Columnمحمد مبشر انوار

اگلا میدان عمل! .. محمد مبشر انوار

محمد مبشر انوار

 

عالمی سطح پر معاملات بہت زیادہ الجھے ہوئے نظر آتے ہیں اور بظاہر ایسا قیاس ہے کہ ایک طرف عالمی طاقتیں براہ راست مد مقابل نظر آتی دکھائی دیتی ہیں تو دوسری طرف یوں لگتا ہے کہ ابھی پراکسی وار چلتی رہے گی اور ایٹمی طاقتوں کا براہ راست ٹاکرا ممکن نہیں۔ البتہ پس پردہ امریکی شرارتیں انتہائی واضح ہیں کہ بطور موجودہ عالمی طاقت ،امریکہ کسی صورت اس سے دستبردار نہیں ہونا چاہتا اور اپنی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے تمام تر حیلے بہانے کر رہا ہے۔ طاقت و اختیار کو قائم رکھنے،دوام دینے کے لیے جو اقدامات ،پس پردہ یا واضح طور پر اٹھائے جاتے ہیں،امریکی حکام وہ تمام تراکیب بروئے کار لا رہے ہیں،میدان خواہ یوکرین کا ہو ، بھارت ہو یا پھرتائیوان،امریکی اپنے حریفوں کو کمزور کرنے کے لیے تمام تر حربے استعمال کر رہا ہے۔ امریکہ عالمی سطح پر واضح طور پر روس کو اپنا حریف کہتا ہے اور روس کو حدوں میں رکھنے کے اقدامات کھلے عام کرتا ہے لیکن درپردہ وہ چین کی بڑھتی ہوئی معاشی حیثیت سے بری طرح خوفزدہ ہے اور ہر صورت چاہتا ہے کہ چین کا اثرورسوخ امریکی دائرہ کار سے باہر نہ ہو سکے۔ قانون قدرت مگر ان خواہشات کے برعکس ہے اور اس کا اطلاق بلاامتیاز ہر اس فرد،گروہ یا قوم پر ہوتا ہے،جو قانون قدرت کے تقاضے پورے کرتی ہے،موجودہ چین نے قانون قدرت کے تقاضے پورے کئے اور اس وقت وہ ایک معاشی قوت کے طورپر اُبھرچکا ہے،جس کے اثرورسوخ کو روکنا فی الوقت امریکی بس سے باہر نظر آتا ہے۔ گو کہ امریکہ ہنوز اپنی سعی لاحاصل میں مصروف عمل ہے اور چاہتا ہے کہ کسی طرح چین کی اس پیش قدمی کو روک لے اوراس مقصد کے لیے امریکی حکام پس پردہ ایسے اقدامات مسلسل کر رہے ہیں کہ چین کی توانائیوں کا رخ موڑا جا سکے،اس کا ایک آسان ترین حل ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ ایسی کسی بھی اُبھرتی ہوئی طاقت کو جنگی مسائل میں الجھا دیا جائے تا کہ اس کی کمر توڑی جا سکے۔اس وقت بھی امریکہ بہادر اپنی اسی فلاسفی پر عمل پیرا ہے کہیں براہ راست تو کہیں بلاواسطہ اپنے مخالفین کے لیے جال بچھائے ہوئے، اپنے مخالفین کو الجھا رہا ہے تا کہ وہ کسی طور بھی اس کے مد مقابل نہ آ سکیں،اس کے بلا شرکت غیرے اقتدار و اختیار کے لیے مسائل پیدا نہ کریں اور امریکہ دنیا بھر میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتا رہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ امریکہ بہادر بھی اس وقت طاقت کے نشے میں چور ایک ابدی حقیقت کو فراموش کر بیٹھا ہے کہ اس فانی دنیا میں عروج فقط ذات باری کو سوا ہے،اس کے علاوہ کرہ ارض پر حاصل شدہ عروج کو اپنے مقررہ وقت کے بعد زوال پذیر ہونا ہے،خواہ اس کے لیے انسان یا قوم کتنے ہی جتن کر لے۔
اس پس منظر میں امریکہ بہادر ایک طرف بلاواسطہ روس سے نبرد آزما ہے اورگذشتہ دو؍تین دہائیوںسے روس کے مسلسل انتباہ کے باوجود امریکہ روس کے پڑوس میں موجود یو کرین کو نیٹو اتحاد کا حصہ بنانے پر مصروف عمل رہا ہے۔ امریکہ کی یہ کوششیں درحقیقت روس کے صبر کو چھلکانے کے شعوری کوششیں رہی ہیں اوراس سے امریکہ کے ہمہ جہتی مقاصد وابستہ رہے ہیں کہ امریکی بذات خود افغانستان میں بری طرح شکست سے دوچار ہوئے ہیں جبکہ اس عرصہ میں روس دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہوتااورخود کو مستحکم کرتا رہا ہے لہٰذا امریکہ کو یہ قطعی منظور نہیں کہ ایک میان میں دو تلواریں سما سکتی ہیں،اس لیے روس کو انگیخت کرکے اسے ایک جنگ میں دھکیل دیا گیا۔ روس کے اس جنگ میں الجھنے کے بعد،بزعم خود امریکہ نے روس پر مختلف پابندیاں عائد کی ،روس کی معاشی حیثیت کو کمزور کرنے کی کوششیں کی لیکن نتیجہ امریکی خواہشات کے بر عکس نکلا اور روس پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر سامنے آ رہا ہے۔علاوہ ازیں! علاقائی اتحاد اور قوتوں بالعموم اور چین کی حمایت نے بالخصوص روس کو بہت زیادہ حوصلہ دیا ہے تو روس کی اپنی معاشی پالیسیوں نے بھی اس کی معیشت کو زمین بوس ہونے کی بجائے تاریخ ساز منافع بخش معیشت بنا دیا ہے۔روس کی زیادہ تر تجارت چونکہ یورپ کے ساتھ رہی ہے اور روس یورپ کو تیل و گیس فروخت کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، پابندیوں کے باعث روس نے تیل و گیس کی قیمتیں کم کی تو دوسری طرف یورپ کی مخالفت پر یورپ کی تیل و گیس جزوی بند کرنے پر یورپ کے بیشتر ممالک کو امریکی پالیسیوں سے الگ بھی کردیا یا کم ازکم شدید اختلافات پیدا کر دئیے۔
چین کی صورتحال بھی کچھ ایسی ہی ہے کہ جیسے روس کے لیے یوکرین کو نیٹو اتحادی بنانا ریڈ لائن عبور کرنا تھا ،بعینہ چین کے لیے تائیوان کے ساتھ پینگیں بڑھانا بھی چین کے لیے ریڈ لائن ہے۔ گزشتہ دو؍تین ہفتوں میں امریکی اعلیٰ حکام کے تائیوان دورے اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ امریکہ کسی نہ کسی طرح چین کو کسی ایسی بڑی جنگ میں الجھانا چاہتا ہے تا کہ نہ صرف چین کی معاشی ترقی کوبریک لگے بلکہ معاشی حیثیت کو زک پہنچائے ۔ امریکی حکام تائیوان کے دورے اس وقت کر رہے ہیں جبکہ امریکی بلکہ اقوام عالم میں تائیوان کو تسلیم کرنے والے فقط گنتی کے چند ممالک ہیں اور دنیا چین کے اصولی مؤقف کی حمایت کرتی ہے کہ تائیوان درحقیقت چین کا حصہ ہے، جس کے لیے چین نہ صرف طویل انتظار کر سکتا ہے بلکہ اگر چین کو فوجی کارروائی بھی کرنا پڑی تو چین فوجی کارروائی سے بھی گریز نہیں کرے گا،لیکن اس کا فیصلہ آخر کار چین کو کرنا ہے۔چین کی پالیسی ہے کہ اگر اسے تائیوان کے حصول میں سو برس بھی انتظار کرنا پڑا ،تو وہ انتظار کرے گا
لیکن اس دوران درپردہ کسی بیرونی سازش ؍ مداخلت؍بے جا حمایت کی اجازت ہرگز نہیں دے گاکہ تائیوان کے حکمرانوں یا عوام کو چین سے دور کیا جائے،اس کا چین ڈٹ کر جواب دے گا۔ یہاں حیرت اس امر کی ہے کہ تائیوان میں امریکی حکام کے مسلسل دوروں کے دوران چین نے پوری شدت کے ساتھ فوجی مشقیں تو کی ہیں،جنگی ماحول تو بنایا ہے لیکن ابھی تک براہ راست کسی بھی جنگی کارروائی سے گریز کیا ہے،کیا اس کے پس پردہ کوئی خوف ہے؟کوئی کمزوری ہے یا مختلف پالیسی ہے؟بظاہر چین نہ تو خوفزدہ دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی وہ جنگی محاذ پر کمزور ہے کہ اس وقت سائبر سکیورٹی و دیگر جنگی ساز و سامان کے حوالے سے چین بڑی قوت اور کسی بھی جارحیت کا مقابلہ بخوبی کر سکتا ہے۔ اس پس منظر میں زیادہ قرین قیاس یہی حقیقت دکھائی دیتی ہے کہ چین انتہائی تحمل اور سکون کے ساتھ امریکی خواہشات کے برعکس اپنی مرضی کا محاذ کھولنا چاہتا ہے جوامریکہ کے لیے حیران کن ہو۔ بظاہر ایسا ممکن نہیں لگتا کہ فوری طور پر جو محاذ چین کھولنا چاہتا ہے ، وہ امریکہ کے لیے حیران کن ہو کیونکہ ایک طرف چین تائیوان کو ،ایک چین کا حصہ سمجھتا ہے تو دوسری طرف چین کا تبت پر بھی یہی دعوی کئی دہائیوں سے ہے اوراس وقت چین کا زیادہ محور تبت کے محاذ پر ہے۔2020سے چین نے اس محاذ پر بھارتی افواج کو تگنی کا ناچ نچا رکھا ہے اور ہزاروں میل کا رقبہ بھارت سے چھین کر چین کا حصہ بنا چکا ہے۔ نہ صرف چین کا حصہ بنا چکا ہے بلکہ یہاں انفراسٹرکچر اور گاؤں کے گاؤں آباد کر چکا ہے،جن کی اہمیت ہمہ جہتی بشمول جنگی اہمیت مسلمہ ہے اور مسلسل پیش قدمی کررہا ہے گو کہ اس حوالے سے بھارت نے چینی فوجی اہلکاروں سے مذاکرات کے کئی دور رکھے ہیں لیکن تما م دور ناکام ثابت ہوئے ہیں کہ چین نے ایک انچ زمین بھی چھوڑنے سے انکار کیا ہے ۔بھارت و امریکہ اکتوبر میں مشترکہ جنگی مشقوں کا منصوبہ بنائے، اترکھنڈ کے بلند ترین مقام (قریباً دس ہزا ر فٹ کی بلندی پر)، کرنے والے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ و بھارت کو یہ اندازہ ہے کہ چین کو تائیوان کے معاملے پر انگیخت کرنے کا منصوبہ کامیاب نہیں ہو گا،لہٰذا وہ چین کی منصوبہ بندی کے مقابل تبت کے محاذ پر بھی صف آراء ہونے کے تیاری میں بھی مصروف ہیں ۔ حالات و واقعات بہر طور اسی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ یوکرائن میں بری طرح ناکام ہونے کے بعد امریکہ بہادر کی کوشش ہے کہ کسی طرح چین کو بھارت کے ساتھ مصروف کیا جائے لیکن بھارت اب تک امریکی خواہشوں پر پورا نہیں اتر سکا اور چین سے مسلسل شکست کھا رہاہے۔بہرطور بھارت و امریکہ کی مجوزہ فوجی مشق،اس امر کی غماز ہے کہ چین کی جانب سے اگلا میدان عمل، امریکی خواہشات کے برعکس، تبت ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button