Welcome to JEHANPAKISTAN   Click to listen highlighted text! Welcome to JEHANPAKISTAN
ColumnNasir Naqvi

فرشتہ میرا معیار نہیں .. ناصر نقوی

ناصر نقوی

 

اس دنیا کو امتحان گاہ سمجھنے اور کلمہ حق پڑھنے کے باوجود ’ہم اور آپ جیسے آدم زادوں کی تمام تر توقعات حضرت انسان سے ہی وابستہ ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ’’آدمی کو میسر نہیں انساں ہونا‘‘اس کی وجہ سیدھی سادی ہے کہ لاشریک کا حکم یہی ہے کہ ایک دوسرے کی فکر کرو، خلق خدا میں ہی ’’خدائی پنہاں‘‘ ، پھر آقائے دوجہاں نے بھی یہی سمجھایا اورفرمایا بلکہ تاکید کی کہ دوسروں کے لیے بھی وہی پسند کرو جو تمہیں اپنے لیے پسند ہے، لیکن دنیا کی رنگینیوں میں حضرت انسان ایسے بدمست ہوئے کہ سب کچھ بھول گئے۔ اس بات کا بھی گلہ کسی سے نہیں کیا جا سکتا اس لیے کہ سب کے پاس ایک نہیں، ہزار تاویلیں موجود ہیں۔ پہلی دلیل یہ ہے کہ انسان کا مددگار انسان ہی ہوتا ہے۔ وہ مانگتا مالک حقیقی سے ہے پھر بھی امیدیں انسانوں سے رکھتا ہے کیونکہ اشرف المخلوقات ہونے کے باعث اسے فخر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی نہ کسی کو تو وسیلہ بنانا ہے خود تو وہ آنے سے رہا، حالانکہ وہ سب جگہ موجود ہے اور انسانی حرکتوں پر یقیناً اُس کی نظر ہے، کہ آدم زادے اپنے آپ کو غلطی کا پتلا قرار دے کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں اور دوسروں سے فرشتوں کی صفات کے متمنی ہیں، کیوں؟ ان توقعات پر پورا اترنے کے لیے ہمیں بھی تو ویسی ہی صفات پیدا کرنی ہوں گی وہ ہم اس لیے نہیں کر سکتے کہ ہم آدم زادے ہیں۔

پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیوں ؟ ایک سے زیادہ مرتبہ کیوں؟ کون اور کسی طرح کسی سے بھی کہہ دیں تو وہ آگ بگولا ہو جائے گا۔ سب کچھ بالائے طاق رکھ کر لڑائی جھگڑے پر آمادہ ہو جائے گا اس لیے کہ جہاں دلیل نہیں ہوتی وہاں فساد ہوتا ہے۔ زور صرف اس بات پر ہو گا کہ ہم انسان ہیں ہماری تمام تر توقعات بھی انہی سے ہیں اس لیے کہ انسانوں کی دنیا میںبستے ہیں نہ فرشتے ہیں نہ ہی فرشتوں سے امیدیںوابستہ رکھتے ہیں کیونکہ ’’فرشتہ میرا معیار نہیں‘‘۔ اب اگر کوئی یہ پوچھ لے کہ جب فرشتہ معیار نہیں تو آدم زادوں سے فرشتوں جیسی توقعات کیوں رکھتے ہو؟ جواب ملے گا ’’بندہ بشر‘‘ انہیں بھی فرشتہ ہی سمجھتا ہے جو دوسروں کے کام آتے ہیں کیونکہ ہے زندگی کا مقصد اور وں کے کام آنا ، اب پوچھئے کہ اوروں میںتو ہم بھی آتے ہیں؟سوال مکمل ہونے سے پہلے جواب ملے گا آپ صاحب ثروت ہیں آپ قابل استعداد ہونے کی وجہ سے لوگوں کے کام آسکتے ہیں ہم کیا ہماری اوقات کیا؟ بس یہی سوچ ہے کہ جب تک سر پر نہ پڑے ہم اور آپ اپنی خداداد صلاحیتوں کو پوشیدہ رکھ کر دوسروں سے امیدیں وابستہ کر لیتے ہیں۔

بطور پاکستانی ہم سب نے بدترین دہشت گردی کا مقابلہ کیا اور چھپے دشمنوں کو اپنی سرحدوں سے نکال باہر کیا، زلزلہ اور سیلاب جیسے طوفانوں سے ٹکرائے اورزندگی کی روانی بحال رکھی، یعنی’’ہمت مرداں مددِ خدا‘‘ پھر بھی ہر مسئلے کا حل نکالنے کے لیے حکومت سے امیدیں رکھتے ہیں۔ دل و دماغ یہ سوال کرتا ہے کہ اس دھرتی ماں کے لیے ہم خود کچھ کیوں نہیں کر سکتے جس کے لیے ہمارے بزرگوں نے جانوں کے نذرانے دئیے تھے ، کیا وہ انسان نہیں تھے؟ یا کہ اُن کے مسائل آدم زادوں والے نہیں تھے سب کچھ ایسا ہی تھا بلکہ آج کے بدترین معاشی بحران سے ٹکرا کر بھی آزاد فضاء کی بدولت جیسی زندگی گزار رہے ہیں۔ اس طرح کی نہ اُن کی زندگی تھی اور نہ ہی سہولیات، پھر بھی جذبہ آزادی اور صالح قیادت نے تمام مشکلات آسان کر دیں۔ اب جذبے صادق نہیں، لیکن ’’صادق اور امین‘‘ کے سند یافتہ دوسروں کو ’’میر صادق اور میر جعفر‘‘ قرار دے رہے ہیں

حالانکہ فرنگیوں سے لڑائی اور آزادی کے حصول میں بابائے قوم حضرت قائداعظم محمد علی جناح اور ان کے رفقاء نے شدید ترین مخالفین اور کافر اعظم کا نعرہ بلند کرنے والوں کو بھی ’’غدار‘‘ نہیں کہا، اُن کی جدوجہد اور عزم پختہ تھا اور یقین محکم سے منزل کا بھی ادراک تھا لہٰذا فتح یقینی تھی اور دنیا نے دیکھا کہ صالح اور خداداد صلاحیتوں کے مالک ’’مسٹر جناح‘‘ نے برصغیر کے مسلمانوں کا مقدمہ لڑا ہی نہیں جیتا بھی۔ تاہم گاندھی اور ہندو بنیا کی مکاری اس وقت بھی ایسی تھی جس میں ازلی دشمن بھارت سو گنا اضافہ کرنے کے بعد بھی اپنے مقاصد کا حصول حاصل نہیں کر پایا، لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آزادی کا مقصد خطے کے لوگوں کی ترقی و خوشحالی اور آزادی سے اپنے رسم و رواج کی ادائیگی تھا لیکن دلچسپ صورت حال یہ ہے کہ بھارت میں رسم و رواج اور انسانی حقوق آج بھی پامال ہو رہے ہیں۔

کشمیریوں اور اقلیتوں کے ساتھ رواں سلوک پہلے سے زیادہ قابل مذمت ہے تو پاکستان میں اقتدار کا ہما چند خاندانوں کے پنجرے میں قید ہے اس لیے کہ فرشتہ میرا معیار نہیں اور انسان غلطی کا پتلا ہے۔ ہر صاحبِ اقتدار رخصت ہونے والوں کے عیب گنوا کر سچا ثابت ہوئے کی کوشش کرتا ہے اور یہ کہانی حد سے آگے بڑھتی ہے تو ’’السلام علیکم ‘‘عزیز ہم وطنوں‘‘ کا پیغام مقدر بنتا رہاپھر بھی ہم نے کچھ نہیں سیکھا اس لیے کہ ’’آدمی کو میسر نہیں انساں ہونا‘‘۔

کوئی نہیں جانتا کہ ہم آدمی سے انسان کب بنیں گے؟ ہمارے وسائل گھٹتے ،مسائل بڑھتے جا رہے ہیں، مہنگائی اور بے روزگاری نے اس عوام کا جینا محال کر دیا جس کے بڑوں نے آزاد فضاء اور سکھ کا سانس لینے کے لیے مال و جان کی قربانی دی تھی۔کہتے ہیں ’’جیسی روح ویسے فرشتے‘‘ اس لیے ہم جیسے ہی ہمارے حکمران ہیں صادق و امین کا پیکر نادان دوستوں کے نرغے سے نہیں نکل سکا، حکومت سے نکل گیا، اب اپنی سلیکشن کو بھی جرم دار قرار دے رہا ہے لیکن کسی کی سلیکشن کو اپنی کابینہ اور ذمہ داروں کی سلیکشن کو، بقول صادق اور امین ،غیر جانبدار اپنی ہٹ دھرمی چھوڑیں اپنا کردار ادا کریں۔ یہ اپیل انہیں غیر جانبداروں سے ہے جنہیں حضرت خان اعظم ماضی قریب میں جانور قرار دے چکے ہیں انہیں احساس نہیں کہ ظالم وقت کا پہیہ اب اُلٹا چل پڑا ہے، چور ڈاکو مسند اقتدار پر براجمان ہیں اور آپ 15مقدمات میں ضمانت کرانے پر مجبور ہو چکے ہیں تاہم ان کی ’’خام خیالی‘‘ ہے کہ جن ساتھیوں نے وفاداری بدلی، منحرف ہوئے ان کی نشستیں وہ دوبارہ جیت لیں گے حالانکہ وہ اس بات سے واقف ہیں کہ ضمنی الیکشن میں کامیابیوں کے چانس حکومت کے زیادہ ہوتے ہیں میرا خیال ہے ان کے ذہن میں بھی یہی بات ہو گی کہ آدم زادوں کی دنیا میں آدمی ہی الیکشن لڑتے ہیں

لہٰذا فرشتہ کسی کا معیار ہرگز نہیں ہو گا جبکہ صاحب اقتدار اس گھمنڈ میں ہیں کہ پنجاب ہمارا، لاہور مسلم لیگ نون کا قلعہ، لہٰذا کامیابی یقینی ہے۔ انہیں بھی ا س بات کی فکر نہیں کہ مہنگائی ختم کرنے کا دعویٰ کرنے والوں کو مہنگائی میں اضافے کے بعد کیسے ووٹ ملیں گے۔ حکومت جانتی ہے کہ اگر ضمنی الیکشن میں کامیابی نہ ملی تو پھر’اقتدار سے دوری اختیار کرنی پڑے گی لیکن سو فیصد انہیں بھی یہی یقین ہو گا کہ آدم زادوں کی دنیا میں ’’فرشتہ کسی کا معیار ‘‘ نہیں ہو سکتا ۔ عوام مجبوراً ان ہی آدمیوں سے انتخاب کرلے گی اور ہم ثابت کریں گے کہ بُرے معاشی حالات میں بھی ہم نے غریبوں سے متعلق اچھے فیصلے کئے، مستقبل میں مزید ایسا کریں گے ااور مہنگائی سے چھٹکارا دلائیں گے۔

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے مہنگائی کے حل کے حوالے سے ازلی دشمن بھارت سے تجارتی سرحدیں کھولنے کی تجویز دی ہے بظاہر یہ مشکل عمل ہے کیونکہ کشمیر اور کشمیریوںکے حوالے سے پاکستان اپنا مضبوط مؤقف رکھتا ہے لیکن ان کا دعویٰ ہے کہ اگر عوامی جمہوریہ چین سے شدید اختلافات کے باوجود بھارت اپنی عوامی خوشحالی کے لیے چین سے تجارتی راہ و رسم قائم رکھ سکتا ہے تو ہمیں اجتماعی مفاد میں ایسا کرنے میں کیوں مشکلات کا سامنا ہے۔ یقیناً ایسا کرنا فوری طور پر ممکن نہیں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ بھارتی مال متحدہ عرب امارات کی طرف سے پاکستان پہنچ کر مہنگے داموں فروخت ہو رہا ہے اگر یہ سلسلہ شروع ہو جائے تو اپنی سرحدوں سے آنے والا بھارتی مال مہنگائی میں کمی کر سکتا ہے ۔ تاہم ایسا جب ہی ہو سکتا ہے جب پارلیمنٹ میں اس اہم مسئلے کو زیر بحث لا کر مشترکہ مفاد کا کوئی فیصلہ ہو سکے، لیکن ہمارے نمائندے جمہوریت، جمہوری اقدار اور جمہور کا دم بھرنے والے بغیر ذاتی اور پارٹی مفادات کے پارلیمنٹ میں جانے کے روادار نہیں، نہ ہی یہ عوامی نمائندے منتخب ہونے کے بعد ’’جمہور‘‘ سے ملنے کے عادی ہیں۔ پھر مسئلہ کیسے حل ہو گا؟ یقیناً یہ حکومتی ذمہ داری ہے کہ مہنگائی کا ازالہ کر کے عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے بھی کچھ سخت فیصلے کرے جبکہ پارلیمانی تاریخ کے اس کھیل تماشے میں یہ روایات پرانی ہیں۔ آج منتخب لوگوں تک رسائی حاصل نہیں ، کیونکہ ’’اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا‘‘ لیکن یہ گلہ شکوہ ہمیشہ سے ہے اس لیے کہ ’’فرشتہ ہمارا معیار نہیں‘‘ اور ’’آدمی کو میسر نہیں انساں ہونا‘‘ پھر بات کیسے بنے گی ؟ اس سلسلے میں برسوں پہلے احمد ندیم قاسمی فرما گئے ہیں:

میں نے بھیجا تجھے ایوان حکومت میں مگر
اب تو برسوں تیرا دیدار نہیں ہو سکتا
میں کسی شخص سے بیزار نہیں ہو سکتا
ایک ذرہ بھی تو بیکار نہیں ہو سکتا
اس قدر پیار ہے انساں کی خطائوں سے مجھے
کہ فرشتہ میرا معیار نہیں ہو سکتا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Click to listen highlighted text!