Abdul Hanan Raja.Column

بے محبت زندگی ماتم ہمہ و امتناع جشن آزادی

بے محبت زندگی ماتم ہمہ و امتناع جشن آزادی
عبدالحنان راجہ
جشن آزادی منانا یا نہ منانا نزاعی مسئلہ نہ تھا کہ جس پر بحث، گرفت، تنقید یا تحسین کی جاتی مگر موجودہ حالات میں اس پر تکنیکی و فنی بات چیت اس لیے لازم ٹہری کہ یہ سوچ لاکھوں قربانیوں، قائدؒ و اقبالؒ پر عدم اعتماد اور سادہ و سطحی ذہنوں میں فکری انتشار کا سبب بننے لگی تھی مگر اس سے قبل بنوں سے پی ٹی آئی کے منتخب رکن قومی اسمبلی مولانا نسیم علی شاہ کی حکیم الامت حضرت اقبالؒ بارے لغو ہی نہیں گھٹیا گفتگو کہ جس میں موصوف نے اپنی عوامی گفتگو میں کہا کہ ’’ اقبالؒ کے خواب کا عذاب قوم بھگت رہی ہے‘‘۔ پر احتجاج اور مذمت لازم کہ اس سے زیادہ ذہنی گراوٹ فکری زوال اور ذہنی انتشار اور کیا ہو سکتا ہے ؟۔ اگر پی ٹی آئی اپنے ممبر اسمبلی کے خلاف کاروائی نہیں کرتی، بالخصوص محترم ولید اقبال جو انہی کی جماعت کے سینیٹر اس پہ تحریک پیش نہیں کرتے تو یقین جانئے کہ اس ہرزہ سرائی کی قیمت پوری PTIکو اٹھانا پڑے گی۔
جشن آزادی نہ منانے کی وجوہات اصولی ہو سکتی ہیں، جن پر بات چیت کے ذریعے فریق دوئم کو قائل کیا جانا لازم کہ اختلاف جمہوری حسن اور اسی سے اصلاح کی سبیل نکلتی ہے، اور اگر یہ فکری انتشار اور نظریاتی بے راہ روی کہ جو مایوسی، فزٹریشن اور عناد کا نتیجہ، پھر یہ انتہا و شدت پسندی، جو بات چیت، مکالمہ و دلیل سے سمجھنے سمجھانے کی حدود سے نکل جاتی ہے۔
دنیا کا کوئی معاشرہ ایسا نہیں کہ جہاں صورتحال آئیڈیل ہو یا اختلافات نہ ہوں۔ جمہوریت کی ماں برطانیہ کو ہی دیکھ لیجئے کہ 10سال میں سات وزرائے اعظم تبدیل ہوئے، مگر کوئی بھونچال نہ آیا، جو 2022ء سے ہمارے ہاں چلا ا رہا ہے۔ خیر اب آتے ہیں ان دلائل کی طرف، کہ اگر اختلاف اصولی یا سیاسی ہو تو یہ براہین سمجھنے سمجھانے کو کافی و شافی، اور اگر اس نے مرض کی صورت اختیار کر لی تو اصلاح کا راستہ توبہ اور استغفار۔ کبھی کبھی انسان اور قوموں پر ایسے اوقات آتے ہیں کہ وہ نظریاتی، فکری و اخلاقی طور پر تضادات یا نرگسیت ( کہ ہمارے علاوہ کوئی درست نہیں) کا شکار ہو کر توازن کھو بیٹھتی ہیں اسی سے شدت پسندی وجود میں آتی ہے اگر یہ مذہب میں ہو تو نقطہ منتہا خارجیت اور اگر سیاست میں ہو تو بغاوت۔
ملی یا قومی جشن منانے کا مقصد کوتاہیوں، نالائقیوں اور نادانیوں پر مہر تصدیق ثبت کرنا ہرگز ہرگز نہیں اور نہ ماضی کے اور موجودہ نالائق حکمرانوں کو سند جواز فراہم کرنا۔ 14اگست ، 23مارچ، 6ستمبر یا ایسے ایام محض تجدید عہد کے لیے، کہ جن مقاصد کے لیے ہمارے آبا نے قربانیاں دیں اور جو مقاصد ہمارے بانیان کے پیش نظر تھے ان پر کاربند رہنے کا عزم ۔
پاکستان کے قیام کے مقاصد حاصل نہ ہو سکنے کو جواز بنا کر جشن آزادی منانے سے روکنے والوں سے سوال کہ ھم روز پانچ بار اللہ کے حضور سربسجود ہوتے ہیں نماز تو برائیوں جھوٹ، کینہ، حسد، بہتان، فتنہ و فساد، بددیانتی سے روکتی ہے تو کیا ہم ان سے رک پائے۔ ؟۔ اور کیا معاذ اللہ نماز کی ادائیگی کا ترک برائی سے کامل احتیاط تک لازم ٹھہرے گا ۔۔۔۔۔ !؟
روزہ نفس کو مغلوب کرنے کی عملی مشق اور روزہ دار کو ہر برائی، غصہ اور بداخلاقی سے رکنے کا حکم۔ اپنے ضمیر میں جھانک کر بتائیے کہ کیا ہم حالت روزہ میں ان ممنوعہ امور سے رکتے ہیں؟، عیدالاضحٰی کے موقع پر قربانی حضرت ابراہیمٌ کی سنت کی یاد تازہ کرنے کا نام تو حقیقی مقاصد کے حصول تک قربانی باری کیا حکم ہو گا ۔۔۔۔؟۔ ہر روز لاکھوں مسلمان عمرہ اور ہر سال حج کا اجتماع، ایمان داری سے بتائیے کہ کیا بار بار ادائیگی کے باوجود ان عبادات کا مقصود ہم حاصل کر پائے ہیں؟۔ مگر اس کے باوجود عمرہ و حج کی بار بار ادائیگی ترک نہیں کی جاتی۔
سمجھانا مقصود کہ اگر کامل عمل ہی شعائر یا جشن منانے کی بنیادی شرط تسلیم کر لی جائے تو اب تک کیے گئے ہمارے اعمال بے معنی اور فرائض و واجبات کا سکوت لازم۔ اسی طرح حکومت و نظام کی خرابیاں ان سے شکایت انتظامی ناکامی تو ہو سکتی ہے مگر یہ سب کسی صورت پاکستان کے قیام و جشن آزادی کی مخالفت کا جواز نہیں ہو سکتا۔ یہ ایسا کھلا فکری مغالطہ ہے جو ذہنی خلفشار کی طرف لے جانے لگا ہے۔
یاد رکھیے اصلاح و انقلاب پسند معتدل طبقہ کے نزدیک جشن آزادی ناکامیوں و ناانصافیوں پر پردہ ڈالنے کا نام نہیں بلکہ اس نظام کے خلاف پرامن جدوجہد کے عزم کی تجدید ہے۔
قیام پاکستان کا مخالف طبقہ ایک دن میں اس انتہا پر نہیں آیا بلکہ اس کے پیچھے ناکامیوں، فزٹریشن اور مایوسی کا دخل کہ ابتدا سیاسی و شخصی مخالفت سے اور پھر مقاصد کے حصول میں ناکامی پر پرتشدد تحریک اور اس پر قانون کی گرفت اور موثر عوامی احتجاج میں ناکامی اس انتہا پر لے آئی کہ پاکستان کے قیام پر سوالات اور جشن آزادی کی مخالفت کی جانے لگی۔
قیادت مذہبی ہو یا سیاسی اگر فہم و فراست، عقل و دانش سے عاری اور نرگسیت کا شکار ہو تو فکری انتشار لازم اور وہ انہیں اس بند گلی میں لے جاتی ہے کہ جہاں سے نکلنے کا راستہ معدوم۔
اس صورتحال سے نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ ھم اپنی اخلاقی حالت بہتر، و روحانی اقدار کی طرف لوٹیں اور اعتدال کی وہ راہ اپنائیں کہ جس کا حکم قرآن اور تاجدار کائنات نے دیا۔ سیاسی اختلاف کو شخصی و شدت پسندی سے بچانا ہو گا کہ لاکھوں پاکستانی آپ کے مثبت کردار کے منتظر کہ فکری انتہا پسندی، انتشار و ہمہ وقت سیاسی ماتم مسائل کا حل نہیں۔ آئیے مستقبل کے پاکستان کو سنوارنے، اقبال کے خواب کی تعبیر اور قائد کے پاکستان کی تکمیل کے لیے معتدل رویوں کے ساتھ جئیں اور ہمہ وقت کڑھنے کی بجائے کشادہ دلی اور عالی ظرف کے ساتھ آگے بڑھیں کہ یہ پاکستان آپ کا، ہمارا اور ہم سب کا ہے۔ اپنے وطن اپنے اعزا و اقارب اور اہل پاکستان سے محبت کرنا سکیھیں کہ محبتیں باٹنے سے محبتیں ملتی ہیں اور اس کے بغیر زندگی ماتم کدہ، جیسا اقبالؒ نے فرمایا۔
بے محبت زندگی ماتم ہمہ
کاروبارش زشت و نا محکم ہمہ
( محبت کے بغیر زندگی ماتم کدہ ہے، اور اس کا تمام کاروبار بدنما اور ناپائیدار )

جواب دیں

Back to top button