تازہ ترینخبریںپاکستان سے

وزیرِ اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی حلف برداری، عدالت نے سوالات اٹھا دیئے

عدالت میں وزیراعلیٰ پنجاب کی حلف برداری کیخلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی، کیا عدالت کسی کو حلف کے لیے مقرر کر سکتی ہے یا نہیں ۔عدالت نے حمزہ شہباز کے وکیل سے معاونت طلب کر لی۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس صداقت علی خان کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے اپیلوں پر سماعت کی، عدالت نے ریمارکس دیے کہ موسم گرما کی تعطیل سے پہلے اپیلوں پر سماعت مکمل کرنا چاہتے ہیں، حمزہ شہباز کے وکیل دلاٸل مکمل کرلیں۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ایک خط سے بظاہر بحران شروع ہوا سابق ایڈووکیٹ جنرل احمد اویس نے بتایا کہ انہوں نے ایک غیرمعمولی صورت حال میں گورنر کو مشورہ دیا اور آئینی پوزیشن بتائی تھی ۔

تحریک انصاف کے وکیل امتیاز رشید صدیقی نے بتایا کہ گورنر نے حلف لینے سے انکار نہیں کیا بلکہ انتخاب میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی، اس وقت گورنر راج بھی لگایا جا سکتا تھا۔

حمزہ شہباز کے وکیل نے کہا کہ گورنر منتخب وزیراعلیٰ کو حلف کے لیے بلانے کا پابند ہے، گورنر کے پاس انتخاب کی قانونی حیثیت جانچنے کا اختیار نہیں ہے۔

اگر گورنر کی رائے میں یہ الیکشن ٹھیک نہیں ہوا تب بھی وہ حلف لیں گے، اگر منحرف رکن کا ووٹ شمار نہ ہو تب بھی گورنر حلف لینے کا پابند تھا۔

تحریک انصاف کے وکیل نے حمزہ شہباز کے وکیل کے دلاٸل کے دوران بولنے کی کوشش کی جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا، عدالت نے اپیلوں پر سماعت 28 جون تک ملتوی کرتے ہوٸے حمزہ شہباز کے وکیل کو مزید دلاٸل کے لیے طلب کر لیا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button