تازہ ترینخبریںدنیاسیاسیاتپاکستان

فرانس نے امریکا سے سونے کے ذخائر پیرس واپس منتقل کر دیے، عالمی منڈیوں میں تشویش کی لہر

فرانس کے مرکزی بینک ’بینک ڈی فرانس‘ نے امریکا کے شہر نیویارک میں محفوظ اپنے سونے کے آخری ذخائر واپس پیرس منتقل کر دیے، جس کے بعد عالمی مالیاتی حلقوں میں تاریخی خدشات دوبارہ زیرِ بحث آ گئے۔

 

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بینک کے مطابق تقریباً 129 ٹن سونا امریکا سے واپس لایا گیا ہے جبکہ پرانے معیار کی سونے کی اینٹیں ریکارڈ قیمت پر فروخت کر کے یورپ میں جدید عالمی معیار کے مطابق نیا سونا خریدا جا رہا ہے، اس عمل سے مرکزی بینک کو تقریباً 14.76 ارب ڈالرز کا منافع حاصل ہوا ہے۔

 

بینک کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صرف ذخائر کے معیار کو بہتر بنانے اور جدید مالیاتی اصولوں سے ہم آہنگی کے لیے کیا گیا ہے، تاہم ماہرین اسے ماضی کے ایک بڑے مالیاتی بحران کی یاد سے جوڑ رہے ہیں

 

 

رپورٹس کے مطابق 1960ء کی دہائی میں عالمی مالیاتی نظام بریٹن ووڈز کے تحت چل رہا تھا جس میں امریکی ڈالر کو سونے سے منسلک حیثیت حاصل تھی۔

 

اس وقت فرانس کے صدر شارل دے گول نے امریکی مالیاتی پالیسیوں پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا اور 1963ء سے 1966ء کے درمیان بڑی مقدار میں سونا امریکا سے واپس منتقل کیا تھا۔

 

رپورٹس کے مطابق معاشی ماہرین کی رائے ہے کہ اس اقدام نے ڈالر پر دباؤ بڑھایا جس کے بعد 1971ء میں امریکی صدر رچرڈ نکسن نے ڈالر اور سونے کا تعلق ختم کر دیا تھا۔

 

یہ واقعہ بعد میں ‘نکسن شاک‘ کہلایا اور اسی کے بعد دنیا مکمل طور پر کاغذی کرنسیوں کے نظام میں داخل ہو گئی تھی۔

 

اس فیصلے کے بعد سونے کی قیمت 35 ڈالرز فی اونس سے بڑھ کر 1980ء تک 800 ڈالرز سے اوپر پہنچ گئی تھی۔

جواب دیں

Back to top button