جدید ٹیکنالوجی اور مضبوط افواج پاکستان کے محفوظ مستقبل کی ضمانت

جدید ٹیکنالوجی اور مضبوط افواج پاکستان کے محفوظ مستقبل کی ضمانت
اکیسویں صدی میں جنگوں کی نوعیت تیزی سے تبدیل ہوچکی ہے۔ آج مصنوعی ذہانت، خودمختار نظام، سائبر سیکیورٹی، ڈرون ٹیکنالوجی اور الیکٹرانک وارفیئر کسی بھی ملک کی دفاعی حکمتِ عملی کے بنیادی ستون بن چکے ہیں۔ ایسے میں وزیراعظم شہباز شریف کا انڈس روبوٹکس اینڈ آٹونومس سسٹم ایکسپو سے خطاب اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان بھی جدید جنگی تقاضوں کو سمجھتے ہوئے دفاعی خود انحصاری اور ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کررہا ہے۔ وزیراعظم کا یہ کہنا کہ ’’ معرکہ حق‘‘ میں پاکستان کی مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی، خودمختار نظام اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے ملکی سرحدوں کا کامیابی سے دفاع کیا، اس امر کی نشان دہی کرتا ہے کہ قومی سلامتی اب صرف روایتی عسکری قوت تک محدود نہیں رہی بلکہ جدید سائنسی مہارت اور تکنیکی استعداد اس کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر دنیا کی بڑی عسکری طاقتوں نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج نے ہمیشہ وطن عزیز کے دفاع میں پیشہ ورانہ مہارت، نظم و ضبط اور قربانی کی روشن مثالیں قائم کی ہیں۔ چاہے دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو، قدرتی آفات کے دوران عوام کی مدد ہو یا بیرونی خطرات کے مقابلے میں قومی سرحدوں کا تحفظ، افواجِ پاکستان نے ہر موقع پر اپنی ذمے داریاں پوری دیانت داری سے انجام دی ہیں۔ وزیراعظم کی جانب سے یہ اعلان کہ پاکستان میں ڈرونز کی ساٹھ فیصد سے زائد تیاری مقامی سطح پر مکمل کی جاچکی ہے، ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ دفاعی شعبے میں مقامی پیداوار نہ صرف درآمدی انحصار کو کم کرتی ہے بلکہ قیمتی زرمبادلہ کی بچت، مقامی صنعت کی ترقی اور اعلیٰ تربیت یافتہ افرادی قوت کی تیاری میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہی خود انحصاری کسی بھی ملک کو طویل مدت میں مضبوط دفاعی اور معاشی بنیادیں فراہم کرتی ہے۔ دنیا بھر میں حالیہ برسوں کے تنازعات نے یہ ثابت کیا ہے کہ ڈرونز، مصنوعی ذہانت اور سائبر صلاحیتیں جنگی حکمتِ عملی کا لازمی جزو بن چکی ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نگرانی، معلومات کا فوری تجزیہ، درست نشانہ بندی اور خطرات کا بروقت اندازہ لگانا پہلے کی نسبت کہیں زیادہ آسان ہوگیا ہے۔ پاکستان کا اس میدان میں سرمایہ کاری کرنا نہ صرف وقت کی ضرورت ہے بلکہ قومی سلامتی کا تقاضا بھی ہے۔ سائبر سیکیورٹی کی اہمیت بھی پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ آج دشمن صرف سرحدوں پر حملہ نہیں کرتا بلکہ کمپیوٹر نیٹ ورکس، مواصلاتی نظام، مالیاتی اداروں، بجلی کے نظام اور حساس معلومات کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ ایسے حالات میں ایک مضبوط سائبر دفاعی نظام کسی بھی ملک کی سلامتی کا بنیادی تقاضا ہے۔ اگر پاکستان اس شعبے میں مسلسل سرمایہ کاری جاری رکھتا ہے تو وہ مستقبل کے غیر روایتی خطرات کا بہتر انداز میں مقابلہ کر سکے گا۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت، فضائیہ اور بحریہ کی پیشہ ورانہ معاونت کا بھی ذکر کیا۔ پاکستان کی تینوں مسلح افواج کے درمیان موثر ہم آہنگی اور مشترکہ منصوبہ بندی ہمیشہ سے قومی دفاع کی طاقت رہی ہے۔ جدید جنگی ماحول میں یہ باہمی تعاون مزید اہمیت اختیار کرگیا ہے، کیونکہ آج کی جنگ صرف ایک محاذ پر نہیں بلکہ زمین، فضا، سمندر، خلا اور سائبر اسپیس سمیت متعدد میدانوں میں لڑی جاتی ہے۔ یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ دفاعی ٹیکنالوجی میں پیش رفت صرف عسکری فوائد تک محدود نہیں رہتی۔ تحقیق، انجینئرنگ، روبوٹکس، مصنوعی ذہانت اور جدید مینوفیکچرنگ میں ہونے والی سرمایہ کاری سے سول صنعتوں کو بھی فائدہ پہنچتا ہی۔ ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جہاں دفاعی تحقیق نے بعدازاں صحت، زراعت، مواصلات، تعلیم، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداوار میں انقلاب برپا کیا۔ پاکستان بھی اگر دفاعی تحقیق کو جامعات، تحقیقی اداروں اور نجی شعبے سے جوڑ دے تو اس کے مثبت اثرات پوری معیشت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس موقع پر یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ مضبوط دفاع اور جدید ٹیکنالوجی کا مقصد جنگ کو فروغ دینا نہیں بلکہ امن کو یقینی بنانا ہے۔ ایک مضبوط اور باصلاحیت دفاعی نظام کسی بھی ملک کے لیے موثر بازدار قوت (Deterrence)ثابت ہوتا ہے، جو ممکنہ جارحیت کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ قومی سلامتی، اقتصادی ترقی اور سرمایہ کاری کا ماحول بھی اسی وقت مضبوط ہوتا ہے جب ملک کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہو۔ تاہم جدید ٹیکنالوجی میں ترقی کے لیے صرف سرکاری اداروں کی کوششیں کافی نہیں ہوں گی۔ جامعات، انجینئرنگ کے طلبہ، سائنسی تحقیق کے مراکز، نجی صنعت اور نوجوان اختراع کاروں کو بھی قومی ترقی کے اس سفر میں شریک کرنا ہوگا۔ تحقیق و ترقی پر سرمایہ کاری، مقامی اسٹارٹ اپس کی سرپرستی اور نوجوانوں کو جدید مہارتوں کی فراہمی وہ عوامل ہیں جو پاکستان کو ٹیکنالوجی کے میدان میں خود کفیل بنا سکتے ہیں۔ پاکستانی نوجوانوں کو اگر انہیں مناسب تعلیمی مواقع، جدید لیبارٹریاں، تحقیقی وسائل اور عملی میدان فراہم کیے جائیں تو وہ روبوٹکس، مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی اور دفاعی انجینئرنگ سمیت ہر شعبے میں عالمی معیار کی کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔ یہی انسانی سرمایہ پاکستان کا اصل اثاثہ ہے۔ آج کا تقاضا یہی ہے کہ پاکستان اپنی دفاعی صلاحیتوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ٹیکنالوجی، تحقیق اور خود انحصاری کو قومی ترجیح بنائے۔ ایک مضبوط، پیشہ ور اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ دفاعی نظام نہ صرف ملکی خودمختاری کے تحفظ کی ضمانت ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے محفوظ، پُرامن اور باوقار مستقبل کی بھی بنیاد ہے۔ جب ریاست، مسلح افواج، سائنس دان، انجینئرز، جامعات اور نوجوان ایک مشترکہ قومی مقصد کے تحت آگے بڑھتے ہیں تو کوئی چیلنج ناقابلِ عبور نہیں رہتا۔ پاکستان کے پاس صلاحیت بھی ہے، عزم بھی اور وہ انسانی سرمایہ بھی جو اسے جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں مقام دلا سکتا ہے۔ یہی راستہ قومی سلامتی، خودانحصاری اور پائیدار ترقی کی جانب لے جاتا ہے۔
معاشی استحکام کی نوید
پاکستان کی معیشت گزشتہ چند برسوں سے مختلف چیلنجز سے دوچار رہی، تاہم حالیہ معاشی اشاریے اس بات کی نشان دہی کررہے ہیں کہ ملکی معیشت بتدریج استحکام کی جانب گامزن ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025۔26کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کی منتقلی 2.31ارب ڈالر تک پہنچنا اس حقیقت کا مظہر ہے کہ بین الاقوامی کمپنیوں کا پاکستان کی معیشت پر اعتماد برقرار ہے۔ اگر کسی ملک میں کاروباری ماحول غیر یقینی ہو تو سرمایہ کار نہ تو نئی سرمایہ کاری کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے کاروبار کو وسعت دیتے ہیں، لیکن پاکستان میں غیر ملکی کمپنیوں کی مسلسل سرگرمیاں اس کے برعکس مثبت تصویر پیش کر رہی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق مالیاتی شعبہ، توانائی، فوڈ، کمیونیکیشنز اور تمباکو کے شعبے سرمایہ کاری کے اہم مراکز رہے ہیں، جبکہ برطانیہ، چین اور امریکا جیسے ممالک کے سرمایہ کار بھی پاکستان میں کاروباری سرگرمیوں میں دلچسپی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ برطانیہ اور چین کی جانب سے منافع کی نمایاں واپسی اس امر کی غماز ہے کہ ان ممالک کی کمپنیاں پاکستان میں طویل المدتی بنیادوں پر کام کر رہی ہیں۔ یہ پیش رفت اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری صرف سرمایہ ہی نہیں لاتی بلکہ جدید ٹیکنالوجی، انتظامی مہارت، روزگار کے نئے مواقع اور برآمدات میں اضافے کا بھی ذریعہ بنتی ہے۔ یہی عوامل کسی بھی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر سمجھے جاتے ہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری، معاشی اصلاحات اور کاروبار میں آسانیوں نے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط کیا ہے۔ تاہم اس مثبت رجحان کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت معاشی پالیسیوں میں تسلسل، شفافیت اور سرمایہ کار دوست ماحول کو مزید فروغ دے۔ توانائی کی مستحکم فراہمی، ٹیکس نظام میں آسانیاں، قانونی تحفظ اور بیوروکریسی میں اصلاحات ایسے عوامل ہیں جو مزید سرمایہ کاری کو راغب کر سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کا بڑھتا ہوا اعتماد پاکستان کے لیے ایک خوش آئند اشارہ ہے، لیکن اصل کامیابی اسی وقت حاصل ہوگی جب اس اعتماد کو مزید مضبوط بنا کر نئی سرمایہ کاری، صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافے اور روزگار کے وسیع مواقع میں تبدیل کیا جائے۔ اگر معاشی استحکام اور اصلاحات کا یہ سفر اسی تسلسل سے جاری رہا تو پاکستان نہ صرف خطے میں ایک پرکشش سرمایہ کاری کی منزل بن سکتا ہی بلکہ مضبوط اور خود کفیل معیشت کی جانب بھی تیزی سے پیش قدمی کر سکتا ہے۔




