
وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ صرف بیوروکریسی احتساب سے محفوظ اور ناقابلِ گرفت رہی۔
ایک بیان میں خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان میں حکمراں اشرافیہ کے ہر طبقے کو اپنے اقدامات کی قیمت چکانا پڑی، کرپشن اور بدانتظامی سمیت مختلف الزامات پر حکمراں اشرافیہ کے خلاف کارروائیاں ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں کو شاید ہی احساس ہے کہ ملک پر بیوروکریٹس بھی حکمرانی کرتے رہے ہیں، سابق گورنر جنرل غلام محمد بیوروکریٹ تھے، سابق وزیرِ اعظم چوہدری محمد علی بھی بیوروکریٹ تھے۔
وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ سابق صدور سکندر مرزا اور غلام اسحاق خان بھی بیوروکریٹس تھے، یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہوا جب بظاہر اقتدار سیاست دانوں کے پاس تھا۔
خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بیوروکریٹس کو موردِ الزام نہیں ٹھہراتا، سیاست دانوں کی نااہلی اور باہمی اختلافات نے بیوروکریسی کو جگہ فراہم کی۔







