری کی ذمے داری ہے۔ اگر عالمی نظام میں اصول سب کے لیے یکساں ہیں تو ان کا اطلاق بھی بلاامتیاز ہونا چاہیے۔ دنیا میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب طاقتور اور کمزور کے لیے انصاف کے پیمانے الگ نہ ہوں۔ دہشت گردی بھی خطے کے امن کے راستے میں ایک بڑی دیوار ہے۔ پاکستان نے اس جنگ میں بے شمار انسانی جانوں اور بھاری معاشی وسائل کی قربانی دی ہے۔ اس تجربے نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ صرف فوجی کارروائی سے نہیں بلکہ موثر سرحدی نظم، معاشی استحکام، تعلیم، روزگار اور علاقائی تعاون کے ذریعے بھی کرنا ہوگا۔ افغانستان میں امن پاکستان سمیت پورے خطے کے مفاد میں ہے، مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ کسی بھی ملک کی سرزمین دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔ ہمسایہ ممالک کے درمیان اعتماد کی بنیاد اسی باہمی ذمے داری سے مضبوط ہوگی۔ ایس سی او کے تناظر میں پاکستان کے لیے سب سے اہم پہلو علاقائی رابطہ کاری ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری اور بحیرہ عرب تک رسائی وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے نئے معاشی امکانات پیدا کر سکتی ہے۔ پاکستان جغرافیائی اعتبار سے جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان ایک قدرتی پل بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مگر جغرافیہ خود بخود معاشی فائدہ نہیں دیتا۔ اس کے لیے بہتر انفرااسٹرکچر، موثر بندرگاہیں، تیز رفتار کسٹمز نظام، محفوظ راستے، توانائی کی دستیابی اور سرمایہ کاری کے سازگار ماحول کی ضرورت ہوگی۔ وزیراعظم نے اپنی ایس سی او چیئرمین شپ کے لیے توانائی، آئی ٹی، صحت، ثقافت اور کھیل کو ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ یہ انتخاب اس اعتبار سے اہم ہے کہ آج کی عالمی معیشت صرف خام مال اور روایتی تجارت سے نہیں چلتی۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت اور جدید ٹیکنالوجی مستقبل کی طاقت کے نئے پیمانے بن چکے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے انفرااسٹرکچر اور گورننس فریم ورک کی تجویز ایک مثبت قدم ہوسکتی ہے، بشرطیکہ اسے محض کانفرنسوں کی حد تک نہ رکھا جائے بلکہ عملی منصوبوں، مشترکہ تحقیقی مراکز، نوجوانوں کی تربیت اور علاقائی ڈیجیٹل روابط میں تبدیل کیا جائے۔ ایس سی او کے پچیس برس مکمل ہونا بھی اس تنظیم کے سفر کا جائزہ لینے کا موقع ہے۔ کسی بھی بین الاقوامی تنظیم کی کامیابی اس کے اعلامیوں کی تعداد سے نہیں بلکہ عملی نتائج سے ناپی جاتی ہے۔ اگر رکن ممالک تجارت بڑھائیں، توانائی کے منصوبوں میں اشتراک کریں، تعلیمی اور سائنسی روابط مضبوط کریں، دہشت گردی کے خلاف معلومات کا تبادلہ کریں اور عوام کے درمیان سفر و رابطے آسان بنائیں تو تنظیم کا وجود حقیقی معنوں میں بامعنی ہوگا۔ پاکستان کی چیئرمین شپ کے سامنے یہی اصل امتحان ہے کہ وہ ون کو عمل میں کس حد تک بدل پاتی ہے۔ ہمارے لیے سفارتی کامیابی صرف یہ نہیں کہ عالمی فورمز پر موثر تقریر کی جائے، اصل کامیابی یہ ہوگی کہ پاکستان اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کو معاشی طاقت میں، اپنی نوجوان آبادی کو انسانی سرمایہ میں اور اپنے سفارتی اثر کو علاقائی تعاون میں تبدیل کر سکے۔ دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہوچکی ہے جہاں کوئی ملک تنہائی میں خوش حالی حاصل نہیں کر سکتا۔ پانی مشترکہ ہے، ماحول مشترکہ ہے، دہشت گردی کے خطرات سرحدوں کے پابند نہیں اور معیشتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ اس لیے تصادم کے بجائے تعاون، دبا کے بجائے مکالمہ اور تقسیم کے بجائے رابطہ ہی مستقبل کی ضرورت ہے۔ بشکیک کا پیغام اسی وسیع حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پاکستان اگر اپنی ایس سی او چیئرمین شپ کو عملی منصوبوں، قابلِ پیمائش اہداف اور مسلسل سفارتی سرگرمی سے جوڑ دے تو یہ مدت محض ایک اعزاز نہیں بلکہ خطے میں پاکستان کے فعال کردار کو نئی سمت دینے کا موقع بن سکتی ہے۔ پانی کے تحفظ سے امن کے قیام تک، تجارت سے ٹیکنالوجی تک، اور سفارت کاری سے مشترکہ خوش حالی تک، آنے والے برسوں کا اصل سوال یہی ہے کہ خطہ اپنی مشترکہ مشکلات کو مشترکہ امکانات میں کب اور کیسے بدلتا ہے۔
شہداء کا لہو، وطن کی حفاظت
بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی حالیہ کارروائیوں نے ثابت کر دیا کہ وطن کی سلامتی کے خلاف اٹھنے والا ہر قدم ہماری بہادر افواج کے عزم سے ٹکرا کر پاش پاش ہوجاتا ہے۔ چاغی کے علاقے نوکچہ اور پشین زیارت کراس میں فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائیوں میں 21دہشت گردوں کا انجام اس حقیقت کا اعلان ہے کہ ریاست اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے نہیں دے گی۔ کوئٹہ تفتان شاہراہ پر غیر قانونی چیک پوسٹ قائم کرکے مسافروں کی آمدورفت میں خلل ڈالنے کی کوشش محض ایک مجرمانہ حرکت نہیں بلکہ بلوچستان کے امن، معیشت اور قومی وحدت پر حملہ تھا۔ شاہراہیں کسی ملک کی معاشی شہ رگ ہوتی ہیں۔ ان پر خوف کی دیوار کھڑی کرنا دراصل ترقی کے راستے روکنے کی کوشش ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرکے نہ صرف اس سازش کو ناکام بنایا بلکہ شہریوں کو یہ اعتماد بھی دیا کہ ریاست ان کی حفاظت کے لیے چوکس ہے۔ کسٹمز ہائوس پر فتنہ الخوارج کے حملے کو ناکام بنانا بھی بہادری کا مظہر ہے۔ تاہم اس کامیابی کی قیمت چھ بہادر سپوتوں کی شہادت ہے، جن میں دو افسر اور کسٹمز ڈپارٹمنٹ کا ایک اہلکار بھی شامل ہے۔ قوم ان شہداء کی قربانی کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ یہ وہ چراغ ہیں جو اپنے لہو سے وطن کی راہوں کو روشن کرتے ہیں۔ ان کے اہل خانہ کا غم قوم کا غم ہے اور ان کے صبر و حوصلے کو سلام پیش کرنا ذمے داری ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف بندوق سے نہیں جیتی جاتی۔ اس کے لیے قومی یکجہتی، موثر انٹیلی جنس، سرحدی نگرانی، انتظامی استعداد اور عوامی تعاون بھی ناگزیر ہیں۔ دشمن خوف، انتشار اور محرومی کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ بلوچستان کے عوام کو امن کے ساتھ روزگار، تعلیم، صحت اور ترقی کے مواقع بھی میسر آئیں، تاکہ تخریب کاری کے لیے زمین تنگ ہو۔ وزیر اعظم شہباز شریف، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین بجا ہے، مگر اصل خراج یہی ہوگا کہ شہداء کے خون کی حفاظت قومی عزم بن جائے۔ پاکستان کے خلاف سازشیں نئی شکلوں میں سامنے آ سکتی ہیں، لیکن قوم متحد، ریاست مستحکم اور محافظ بیدار ہوں تو دشمن کی ہر چال ناکام بنائی جاسکتی ہے۔ بلوچستان ہمارا ہے، اس کا امن بھی ہمارا فرض ہے۔ یہ عزم زندہ رہنا چاہیے۔





