امن کیلئے پاکستان کی مخلصانہ کاوشیں

امن کیلئے پاکستان کی مخلصانہ کاوشیں
جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں ایک طرف جنگ، کشیدگی اور عدم اعتماد کے سائے ہیں، تو دوسری جانب امن، تعاون اور مشترکہ ترقی کے مواقع بھی موجود ہیں۔ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے آگے رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ ایسے نازک حالات میں پاکستان نے ایک بار پھر یہ واضح کیا ہے کہ اس کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون خطے میں امن، استحکام اور باہمی تعاون ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا یہ کہنا کہ ’’ پاکستان خطے میں امن کے لیے اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا‘‘، محض ایک سفارتی بیان نہیں بلکہ ایک ایسی پالیسی کی عکاسی ہے جس کے اثرات نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی معیشت، تجارت اور عوام کی زندگیوں پر مرتب ہوسکتے ہیں۔ ایران کے وزیر صنعت، کان کنی و تجارت سید محمد اتابک سے ملاقات میں دونوں ممالک کا سرحدی تجارت کے فروغ، چوبیس گھنٹے بارڈر کھلا رکھنے، کسٹمز نظام میں ہم آہنگی، لاجسٹکس کی بہتری اور معدنی وسائل کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ امن اور تجارت ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتے۔ جہاں بارود کی بو ہوگی وہاں سرمایہ کاری نہیں آئے گی اور جہاں اعتماد اور استحکام ہوگا وہاں خوشحالی خود راستہ بنا لے گی۔ پاکستان اور ایران کے درمیان دس ارب ڈالر کی دوطرفہ تجارت کا ہدف اسی وقت حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان مستقل اعتماد، محفوظ سرحدیں اور پائیدار امن موجود ہو۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ دونوں قیادتیں اس حقیقت کو بخوبی سمجھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی تعلقات کو اقتصادی تعاون میں تبدیل کرنے کی سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔ سرحدی تجارت میں اضافے سے بلوچستان اور سرحدی علاقوں کے عوام کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے، غیر قانونی تجارت کی حوصلہ شکنی ہوگی اور قانونی کاروبار کو فروغ ملے گا۔پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس نے ہمیشہ تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات، افہام و تفہیم اور سفارت کاری کو ترجیح دی ہے۔ موجودہ علاقائی حالات میں بھی پاکستان نے کسی اشتعال انگیز رویے کے بجائے امن اور مصالحت کی راہ اختیار کی، جسے نہ صرف ہمسایہ ممالک بلکہ عالمی برادری نے بھی سراہا ہے۔ یہی مثبت سفارتی رویہ پاکستان کو ایک ذمے دار اور معتدل ریاست کے طور پر نمایاں کرتا ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم کی جانب سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے عمل میں صارفین کے مفاد کو اولین ترجیح دینے کی ہدایت بھی قابلِ توجہ ہے۔ معاشی اصلاحات کا مقصد صرف سرکاری اداروں کی ملکیت تبدیل کرنا نہیں بلکہ عوام کو بہتر خدمات، شفاف نظام اور مضبوط معیشت فراہم کرنا ہے۔ اگر نجکاری عالمی معیار کے مطابق، شفاف انداز میں اور عوامی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے کی جائے تو اس کے مثبت نتائج ملکی معیشت پر مرتب ہوسکتے ہیں۔ تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ اس عمل میں صارفین کے حقوق، ملازمین کے تحفظ اور احتساب کے موثر نظام کو یقینی بنایا جائے تاکہ اصلاحات پر عوام کا اعتماد برقرار رہے۔ آج دنیا میں سرمایہ صرف ان ممالک کا رخ کرتا ہے جہاں سیاسی استحکام، قانون کی حکمرانی اور امن موجود ہو۔ سرمایہ کار کبھی بھی ایسے ماحول میں سرمایہ نہیں لگاتے جہاں جنگ، بے یقینی یا مسلسل کشیدگی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے امن پر زور دینا دراصل پاکستان کی معاشی حکمتِ عملی کا بھی ایک اہم حصہ ہے۔ امن ہوگا تو سرمایہ کاری بڑھے گی، صنعتیں ترقی کریں گی، روزگار پیدا ہوگا اور برآمدات میں اضافہ ہوگا۔ جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی ( جائیکا) کے صدر ڈاکٹر تناکا اکیہیکو سے ملاقات بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ جاپان برسوں سے پاکستان کا ایک قابلِ اعتماد ترقیاتی شراکت دار رہا ہے۔ صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر، فنی تربیت اور صنعتی ترقی جیسے شعبوں میں جائیکا کا تعاون پاکستان کے لیے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے نوجوانوں کی فنی تربیت، خواتین کو بااختیار بنانے اور معدنی وسائل کی ترقی کو ترجیح دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت صرف موجودہ مسائل کے حل پر نہیں بلکہ مستقبل کی معیشت کی بنیاد رکھنے پر بھی توجہ دے رہی ہے۔ یہ بھی حوصلہ افزا امر ہے کہ جائیکا کے صدر نے پاکستان کی سفارتی کوششوں اور مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے کردار کو سراہا۔ عالمی اداروں اور ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے پاکستان کی مثبت سفارت کاری کا اعتراف اس بات کی دلیل ہے کہ دنیا پاکستان کو امن کے فروغ میں ایک سنجیدہ اور ذمہ دار شراکت دار کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں ہمیشہ تباہی، غربت اور بے یقینی کو جنم دیتی ہیں، جبکہ امن ترقی، خوشحالی اور باہمی اعتماد کا ذریعہ بنتا ہے۔ یورپ کی اقتصادی ترقی ہو یا جنوب مشرقی ایشیا کا معاشی انقلاب، ہر کامیاب خطے کی بنیاد امن، تعاون اور مشترکہ مفادات پر رکھی گئی۔ پاکستان بھی اگر اپنی جغرافیائی اہمیت کو معاشی طاقت میں تبدیل کرنا چاہتا ہے تو اسے امن کی اسی پالیسی کو مستقل مزاجی سے آگے بڑھانا ہوگا۔ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ پاکستان اس وقت معاشی بحالی کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ مہنگائی میں کمی، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری، برآمدات میں اضافہ اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا بڑھتا ہوا اعتماد مثبت اشارے ہیں۔ تاہم یہ کامیابیاں اسی صورت برقرار رہ سکتی ہیں جب خطے میں کشیدگی کے بجائے تعاون کی فضا قائم رہے۔ امن صرف سرحدوں کا مسئلہ نہیں بلکہ معیشت، تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور سماجی ترقی کا بھی بنیادی تقاضا ہے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی روابط، نجکاری کے ذریعے معاشی اصلاحات اور جاپان جیسے عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعاون اس بات کا اظہار ہیں کہ پاکستان اپنے مستقبل کو تنازعات نہیں بلکہ ترقی، تجارت اور سفارت کاری سے جوڑنا چاہتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو عوام کو روزگار، صنعت کو وسعت اور ملک کو معاشی خودمختاری کی منزل تک لے جا سکتا ہے۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ موجودہ عالمی حالات میں پاکستان کا امن پر مبنی موقف نہ صرف دانش مندانہ بلکہ وقت کی اہم ضرورت بھی ہے۔ اگر خطے کے تمام ممالک اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے، تجارت کو فروغ دینے اور مشترکہ ترقی کے اصول کو اپنانے میں کامیاب ہوجائیں تو پورا خطہ امن، خوشحالی اور استحکام کی نئی مثال بن سکتا ہے۔ پاکستان نے اپنی سمت کا تعین واضح کردیا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ مخلصانہ سفارتی کوششیں تسلسل کے ساتھ جاری رہیں، کیونکہ پائیدار امن ہی مضبوط معیشت، خوشحال عوام اور روشن مستقبل کی سب سے مضبوط بنیاد ہے۔
شذرہ۔۔۔
پاکستان کی شاندار کامیابی
ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کی آٹھ وکٹوں سے شاندار کامیابی صرف ایک میچ جیتنے کا نام نہیں بلکہ یہ قومی ٹیم کے اعتماد، صلاحیت اور حوصلے کی بحالی کا بھی واضح ثبوت ہے۔ دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز ایک، ایک سے برابر ہونا اگرچہ مکمل فتح نہیں، لیکن غیر ملکی سرزمین پر مسلسل آٹھ ٹیسٹ شکستوں کے بعد یہ کامیابی یقیناً خوش آئند ہے۔ اس جیت نے شائقینِ کرکٹ کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دی ہے اور یہ امید بھی پیدا کی ہے کہ قومی ٹیم درست سمت میں آگے بڑھ سکتی ہے۔ اس کامیابی میں سب سے نمایاں کردار پاکستانی اسپنرز نے ادا کیا۔ ساجد خان اور علی عثمان نے جس عمدگی سے ویسٹ انڈیز کی دوسری اننگز کو سمیٹا، وہ قابلِ ستائش ہے۔ دونوں بائولرز نے نہ صرف درست لائن اور لینتھ برقرار رکھی بلکہ صبر اور حکمتِ عملی کے ساتھ میزبان بیٹرز کو غلطیاں کرنے پر مجبور کیا۔ دوسری جانب عبداللہ شفیق اور کپتان بابر اعظم نے مختصر ہدف کے تعاقب میں ذمے دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیم کو باآسانی کامیابی سے ہمکنار کیا۔ عبداللہ شفیق کا میچ کا بہترین کھلاڑی قرار پانا ان کی محنت اور مستقل مزاجی کا اعتراف ہے۔ تاہم اس کامیابی کے باوجود قومی ٹیم کو خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ سیریز کا پہلا ٹیسٹ پاکستان ہار چکا تھا، جس نے بیٹنگ میں عدم تسلسل، کیچز چھوڑنے اور بعض مواقع پر کمزور حکمتِ عملی جیسے مسائل کو نمایاں کیا۔ ایک کامیابی ان خامیوں پر پردہ نہیں ڈال سکتی۔ اگر پاکستان کو آسٹریلیا، انگلینڈ، جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ جیسی مضبوط ٹیموں کے خلاف مسلسل کامیابیاں حاصل کرنی ہیں تو ہر شعبے میں مزید بہتری ناگزیر ہوگی۔ خصوصاً بیٹنگ لائن کو طویل اننگز کھیلنے کی عادت اپنانا ہوگی، نوجوان کھلاڑیوں کو دبا میں بہتر فیصلے کرنے ہوں گے اور فیلڈنگ کے معیار کو بین الاقوامی سطح کے مطابق بنانا ہوگا۔ جدید کرکٹ میں معمولی غلطی بھی میچ کا نتیجہ بدل دیتی ہے، اس لیے ہر شعبے میں اعلیٰ معیار برقرار رکھنا ضروری ہے۔ قومی ٹیم کے کوچنگ اسٹاف اور سلیکشن کمیٹی پر بھی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ صرف ایک کامیابی پر مطمئن نہ ہوں بلکہ ایسے کھلاڑیوں کی تیاری جاری رکھیں جو ہر قسم کی کنڈیشنز میں یکساں کارکردگی دکھا سکیں۔ نوجوان ٹیلنٹ کو مناسب مواقع دینا اور تجربہ کار کھلاڑیوں کی رہنمائی سے فائدہ اٹھانا مستقبل کے لیے بہترین حکمتِ عملی ثابت ہوسکتی ہے۔ پاکستانی ٹیم نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ثابت کیا ہے کہ وہ مشکلات سے نکل کر کامیابی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کامیابی کو محض ایک یادگار لمحہ نہ رہنے دیا جائے بلکہ اسے مستقل مزاجی، بہتر منصوبہ بندی اور مسلسل محنت کے ذریعے ایک نئی روایت میں تبدیل کیا جائی۔ اگر ٹیم اپنی خامیوں پر قابو پاتے ہوئے اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھتی رہی تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان ایک بار پھر عالمی کرکٹ میں اپنی کھوئی ہوئی برتری واپس حاصل کر لے گا۔





