نئی دہلی میں نوجوانوں کا احتجاج

نئی دہلی میں نوجوانوں کا احتجاج
تحریر : رفیع صحرائی
تعلیم، امتحانی نظام، بے روزگاری اور مستقبل کی بے یقینی نے بھارتی نوجوانوں کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کر دیا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرنے والے بھارت میں ان دنوں ایک ایسا احتجاج توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جس نے حکمرانوں کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ نئی دہلی کی سڑکوں پر نکلنے والے نوجوانوں اور طلبہ کا غصہ بظاہر ایک امتحانی بحران سے شروع ہوا، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے اس نے ایک وسیع تر شکل اختیار کر لی۔ اب سوال صرف ایک امتحان کا نہیں، بلکہ نوجوانوں کے مستقبل، تعلیمی نظام کی شفافیت، روزگار کے مواقع، حکومتی جواب دہی اور نظام پر اعتماد کا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بھارت کے میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیے ہونے والے انتہائی اہم امتحان NEETسے متعلق بے ضابطگیوں اور مبینہ پیپر لیک کے معاملے نے لاکھوں طلبہ کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کیا۔ یہ وہ نوجوان ہیں جنہوں نے اپنے تابناک مستقبل کے لیے برسوں محنت کی، اپنے والدین کی امیدوں کا مرکز بنے اور اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ ایک مسابقتی امتحان کی تیاری میں صرف کر دیا۔ لیکن جب مسابقتی امتحان دینے کا وقت آیا تو منظورِ نظر افراد کو نوازنے والے مافیا اور رشوت خور مافیا کے گٹھ جوڑ سے امتحانی پیپرز لیک کر کے وفاداری کو ثابت کرنے اور جیبیں بھرنے کا عمل محنتی نوجوانوں کی راہ کا بھاری پتھر بن گیا۔ اگر امتحانی نظام کی شفافیت پر سوال اٹھ جائے تو اس کے اثرات صرف ایک امتحان یا ایک تعلیمی سال تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے میں بے یقینی پیدا ہوتی ہے۔ یہی بے یقینی آج نئی دہلی میں احتجاج کی صورت اختیار کر چکی ہے۔
اس احتجاج کو ’’ کاکروچ موومنٹ‘‘ یا ’’ کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کے نام سے بھی یاد کیا جا رہا ہے۔ ابتدا میں یہ نام ایک طنزیہ ردعمل کے طور پر سامنے آیا، مگر رفتہ رفتہ یہ نوجوانوں کی مزاحمت اور احتجاج کی علامت بن گیا۔ احتجاج کرنے والے نوجوان صرف امتحانی نظام کی اصلاح کا مطالبہ نہیں کر رہے بلکہ وہ یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ اگر تعلیم یافتہ نوجوانوں کو بھی اپنے مستقبل کے بارے میں یقین نہ ہو تو پھر ملک کی ترقی کا خواب کیسے پورا ہوگا؟
بھارت دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشتوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس نے ٹیکنالوجی، صنعت، خلائی تحقیق اور ڈیجیٹل معیشت میں نمایاں ترقی کی ہے۔ آپ کو بھارتی نوجوان ڈیجیٹل میدان میں نمایاں اور چھائے ہوئے ہوئے نظر آئیں گے۔ لیکن یہ بھی حقیت ہے کہ کسی بھی ملک کی حقیقی ترقی کا پیمانہ صرف بلند شرح نمو یا بڑی عمارتیں نہیں ہوتیں۔ اصل ترقی اس وقت ہوتی ہے جب ملک کا نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں پُرامید ہو، اسے معیاری تعلیم میسر ہو، روزگار کے مناسب مواقع دستیاب ہوں اور اسے یقین ہو کہ میرٹ کی بنیاد پر آگے بڑھنے کا راستہ کھلا ہے۔ یہی انصاف کا راستہ ہے اور اگر آگے بڑھنے کی راہ میں ناانصافی حائل ہو جائے تو نہ ڈرف معاشرتی ترقی کی رفتار میں سستی آ جاتی ہے بلکہ عوام، خصوصاً نوجوانوں میں بھی مستقل اضطرابی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ اگر ایک نوجوان یہ محسوس کرنے لگے کہ اس کی برسوں کی محنت کسی امتحانی بے ضابطگی، پیپر لیک یا ناقص نظام کی نذر ہو سکتی ہے تو اس کا غصہ فطری ہے۔ نئی دہلی کے احتجاج میں یہی غصہ دکھائی دے رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے حکومت سے امتحانی نظام میں بنیادی اصلاحات، شفاف تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ بعض مظاہرین وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔ دوسری طرف بھارتی حکومت کا موقف ہے کہ معاملے کو سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے اور حکومت اصلاحات اور مذاکرات کے لیے تیار ہے۔یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حکومت واقعی اصلاحات کے لیے تیار ہے تو پھر احتجاج کرنے والے نوجوانوں کے ساتھ تصادم کی نوبت کیوں آ رہی ہے؟
رپورٹس کے مطابق مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں اور پولیس کی جانب سے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کے استعمال کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ایسے واقعات کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے تشویش کا باعث ہوتے ہیں۔ حکومتوں کی اصل طاقت صرف پولیس یا انتظامی اختیار نہیں بلکہ عوام کا اعتماد ہوتا ہے۔ خاص طور پر نوجوانوں کے ساتھ معاملہ کرتے وقت طاقت کے بجائے مکالمے، برداشت اور سنجیدگی کی ضرورت ہوتی ہے۔
اگر نوجوان سڑک پر نکل آئے ہیں تو سب سے پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔ جب تک وجوہات کو سمجھ کر انہیں دور کرنے کے اقدامات نہیں کیے جائیں گے تب تک معاملات کا سلجھائو ممکن نہیں ہو گا۔ اس احتجاج کو بھارتی سیاست نے بھی اپنے انداز میں قبول کر لیا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں، خصوصاً کانگریس، اس معاملے کو حکومت پر دبا بڑھانے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ راہول گاندھی اور پریانکا گاندھی سمیت اپوزیشن رہنماں کی احتجاج میں شرکت نے اس معاملے کو مزید سیاسی اہمیت دے دی ہے۔ راہول گاندھی کی گرفتاری نے بھی معاملے کو قومی سطح پر نمایاں کیا ہے۔ گو انہیں تھوڑی دیر بعد رہا کر دیا گیا تھا لیکن ان کی گرفتاری نے احتجاج میں نیا جوش بھر دیا۔
حکومت کے لیے یہ کہنا آسان ہے کہ اپوزیشن سیاسی فائدہ اٹھا رہی ہے، لیکن اس سے بنیادی مسئلہ ختم نہیں ہو جاتا۔ اگر واقعی طلبہ کے تحفظات درست ہیں تو انہیں دور کرنا حکومت ہی کی ذمہ داری ہے۔ اور اگر اپوزیشن اس مسئلے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے تو حکومت کے پاس اس کا بہترین جواب یہی ہے کہ وہ شفاف تحقیقات کرائے، حقائق عوام کے سامنے لائے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرے۔ حکومت نے بوکھلاہٹ اور ہٹ دھرمی سے خود ہی اپوزیشن کو کھلی دعوت دے دی کہ وہ اس احتجاج میں اہم کردار ادا کر سکے۔ جمہوریت میں حکومت کی مضبوطی کا اندازہ اس بات سے نہیں لگایا جاتا کہ اس نے کتنے مظاہرے روک دیے، بلکہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ اس نے عوامی شکایات کتنی سنجیدگی سے سنیں اور انہیں کس حد تک حل کیا۔
نوجوان کسی بھی ملک کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ ان کی توانائی اگر تعلیم، تحقیق، صنعت، کاروبار اور مثبت سرگرمیوں میں استعمال ہو تو قومیں ترقی کرتی ہیں۔ آج کی نوجوان نسل پہلے سے زیادہ باخبر ہے۔ سوشل میڈیا نے اسے معلومات تک فوری رسائی دے دی ہے اب نوجوان صرف حکومت کے بیانات سن کر مطمئن نہیں ہوتا بلکہ سوال کرتا ہے، ثبوت مانگتا ہے اور اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرتا ہے۔
تعلیمی نظام میں شفافیت، امتحانات کا قابلِ اعتماد انتظام، میرٹ کا تحفظ اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع اب محض سیاسی وعدے نہیں رہے بلکہ قومی سلامتی اور سماجی استحکام کے بنیادی تقاضے بن چکے ہیں۔ نئی دہلی کا احتجاج اس حقیقت کی ایک بڑی مثال ہے۔ یہ احتجاج مودی حکومت کے لیے فوری طور پر کسی بڑے سیاسی خطرے میں تبدیل ہوگا یا نہیں، اس بارے میں ابھی حتمی رائے دینا قبل از وقت ہے، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ نوجوانوں کے اندر پیدا ہونے والی بے چینی کو نظرانداز کرنا کسی بھی حکومت کے لیے دانش مندانہ حکمتِ عملی نہیں۔ آج کا احتجاج اگر ایک امتحان سے شروع ہوا ہے تو کل یہ روزگار، مہنگائی، تعلیم اور مستقبل کے وسیع تر مسائل کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔
حکومت اگر دانش مندی کا مظاہرہ کرے، نوجوانوں سے براہِ راست مکالمہ کرے، ان کے تحفظات دور کرے، شفاف تحقیقات کرائے اور امتحانی نظام کو فول پروف بنائے تو یہ بحران ایک موقع میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر احتجاج کو محض سیاسی سازش قرار دے کر اصل مسائل سے صرفِ نظر کیا گیا تو ممکن ہے کہ سڑکوں پر موجود چند ہزار نوجوانوں کی آواز آنے والے دنوں میں لاکھوں نوجوانوں کی آواز بن جائے۔نوجوانوں کو خاموش کرانے کے بجائے ان کی آواز سننا ضروری ہے۔ انہیں لاٹھی نہیں، مواقع چاہئیں؛ وعدے نہیں، میرٹ چاہیے، احتجاج نہیں، باعزت مستقبل چاہیے۔ کیونکہ جس ملک کا نوجوان اپنے مستقبل سے مایوس ہو جائے، وہاں ترقی کے تمام دعوے اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔
رفیع صحرائی






