تازہ ترینخبریںدنیاسیاسیاتپاکستان

حملوں کی تصاویر پر پابندی اور فوج کی منظوری سے رپورٹنگ, اسرائیل کس طرح تباہی کے منظر چھپا رہا ہے ؟

اسرائیل جنگ کے دوران معلومات کو کنٹرول کرنے کے لیے کئی تہوں والا نظام استعمال کرتا ہے، جس میں فوجی سنسر شپ، قانونی پابندیاں جبکہ ملکی اور غیر ملکی صحافیوں تک رسائی کو محدود کرنا شامل ہے۔

 

تمام فیلڈ رپورٹرز پر لازم ہے کہ قومی سلامتی سے متعلق اپنی سٹوریز نظرِِ ثانی کے لیے فوج کو بھیجیں۔ ملکی میڈیا میں فوجی ہلاکتوں کی رپورٹس میں بھی تاخیر ہو سکتی ہے۔

 

جو چیز سب سے زیادہ قابلِ توجہ ہے وہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے مقامات کی تصاویر یا ویڈیوز کی کمی ہے۔ حساس فوجی تنصیبات کی تصاویر یا ویڈیوز کو نشر کرنا بھی ممنوع ہے۔

 

گذشتہ برس اسرائیل نے غیر ملکی صحافیوں پر بڑے پیمانے نئے ضوابط نافذ کیے تھے، جن کے تحت بین الاقوامی رپورٹرز کو جنگی علاقوں سے رپورٹنگ کرنے کے لیے پہلے سے فوج سے تحریری منظوری لینا پڑتی تھی۔

 

جون 2025 میں اسرائیل اور ایران کے مابین 12 روزہ جنگ کے دوران فلسطینی، اسرائیلی اور غیر ملکی صحافیوں نے پولیس اور یہاں تک کہ شہریوں کی جانب سے میڈیا کے کام میں مداخلت کی شکایت کی۔

 

غزہ جیسے جنگی علاقے میں غیر ملکی صحافیوں کو آزادانہ طور پر کام کرنے کی اجازت نہ دینے پر اسرائیلی حکام کو بارہا تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ فوج بھی صحافیوں کو جو دورے کرواتی ہے، اس میں زمینی صورتحال کا ٹھیک طریقے سے ادراک بھی نہیں ہو پاتا

جواب دیں

Back to top button