
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ آج جنیوا میں امریکی فریق کو پیش کی گئی تجویز ’امریکہ کے ان تمام بہانوں کو، جو ایران کے پُرامن جوہری پروگرام سے متعلق ہیں، دور کر دیے گی۔‘
ارنا کے مطابق اگر وائٹ ہاؤس اس تجویز کو قبول نہ کرے تو یہ ابتدائی بدگمانی کی تصدیق ہوگی کہ امریکہ سفارت کاری میں سنجیدہ نہیں ہے اور ان کی سفارت کاری کی خواہش محض ایک ’نمائش‘ ہے۔
تاحال یہ واضح نہیں ہی کہ ایران کی جانب سے کیا پیشکش کی گئی ہے تاہم اس سے پہلے عمان کی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ بدر بوسعیدی، عمان کے وزیرِ خارجہ، آج ایران کے نقطہ نظر کو امریکی فریق تک پہنچائیں گے۔
عباس عراقچی، ایران کے وزیرِ خارجہ، گذشتہ شب جنیوا پہنچے تاکہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان تیسرے دور کے مذاکرات میں شرکت کریں اور انھوں نے عمانی وزیرِ خارجہ سے ملاقات بھی کی۔
اسی دوران امریکہ کے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے زور دیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اس کے جوہری پروگرام سے آگے کے مسائل پر بھی ہونے چاہیں۔







