ColumnRoshan Lal

پنجابیوں کے ساتھ عداوت کیوں؟

پنجابیوں کے ساتھ عداوت کیوں؟
تحریر : روشن لعل
عام پنجابیوں کے متعلق نہ جانے کیوں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس ملک میں ان کے ساتھ عداوت یا امتیازی سلوک روا رکھنا ناممکن ہے۔ عام پنجابیوں کے ساتھ یہاں دوسرے صوبوں کے لوگوں سے کچھ کم برا سلوک نہیں ہوتا مگر یہ برا سلوک اتنی صفائی سے کیا جاتا ہے کہ اکثر پنجابی کچھ اور سمجھنے کی بجائے اس پر اطمینان کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ جہاں تک کچھ اور سمجھنے کا تعلق ہے تو ہو سکتا ہے کہ صرف عام نہیں بلکہ خاص لوگ بھی اس بات کو آسانی سے نہ سمجھ پائیں۔ مثلاً، کیا یہاں یہ بات آسانی سے سمجھی جا سکتی ہے کہ شدید بارشوں کے دوران جو حال کراچی باسیوں کا ہوتا ہے، غیر معمولی برسات میں اسی طرح کے حالات کا سامنا پنجاب اور خاص طور پر لاہور میں رہنے والوں کو بھی کرنا پڑتا ہے ۔ ایسا ہونے کے باوجود ہمارے مین سٹریم میڈیا کے اینکر پرسن لاہوریوں اور پنجابیوں کے دکھ درد کی اس طرح عکاسی نہیں کرتے جس طرح خاص طور پر کراچی والوں کے مسائل کی نشاندہی کرتے رہتے ہیں۔ وسطی اور شمالی پنجاب کے کچھ اضلاع میں ہونے والی حالیہ بارشوں کے دوران ہمارا میڈیا پنجابیوں کے لیے اسی قسم کی بے حسی کا مظاہرہ کرتا نظر آیا۔ اگر میڈیا پرسنز پنجابیوں کے مسائل بری طرح نظر انداز کرتے ہیں تو اس رویے کو پنجاب باسیوں کے ساتھ کیوں عداوت تصور نہیں کیا جاسکتا۔
کراچی میں گزشتہ برسوں کے دوران ہونے والی ریکارڈ بارشوں کے بعد ہمارے میڈیا پرسنز نے جو ہاہا کار مچائی وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ کراچی کی بارشوں پر کی گئی میڈیا پرسنز کی ہاہاکار سے کچھ اور برآمد ہوا یا نہیں، لیکن ان کی چیخم دھاڑ کے سبب شہر میں بروقت نکاسی آب نہ ہونے سے متعلق یہ ناقابل تردید حقائق ضرور سامنے آئے کہ کراچی میں نکاسی آب کی سولجر بازار ڈرین پر عرصہ سے دو عدد بنک اور جیولر مارکیٹ جیسی ناجائز تعمیر ات موجود ہیں۔ اس ڈرین پر کچھ دہائیاں قبل گرلز کالج کا ایک حصہ اور ایک گورنمنٹ سکول بنا دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ، نکاسی آب کی اس ڈرین کی چوڑائی کم کر کے اس پر شاہین کمپلیکس، سپریم کورٹ کی کار پارکنگ، اور صوبائی محتسب کا دفتر بھی تعمیر کیا گیا۔ علاوہ ازیں اسی نالے کی زمین سے کے ایم سی مارکیٹ اور اورنگ زیب مارکیٹ بنانے کی گنجائش نکالی گئی ۔ اسی طرح کراچی میں لیاری کے پنچرڈ نالے سے ککری گرائونڈ کا ایک حصہ نکالا گیا۔ گوشت مارکیٹ بھی پنچرڈ نالے پر بنائی گئی ہے۔ اسی نالے پر دو مساجد بھی ناجائز تعمیرات کا حصہ ہیں۔ عرصہ پہلے کورنگی روڈ کے ساتھ بہنے والے نالے کی چوڑائی کم کر کے اسے چھوٹا کیا گیا ۔ قیوم آباد کے پاس اسی نالے کو مٹی سے بھر کر پہلے اس کا نام و نشان ختم کیا گیا اور پھر ہموار کی گئی زمین پر بنگلے تعمیر کر دیئے گئے۔ کینٹ سٹیشن سے آنے والا نالہ کلفٹن تک پہنچ کر کسی زمانے میں 50فٹ چوڑا ہو جایا کرتا تھا مگر بعد ازاں اس کے بہائو کو 36انچ قطر کے پائپ میں محدود کر کے نہر خیام کے ساتھ جوڑ دیا گیا ۔ اس کاروائی سے حاصل کی گئی زمیں پر جو ناجائز عمارتیں تعمیر کی گئیں، ان میں ایک مذہبی گروہ کا عبادت خانہ بھی شامل ہے۔ مدینہ کالونی نالے کی چوڑائی کے سنگر چورنگی پر آکر انتہائی کم ہو نے وجہ بھی ناجائز تعمیرات ہیں۔ اورنگی کے سب سے بڑے نالے کے دونوں اطراف ، ناجائز تجاوزات تعمیر ہونے کی وجہ سے یہ نالا ایک چھوٹی سے نالی بن کر رہ گیا ہے۔ دیگر نالوں کی طرح میانوالی نالے کو بھی چھوٹا کر دیا گیا ہے۔ میڈیا اور عدالتوں میں سب سے زیادہ ذکر گجر نالے کا ہوتا ہے۔ ریکارڈ کے مطابق اس نالے کی اصل چوڑائی 250فٹ ہونی چاہیے مگر ناجائز تجاوزات کی وجہ سے اس کی موجودہ چوڑائی صرف 60فٹ ہے۔۔ اس طرح کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد گو کہ کراچی میں نکاسی آب کے راستوں پر موجود تمام رکاوٹیں دور نہیں ہو سکیں مگر جو تجاوزات ہٹائی گئی ہیں ان سے کچھ نہ کچھ بہتری ضرور ہوئی ہے۔
پنجاب میں شدید بارشوں کے دوران اگر نکاسی آب کا مسئلہ لوگوں پر آفت بن کر نازل ہوتا ہے تو اس کی بڑی وجہ بھی ناجائز تعمیرات ہیں۔ پنجابیوں کے ساتھ امتیازی سلوک یہ ہے کہ میڈیا پر ان ناجائز تعمیرات کی کبھی نشاندہی نہیں ہو سکی جن کی وجہ سے عام لوگ نہ صرف بارشوں کے دوران بلکہ عام حالات میں بھی مسائل کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔ اگر کسی کو پنجاب میں نکاسی آب کے لیے قائم نالوں پر ناجائز تعمیرات کی موجود گی پر شک ہے تو وہ لاہور کی سینٹرل ڈرین کو جاکر دیکھ سکتا ہے۔ لاہور کی سینٹرل ڈرین لکشمی چوک سے شروع ہو کر بیڈن روڈ، ہال روڈ ، مال روڈ ، مزنگ روڈ، لٹن روڈ، لیک روڈ اور چوبرجی سے ملحقہ علاقوں سے گزرتی ہوئی گلشن راوی کے قریب میاں میر ڈرین میں گرتی ہے۔ اس ڈرین کے کناروں پر صرف تاجروں اور عام لوگوں نے ہی نہیں بلکہ سرکاری اداروں نے بھی ناجائز تعمیرات کی ہوئی ہیں۔
نکاسی آب کے حوالے سے کچھ گزشتہ تحریروں میں پہلے بھی یہ بتایا جا چکا ہے کہ پوٹھوہار اور وسطی و جنوبی پنجاب میں زمین کی قدرتی ڈھلوان کیونکہ صوبہ سندھ سے بہت زیادہ ہے اس لیے برساتی پانی کا بروقت نکاس نہ ہونا کراچی اور سندھ کی نسبت پنجاب کے لیے زیادہ بڑا مسئلہ سمجھا جانا چاہیے۔ عجیب بات ہے کہ ساحل سمندر پر موجود ہونے کی وجہ سے تقریباً صفر قدرتی ڈھلوان رکھنے والے کراچی میں پانی کا بروقت نکاس نہ ہو نے پر میڈیا پرسنز کی طرف سے جو کچھ سننے کو ملتا ہے ، اس کا عشر عشیر بھی، شمالی پنجاب کے زیادہ ڈھلوان اور وسطی پنجاب کے معتدل ڈھلوان رکھنے شہروں میں بارش کے پانی کا نکاس نہ ہونے پر نظر نہیں آتا۔
ہمارے ملک میں نکاسی آب کے نظام کا بڑا حصہ اب بھی صدیوں سے یہاں موجود قدرتی آبی گزر گاہوں کا مرہون منت ہے۔ ہر قدرتی آبی گزرگاہ کے نکاسی آب کا ایک خاص علاقہ ہوتا ہے جسے کیچمنٹ ایریا (Catchment area)کہتے ہیں۔ تمام قدرتی آبی گذرگاہوں کی قدرتی ڈیزائننگ اس طرح کی ہے کہ جن مقامات کے پانی کے نکاس کے لیے یہ وجود میں آئیں، ان مقامات سے زمین کی ڈھلوان ایک خاص نسبت میں ان آبی گزر گاہوں کے دونوں کناروں تک آتی ہے۔ انگریزوں نے اس خطے میں جو نئی آبادیاں تعمیر کیں انہیں قدرتی آبی گز گاہوں کی قدرتی ڈھلوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اس طرح بنایا کہ اگر عام دنوں میں گھروں کا استعمال شدہ پانی سیوریج اور ڈرینج ، نیٹ ورک کے ذریعے براہ راست نالے میں گرے تو بارش کے موسم میں بھی مکانوں ، گلیوں اور سڑکوں کا پانی، خاص ڈھلوان میں بہتا ہوا خاص مقامات کے ذریعے آبی گزرگاہوں تک آئے۔ انگریزوں کے وضع کردہ تعمیراتی انجینئرنگ کے تمام اصول پس پشت ڈالنے اور تجاوزات کی وجہ سے خاص طور پر پنجاب کے تقریبا ً ہر علاقے میں نکاسی آب کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے مگر ہمارے مین سٹریم میڈیا کے لوگوں کو جو ابتری کراچی اور سندھ میں دکھائی دیتی ہے وہ پنجاب میں نظر نہیں آتی۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس رویے کو سندھ باسیوں یا پنجابیوں میں سے کس کے ساتھ عداوت تصور کیا جائے۔

جواب دیں

Back to top button