ColumnNasir Sherazi

چاند گرہن کے بعد سورج گرہن  … ناصر شیرازی 

ناصر شیرازی
الشمس والقمر بحسبان
سورج اور چاند ایک حساب کے پابند ہیں، بے شک یہ سب کچھ خالق ّ کائنات کی مرضی سے ہوتا ہے، اُس کے حکم کے بغیر ایک پتا بھی نہیں ہل سکتا، سورج، چاند، زمین کا ایک دوسرے کے سامنے یا درمیان میں آنا بھی اسی حساب کا حصہ ہے، چاند گرہن اور سورج گرہن نظام شمسی کے نصاب کا ایک باب ہیں، ماہ مئی کے وسط میں ایک روز چاند، زمین کے بہت قریب تھا، نصف سے زائد دنیا نے چاند گرہن کا نظارہ کیا، چاند معمول سے قدرے بڑا نظر آیا، اِس بار چاند گرہن کو سپربلڈ مون کا نام دیاگیا، چاند کی رو پہلی روشنی میں کچھ سرخی بھی تھی۔
یہ خطہ جہاں ہم رہتے ہیں، یہاں چاند و سورج گرہن کے حوالے سے مختلف کہانیاں مشہور ہیں، جن میں ایک یہ بھی ہے کہ گرہن کے اثرات انسانوں پر ہونے کے ساتھ ساتھ حکومتوں پر بھی ہوتے ہیں، ان کہانیوں کی کوئی سائنسی توجیح سامنے نہیں آئی لیکن ان پر اعتقاد و یقین رکھنے والے بڑی تعداد میں موجود ہیں، ایک مکتبہ فکر روزِ جمعہ کو ہونے والے دو خطبات، خطبہ عید و خطبہ جمعہ کو حکومت کے لیے بھاری قرار دیتا ہے، بعض حکومتیں اسی تصور کی اسیر نظر آئیں، رواں ماہ چاند زمین کے بہت قریب آگیا تھا لیکن مقتدر حلقے سیاسی چاند سے بہت دور چلے گئے، کچھ لوگ اسے بھی چاند گرہن کا اثر ہی قرار دے رہے ہیں جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ سیاسی چاند کا اپنا کیا دھرا ہے، اُس نے جو چار سال تک بویا وہ اُسے شاید آٹھ سال تک کاٹنا پڑے گا، چاند اس بات پر تیار نظر نہیں آتا لیکن اسے اِس پر آمادہ ہونا پڑے گا۔ وہ جلد لانگ مارچ کا اعلان کرنا چاہتا تھا لیکن گھر میں
موجود شخصیات نے مشورہ دیا کہ ذرا ٹھہر جائو، چاند گرہن کے اثرات ختم ہونے دو، پس جب انہوں نے دیکھا کہ گرہن کے مضر اثرات ختم ہوگئے ہیں، تو لانگ مارچ کی تاریخ کے اعلان کی اجازت دے دی گئی، انہوں نے ہی خبر دی ہے کہ تمہیں جان کاکوئی خطرہ نہیں، کوئی تمہارا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا لہٰذا اسی خوشخبری کی روشنی میں یہ سیاسی بیان جاری کیاگیا ہے کہ میری جان کو کوئی خطرہ نہیں، اِس سے قبل خدشات ظاہر کیے گئے تھے کہ جان شدید خطرے میں ہے بلکہ جان لینے کے طریقہ کار کے بارے میں بھی واضح کیاگیا کہ سلو پوائزنگ ہوگی، گویا بتایاگیا اور سمجھایا جاگیا کہ جان لینے کی اس طرح کوشش کی جائے گی جیسے فلسطین رہنما یاسر عرفات کی جان لینے کے بارے میں ایک رپورٹ منظر عام پر عرصہ دراز قبل سامنے آئی تھی،
یاد رہے زہر تو گھر والے ہی دیتے ہیں، چاند گرہن کے مضر اثرات سے بچنے کے لیے جب یقین ہوگیا کہ گھر میں موجود ماہر فلکیات و نجوم کا حساب ماضی میں کبھی غلط ثابت نہیں ہوا تو آئندہ بھی درست ہوگا، پس اس کی روشنی میں
کہاگیا کہ اگر مجھے اپنی زندگی کی کوئی فکر نہیں تو آپ کو بھی اپنی زندگی کی کوئی فکر نہیں ہونی چاہئے، لہٰذا بے خوف ہوکر باہر نکلو اور آزادی مارچ میں شامل ہوجائو، ان کے خیال میں غزنوی کا دوسرا حملہ بھی کامیاب ہوگا، تحریک انصاف کے سربراہ کو ازدواجی ہدایت نامے کے مطابق شاید اپنی فکر نہ ہو لیکن مجھے ان کی اور ان کے مارچ و دھرنے میں شریک ہر مردو زن کی جان کی فکر ہے، کاش وہ ادراک کرسکیں کہ پاکستان دشمنوں کے لیے کسی بھی پاکستانی جان کی کوئی اہمیت نہیں، وہ کسی بھی وقت کسی کی بھی جان لینے کی منصوبہ بندی کرسکتے ہیں،
بالخصوص اگر کسی کی جان بچانے سے وہ ملک انتشار کا شکار ہوتا ہے تو کوئی ایسی جان لینے سے دریغ نہیں کریں گے کہ جان تو وہ لیں لیکن الزام کسی اور پر آئے، یوں ایک تیر سے دو شکار کرنا پاکستان دشمنوں کا پرانا طریق ہے، وزیراعظم لیاقت علی خان، بینظیر بھٹو، انور السادات، جان ایف کینڈی، مارٹن لوتھر کنگ، صدام حسین، کرنل قذافی، شاہ فیصل اور اہم ملکوں سے تعلق رکھنے والے اہم لیڈروں کی جان لینے کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے گئے، بعض کی جان لینے کے لیے تو بہت پہلے منصوبہ بندی کی گئی اور حالات کو ایک خاص موڑ تک پہنچایاگیا، عقل حیران رہ جاتی ہے کہ مذکورہ شخصیات کو اُن کے ماتحت اداروں نے قبل ازوقت بتایا کہ اُن کی جان لینے اور انہیں ہمیشہ کے لیے راستے سے ہٹانے کی منصوبہ بندی کہیں ہوچکی ہے، اس حوالے سے جب بھی کسی شخصیت کو رپورٹ پیش کی گئی تو اس نے بہادری کا مظاہرہ کرکے اپنے آس پاس موجود وزیروں اور مشیروں پر دھاک بٹھانے کے لیے ایسی رپورٹس کو مسترد کیا اور کہا کہ انہیں کسی سے کوئی خطرہ نہیں، وہ اپنے لوگوں کے دلوں میں بستے ہیں،
تحقیق بتاتی ہے کہ کچھ عالمی سطح کے لیڈروں کو آفر دی گئی کہ وہ اقتدار سے جانا پسند کریں گے یا دنیا سے؟ انہوںنے حقارت سے جواب دیا انہیں کوئی اقتدار سے رخصت کرسکتا ہے نہ ہی دنیا سے، پھر دنیا نے دیکھا وہ اقتدار سے بھی گئے اور دنیا میں بھی نہ رہے۔ دنیا میں محض چند سیاسی شخصیات ایسی ہیں جنہیں موت
کا منظر دکھایاگیا تو وہ کچھ عرصہ کے لیے اقتدار سے باہر ہونے کے لیے رضامند ہوگئیں، انہوں نے چاند گرہن اور سورج گرہن کے مضر اثرات سے بچنے کے لیے طویل عرصہ خاموشی و گم نامی میں گذارا، جب تک طوفان جاری رہا انہوں نے سر اٹھاکر دیکھنا بھی ضروری نہ سمجھا، وہ خوب جانتے تھے کہ مہیب طوفان ان کا سر لے جائے گا، طوفان تھما تو انہوں نے گرد جھاڑی، وہ میدان میں اُترے اور کھویا ہوا تخت حاصل کرنے میں کامیاب رہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسی تمام شخصیات نے اپنی بیگمات کی بات پر کان نہ دھرے، بلکہ مخلص دوستوں اور ساتھیوں سے مشاورت کی، ایسے لوگ معزول ہونے کے بعد تکبر سے اکڑ کر نہ پھرے نہ ہی انہوںنے دعویٰ کیا کہ وہ اپنی قوت بازو اور اپنی تدبیر سے حالات کا رُخ موڑ دیں گے، طوفان کا منہ پھیر دیں گے، انہوں نے عجز و انکسار اختیار کیا، اپنی غلطیوں، کوتاہیوں اور گناہوں کی معافی خدا سے مانگی، اس کی رضا میں راضی ہوئے، انہوں نے خدا کی مدد سے کھویا وقار اور منصب حاصل کیا، عمران خان کی زندگی کی فکر سے زیادہ مجھے اُن معصوم سیدھے سادھے لوگوں کی جانوں کی فکر ہے جو سمجھتے ہیں کہ چار سالہ اقتدار نیو ریاست مدینہ بنانے کے لیے کافی نہ تھا،
لہٰذا وہ اپنے قائد کی قیادت میں لڑ کر اقتدار حاصل کرلیں گے اور پھر وہ سب خواب تعبیر پالیں گے جو انہیں دکھائے گئے ہیں، کا ش وہ ادراک کرسکتے کہ چار برس کا عرصہ بہت کچھ کرنے کے لیے کافی تھا لیکن جو کچھ کیا گیا وہ مختلف چوروں، ڈاکوئوں اور مافیا کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لیے کیاگیا، عظیم پاکستانیوں کی بجائے دوہری شہریت رکھنے والے ترجیح اول قرار پائے، غریب کارکن کے مقدر میں سائیکل کی سواری جبکہ مافیا اور مافیا کے سربراہ جہازوں اور ہیلی کاپٹروں میں اڑتے رہے، خدانخواستہ کوئی حادثہ ہوگیا تو سینکڑوں جان سے جائیں گے، کچھ عمر بھر کے لیے معذور ہوجائیں گے اور سینکڑوں کو پیچھے رونے کے لیے چھوڑ جائیں گے، دھرنے و لانگ مارچ میں شریک ہر شخص کی ماں کا نام جمائما نہیں ہے نہ ہی وہ اُس طرح ارب پتی ہے، دھرنے اور مارچ میں سلمان خان اور قاسم خان بھی نہیں ہیں، ان کی جان بہت قیمتی ہے، بیگم خان کے بارے میں بتایاگیا ہے کہ وہ باپردہ گھریلو اور معزز خاتون ہیں وہ نہیں آئیں گی، سب درست تو پھر جو شریک مارچ ہیں وہ کیا ہیں، چاند گرہن کے مضر اثرات ابھی باقی ہیں، کچھ بھی ہوسکتا ہے، خدا خیر کرے، چاند گرہن کے بعد سورج گرہن ہوگا، مکمل اندھیرا چھاسکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button