ColumnQadir Khan

’’ آپریشن بنیان مرصوص‘‘ کا اطلاعاتی محاذ

’’ آپریشن بنیان مرصوص‘‘ کا اطلاعاتی محاذ
قادر خان یوسف زئی
تاریخ کی پیشانی پر مئی 2025ء کے وہ چار دن بھارت کے تاریخ میں کسی ہولناک خواب کی طرح ثبت ہو چکے ہیں، جب جنوبی ایشیا کا جغرافیہ ایک بار پھر بارود کے دھوئیں اور ڈیجیٹل اسکرینوں سے نکلنے والے جھوٹ کے غبار میں لپٹ گیا تھا۔ یہ وہ موڑ تھا جہاں دنیا نے دیکھا کہ جدید جنگ محض سرحدوں پر ٹینکوں کی گھن گرج یا فضاں میں گرجتے طیاروں کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا کثیر الجہتی معرکہ ہے جو انسانی ذہنوں، ٹی وی اسٹوڈیوز اور سوشل میڈیا کے الگورتھم میں لڑا جاتا ہے۔ اس تزویراتی حقیقت کا نوحہ ہے جس نے ثابت کیا کہ سچائی کی قیمت اب کسی بھی ہتھیار سے زیادہ مہنگی ہو چکی ہے۔ 22اپریل 2025ء کو پہلگام میں ہونے والے واقعے کے بعد نئی دہلی نے جس عجلت میں الزام تراشی کا طوفان کھڑا کیا، وہ دراصل ایک ایسی مہم جوئی کا دیباچہ تھا جس کا مقصد عالمی توجہ مشرقِ وسطیٰ کے بحرانوں سے ہٹا کر خطے میں اپنی نام نہاد برتری ثابت کرنا تھا۔ لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا، کیونکہ اس بار مقابلہ محض عددی برتری سے نہیں بلکہ عزمِ مصمم اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار جیسی دفاعی صلاحیت سے تھا۔
نئی دہلی کے ایوانوں میں تیار ہونے والا ’’ آپریشن سندور‘‘ بظاہر ایک فوجی مہم جوئی نظر آتی تھی، لیکن اس کے پیچھے چھپی سوچ بین الاقوامی اصولوں کی دھجیاں اڑانے کی ایک بھونڈی کوشش تھی۔ اس کے جواب میں پاکستان نے جب ’’ آپریشن بنیان مرصوص‘‘ کا آغاز کیا، تو یہ محض ایک عسکری ردعمل نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی قوم کی للکار تھی جو امن کی خواہشمند تو ہے مگر اپنی خود مختاری پر سمجھوتہ کرنے کی عادی نہیں۔ قرآنی استعارہ ’’ بنیان مرصوص‘‘ اپنے اندر وہ قوت رکھتا ہے جو دشمن کے ارادوں کو پگھلانے کے لیے کافی ہے۔ پاکستانی میزائلوں نے جب بھارتی دفاع کی گہرائیوں میں اپنے اہداف کو نشانہ بنانا شروع کیا، تو زمین پر تزویراتی توازن پلک جھپکتے ہی بدل گیا۔ تاہم، اس معرکے کا سب سے بھیانک اور عبرت ناک پہلو وہ اطلاعاتی محاذ تھا جو سرحد کے اس پار بھارتی نیوز چینلز پر بسا ہوا تھا۔ وہاں ایک ایسی خیالی دنیا تخلیق کی جا رہی تھی جہاں حقائق کا گلا گھونٹ کر ’’ بریکنگ نیوز‘‘ کی ہوس میں جھوٹ کے انبار لگائے گئے۔ یہ صحافت کا وہ سیاہ ترین باب ہے جہاں سچائی کو ریٹنگ کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔
بھارتی میڈیا کا رویہ اس بحران میں کسی تماشے سے کم نہ تھا۔ جہاں ایک طرف پاکستانی فوج نے تحمل اور درستی کا مظاہرہ کیا، وہیں دوسری طرف بھارتی نیوز اینکرز جنگی گرافکس کے درمیان بیٹھے ایسی کہانیاں بن رہے تھے جن کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہ تھا۔ رائٹرز انسٹی ٹیوٹ اور بین الاقوامی مبصرین کے لیے یہ ایک حیران کن مطالعہ تھا کہ کس طرح ’’ آرما تھری‘‘ جیسے ٹیکٹیکل شوٹر گیم کی فوٹیج کو ’’ ایکسکلوسیو‘‘ فضائی معرکہ بنا کر پیش کیا گیا۔ روس یوکرین جنگ کے پرانے مناظر اور یہاں تک کہ فلاڈیلفیا میں ہونے والے ایک طیارہ حادثے کی تصاویر کو بھی ’’ بھارتی فضائیہ کی فتح‘‘ کے طور پر دکھایا گیا۔ یہ محض پیشہ ورانہ غفلت نہیں تھی بلکہ یہ دشمن کی سوچ کو مفلوج کرنے کی ایک منظم ’’ انفارمیشن وار‘‘ تھی، جس کا مقصد اپنے ہی عوام کو ایک ایسی فتح کا یقین دلانا تھا جو زمین پر کہیں موجود ہی نہ تھی۔ بھارتی عوام کو یہ باور کرایا جاتا رہا کہ اسلام آباد پر قبضہ ہو چکا ہے، جبکہ حقیقت یہ تھی کہ ان کی اپنی دفاعی لائنیں پاکستانی جواب کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہو رہی تھیں۔
اس پورے بحران میں مصنوعی ذہانت کا جس طرح غلط استعمال کیا گیا، وہ مستقبل کے خطرات کی ایک ہولناک نوید ہے۔ ڈیپ فیک ویڈیوز کے ذریعے پاکستانی قیادت کی شکست کے جھوٹے اعترافات تیار کیے گئے، تاکہ عوامی حوصلوں کو پست کیا جا سکے اور بین الاقوامی برادری کو گمراہ کیا جائے۔ یہاں تک کہ جدید ترین ٹیکنالوجی کے دعویدار اے آئی چیٹ بوٹس، جیسے ’’ گروک‘‘ ، بھی اس منظم جھوٹ کے جال میں پھنس گئے اور کراچی پر قبضے کی افواہوں کو درست قرار دینے لگے۔ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ جب جھوٹ کو منظم طریقے سے ڈیجیٹل اسپیس میں پھیلایا جائے تو مشین اور انسان دونوں ہی اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ لیکن پاکستان نے اس کا جواب سنسر شپ سے نہیں بلکہ شفافیت سے دیا۔ جہاں بھارت نے ’’ دی وائر‘‘ جیسے اپنے ہی اداروں اور بین الاقوامی اخبارات پر پابندیاں لگائیں، ویب سائٹس بلاک کیں اور ہزاروں سوشل میڈیا اکانٹس کو خاموش کرانے کی کوشش کی، وہاں پاکستان نے اطلاعاتی محاذ پر ’’ یومِ معرکہِ حق‘‘ کے ذریعے اپنے بیانیے کو پوری دنیا کے سامنے واضح رکھا۔
یہ چار روزہ تصادم محض ایک سرحدی جھڑپ نہیں تھی بلکہ اس نے جنوبی ایشیا کے سیکیورٹی آرکیٹیکچر کو جڑوں سے ہلا کر رکھ دیا۔ پاکستان نے ثابت کر دیا کہ اس کا دفاع صرف سرحدوں کے پتھروں اور باڑوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ وہ سائبر اسپیس سے لے کر فضائی گہرائیوں تک دشمن کے ہر وار کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس آپریشن نے پاکستانی عوام اور ان کی افواج کے درمیان اس رشتے کو مزید مضبوط کر دیا جسے کمزور کرنے کے لیے دشمن سالوں سے سرمایہ کاری کر رہا تھا۔ سروے رپورٹوں میں 92فیصد عوام کا اپنی افواج پر غیر متزلزل اعتماد اس بات کا ثبوت ہے کہ جب قوم اور فوج ایک پیج پر ہوں تو کوئی بھی ’’ آپریشن سندور‘‘ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کا تزویراتی عزم اور عسکری فضیلت تاریخ کے اس باب میں ایک روشن مثال بن کر ابھری ہے، جس نے ثابت کیا کہ حق کی فتح محض عددی طاقت سے نہیں بلکہ اتحاد اور سچی اطلاعات سے ممکن ہے۔
عالمی قوتوں کی مداخلت کے بعد توپیں تو خاموش ہو گئیں، لیکن مئی 2025ء کا یہ بحران ایک بہت بڑا سوال چھوڑ گیا ہے۔ کیا ہم ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں خبر اب سچائی کا نہیں بلکہ انتہا پسندانہ جذبات اور ہوسِ زر کا نام ہے؟ بھارتی میڈیا کا جنگجو ازم اور اس کا غیر ذمہ دارانہ رویہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔ دوسری طرف پاکستان نے یہ پیغام دے دیا ہے کہ وہ خطے میں امن کا خواہشمند ہے، مگر اس کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔ ’’ آپریشن بنیان مرصوص‘‘ کی کامیابی صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں تھی، بلکہ یہ سکرینوں پر لڑے جانے والے جھوٹ کے خلاف سچ کی فتح تھی۔ تاریخ جب بھی اس دور کا انصاف کرے گی، وہ پاکستان کے دفاعی ردعمل کو ایک ایسی قوم کی کہانی کے طور پر لکھے گی جس نے نہ صرف اپنی سرحدوں کی حفاظت کی بلکہ اپنی اطلاعاتی خود مختاری کا پرچم بھی سرنگوں نہیں ہونے دیا۔

جواب دیں

Back to top button