ColumnNasir Sherazi

دو ٹکے کا نوٹ .. ناصر شیرازی

ناصر شیرازی

 

پاکستان 75برس کا ہوگیا ہے، کہتے ہیں اس کی پیدائش نصف شب کے وقت ہوئی تھی، مہینہ اگست کا تھا، موسم بارشوں اور حبس کا بالکل آج ہی کی طرح کا تھا، اُس زمانے میں اکثر ولادتیں رات کے وقت ہوا کرتی تھیں۔ کوئی ضد کرکے دن میں پیدا ہونے کی کوشش کرتا تو بھی کمرے کے دروازے اور کھڑکیاں بند کرکے کمرے میں اندھیرا کردیا جاتا ، آج کل سب کچھ دن کی روشنی میں ہوتا ہے، بلکہ دن دیہاڑے ہوتا ہے۔ نصف شب کے وقت کئے جانے والے کام بھی چکا چوند روشنی میں ہوتے ہیں، بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خطرے کے پیش نظر متبادل روشنی کے انتظامات قبل از وقت کئے جاتے ہیں۔ پاکستان بہت بڑا تھا یہ مشرق و مغرب میں پھیلا ہوا تھا اب دو ٹکڑے ہوکر نصف رہ گیا ہے مگر یہ آج بھی مجھ سے عمر میں ڈیوڑھا ہے۔ دیکھنے میں طاقت ور لگتا ہے درحقیقت بہت کمزور ہوچکا ہے، اسے اپنے پائوں پر کھڑا ہونے میں دشواری پیش آتی ہے، تیز ہوا کے جھونکے سے اس کے قدم لڑکھڑانے لگتے ہیںسا ل میں کم ازکم دو مرتبہ اسے بے ساکھیوں کی ضرورت پیش آتی ہے جبکہ ہر تین ماہ بعد اسے گلوکوز اور خون کی بوتلیں لگانا پڑتی ہیں۔ لگتا ہے اسے سیاسی و سماجی دیمک نے چاٹ چاٹ کر کھوکھلا کردیا ہے، 75 برس میں اس کی یہ حالت ہوجائے گی کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا۔
میں نے دنیا میں آنکھ کھولی تو پاکستان کو توڑنے کے بعد نیا پاکستان بنایا جارہا تھا، نئے پاکستان کے معمار ذوالفقار علی بھٹو تھے، جب سے اب تک متعدد مرتبہ مختلف سیاسی جماعتوں اور ان کے لیڈروں نے مزید نیا پاکستان بنانے کا عندیہ دیا اور اس پر مہنگا ترین نِکل پالش کرایا جو ہر مرتبہ موسم کی پہلی بارش میں اُتر جاتا جس کے بعد اندر سے عجیب سا پاکستان برآمد ہوتا ،یہ عجیب ہونے کے ساتھ ساتھ بے حد غریب بھی ہوچکا ہے، اب دو وقت کی روٹی کمانے جوگا بھی نہیں، مانگ تانگ کے گذارہ کررہا ہے، ہر نئی خیرات ، زکوۃ یا امداد ملنے پر بھنگڑے ڈالتا نظر آتا ہے، میں نے پرانا پاکستان، قائد اعظم کا بنایا ہوا اصلی پاکستان نہیں دیکھا، میرے بزرگوں نے دیکھا ہے، وہ آج بھی اس کے گن گاتے نہیں تھکتے، میں حیرت سے ان کامنہ تکتا رہتا ہوں۔ وہ بتاتے ہیں قائد اعظم کے پاکستان میں ایک روپئے میں چونسٹھ پیسے ہوتے تھے، گول شکل کا پیسہ پیتل کا ہوتا تھا، اس کا سائز آج کل کی اٹھنی کے برابر تھا جبکہ رعب داب اور قوت خرید آج کل کی اٹھنی سے زیادہ تھی۔ اس پیسے میں وہ اعلیٰ درجے کی ٹافی یا چاکلیٹ مل جاتی تھی جو اٹھنی چھوڑئیے ایک روپئے میں بھی نہیں ملتی، پیتل کے ایک پیسے کے علاوہ تانبے کا گولہ پیسہ بھی ہوا کرتا تھا لیکن اس کے وسط میں چھید تھا بالکل ایسے جیسے ہماری جھولی میں سو نہیں ہزار چھید ہیں، ہم
سارا سال دنیا بھر سے مانگتے رہتے ہیں لیکن ہماری جھولی نہیں بھرتی ۔ 72 پیسوں کا ایک ٹکا تھا، گول مگر کناروں والی اِکنی چار پیسوں سے مل کر بنتی تھی۔ دو اکنیاں ملانے سے اس کی قوت دوگنا ہوجاتی اسے دونی کہتے تھے، یہ چوکور شکل کی تھی، اسی طرح چونی، اٹھنی اور گول روپیہ تھا، یہ سب چاندی سے بنائے جاتے تھے۔
اکٹھے سو روپئے دیکھنے والا یا کمانے والا خوش قسمت سمجھا جاتا تھا، زمین پر لاکھ روپئے کا ڈھیر خاصا بلند ہوتا، مثل مشہور ہوئی کہ لاکھ روپئے کی ڈھیری کی چھائوں میں کتا بیٹھتا تھا اور سورج کی تمازت سے محفوظ رہتا تھا پھر وہ وقت آیا کہ کتا خود لاکھ روپئے کا ہوگیا اب تو بات حد سے گذر گئی ہے، کروڑوں پر کتا بیٹھا نظر آتا ہے، کروڑوں کی تعداد شمار سے باہر ہوجائے تو ان کی حفاظت کے لیے ، رکھوالی کے لیے کئی کتے رکھنے پڑتے ہیں، کبھی کبھار کتے چوروں سے دوستی کرلیتے ہیں، چور گھروں کاصفایا کرجاتے ہیں پھر چور کا پتا لگانے کے لیے پولیس کتے لیکر آجاتی ہے یوں اچھا بھلا انسان کتوں کا محتاج ہوکر ان کے پیچھے پیچھے چلنے لگتا ہے۔جہاں کتے زیادہ ہوجائیں اُسے کت خانہ کہتے ہیں۔ میرے محبوب قائد ، قائد اعظم محمد علی جناح کا پاکستان پہلے دولخت کیاگیا اب اسے کت خانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
قائد اعظم کے پاکستان میں مزدور کی دیہاڑی دونی سے شروع ہوئی جس میں وہ دو وقت کی روٹی
کھالیتا تھا، روٹی دونی کی ہوئی تو اس کے ساتھ دال مفت میں ملتی تھی، مزدور کا دن چونی میں گذر جاتا تھا، آٹا اور دال دونوں خالص و غذائیت سے بھرپور تھے، دال روٹی کھانے والے مزدور کے چہرے پر وہ قدرتی لالی نظر آتی تھی جو آج بناسپتی نوجوان کے چہرے پر میک اپ کے بعد بھی نظر نہیں آتی، کلرک کی تنخواہ بیس روپئے سے شروع ہوتی تھی، افسر کو سو روپئے نہ ملتے تھے مگر دونوں اس میں بیوی بچوں اور والدین کا پیٹ پالتے تھے، اینٹ، ریت، بجری، سریا مٹی کے مول ملتے تھے۔ دو چار ہزار میں سر چھپانے کا ٹھکانہ اور پانچ ہزار سے سات ہزار میں معقول گھر بن جاتا تھا، گائوں بھر میں ایک سنار ، چھوٹے شہر میں چار پانچ ہوتے تھے، سونے کے خریدار بہت کم تھے، یہ فقط بیس پچیس روپئے تولہ تھا، اکثر گھروں میں بھینس، گائے یا بکری پالی جاتی تھی جودودھ کی ضروریات پوری کرنے کے بعد اپنا خرچ بھی خود نکالتی، ضرورت مند کو دودھ کا گلاس بلاقیمت دینے کا رواج تھا، قیمت پوچھی جاتی تو جواب ملتا دودھ اور پوت برائے فروخت نہیں ہوتے ، بن مول ہوتے ہیں، آج دونوں کا ریٹ آسمان سے باتیں کررہا ہے، دونوں میں ملاوٹ ہے، خالص خال خال ہی ملتا ہے، جسے مل جائے وہ اپنی قسمت پر ناز کرتا ہے اور اس میں حق بجانب ہے۔
گائوں یا محلے کی بیٹی ہر گھر کی بیٹی سمجھی جاتی تھی، اس کی شادی کے مہمانوں کی میزبانی کے لیے ہر کوئی چشم براہ ہوتا تھا، صبح جلد بیدار ہونا، غروب آفتاب سے قبل گھروں کو لوٹ آنا، صحت و تندرستی اور شرافت کی نشانی سمجھی جاتی تھی، منہ اندھیرے گھر واپسی آوارگی کی سند کا درجہ رکھتی تھی، آج وقت بدل گیا ہے، دیر گئے گھر آنے پر سجنی سے کوئی بہانہ نہیں کرنا پڑتا، سجنی خوب جانتی ہے سجن کہاں سے آرہا ہے، بعض گھرانوں میںتو سجنی خود سر شام بن سنور کر نکلتی ہے، اکثر دیر گئے گھر آتی ہے، اُسے رات کہیں اور دوستوںکے ساتھ بسر کرنے میں بھی کوئی عار نہیںہوتا، ایسے گھرانوں سے تعلق رکھنے والے سجن بھی خوب جانتے ہیں کہ اُن کی سجنی جہاںبھی گئی ہے لوٹے گی تو اس کے پاس ہی آئے گی کیونکہ دونوں ایک خاص سمجھوتے کے تحت زندگی گذارنے کا وعدہ نبھاتے ہیں۔
والدین بیٹی کی صفات گنواتے تو کہتے کہ یہ امور خانہ داری میں ماہر ہے، کوئی اس کے ساتھ کا کھانا کھالے تو انگلیاں چاٹتا رہ جاتا ہے، یہ سلائی اور کڑھائی میں بھی ماہر ہے، آج بیٹی کی خوبیوں میں سرفہرست بتایا جاتا ہے کہ اِسے تو انڈا بنانا بھی نہیں آتا،جسے انڈا بنانا تک نہ آتا ہو وہ شوہر کو الو بنانے میں ماہر ہوتی ہے، کچھ شوہر شکل کے الو ہوتے ہیں کچھ عقل کے الو، دونوں کی زندگی اس وقت تک خوشگوار رہتی ہے جب تک وہ مکمل الو بنے رہیں، انہیں کوئی احساس دلادے کہ انہیں الو بنایا جارہا ہے یا وہ تودرحقیقت شیر ہیں، بس ٹھیک اسی لمحے ان کا زوال شروع ہوجاتا ہے، انہیں الو بنانے والے اپنے پالتو الوکو سرکس کا شیر بنادیتے ہیں۔ حکومت پاکستان نے 75 سال بعد 75 روپے کا نوٹ جاری کیا ہے، قائد اعظم کے پاکستان میں دو ٹکے کی قدر اس سے بھی زیادہ تھی، معلوم نہیں حکومت کو اس کا مشورہ کسی الو نے دیا ہے یا سرکس کے شیر نے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button