Columnمحمد مبشر انوار

سیاسی شہادت … محمد مبشر انوار

محمد مبشر انوار

موجودہ سیاسی صورتحال میں جہاں ہر سیاسی رہنما اپنے دائو پیچ آزما رہا ہے، وہاں زرداری ایک تیر سے کئی شکار کھیلتے نظر آ رہے ہیں،چوک چوک کر نشانے لگا رہے ہیںاور ابھی تک ان کی سیاسی چاند ماری میں نشانے ٹھیک بیٹھ رہے ہیں۔نون لیگ کو ڈرائیونگ سیٹ پربٹھا کر زرداری نے انہیںبڑی آزمائش سے دوچار کر رکھا ہے کہ نہ اُن سے نگلی جا رہی ہے اور نہ ہی اُگلنے کو دل کر رہا ہے،پس پردہ خاندان میں شدید اختلافات جنم لے رہے ہیں اور مسلسل مریم نواز اپنے جلسوں میں کارکنان سے اس گناہ بے لذت سے جان چھڑوانے کا عندیہ لے رہی ہیں، حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ مسلم لیگ نون اگر یکسوئی کے ساتھ قائل ہو تو حکومت سے نکلناقطعاً اتنا بڑا مسئلہ ہرگز نہیں ،لیکن حکومت میں موجود مسلم لیگ نون یہ نہیں چاہتی کہ ہاتھ آئے اقتدار کو یوں جھٹک دے۔معاشی و سیاسی مسائل اپنی جگہ لیکن بغور دیکھیں تو فی الوقت موجودہ حکومت کی ترجیحات میں ان مسائل کو حل کرنا نہیں بلکہ بنیادی طور پر دو مسائل ہیں،جن کا تعلق کاملا ان کی اپنی سیاست اور سیاسی راستوں کو ہموار کرنا ہے۔

کسی بھی طرح انتخابی اصلاحات کے نام پر پرانے نظام کو لاگو کرنا تا کہ تصدیق شدہ ووٹوں کا نظام کسی بھی صورت ان کی اصل شکل یا مقبولیت کو آشکار نہ کر سکے تو دوسری اہم ترین ترجیح نیب کے اختیارات کو محدود کرنا یا نیب کے وجود کو ختم کرنا ہے،تا کہ جس این آر او سے عمران خان مسلسل انکار کرتا رہا،اس کا حصول ممکن ہوسکے اور اس کے نتیجہ میں جو مقدمات و سزائیں لیگی رہنما بھگت رہے ہیں،بعد ازاں ان سے چھٹکارا بھی ممکن ہو۔ یہ و ہ ترجیحات تھیں کہ جن کے باعث کل کی اپوزیشن نے ان مشکل حالات میں پاکستانی حکومت کے لیے سخت تگ و دو کی،عمران کے اتحادیوں کو اپنے ساتھ شامل کیااور رہی سہی کسر اس بیرونی مراسلے نے پوری کر دی،جو امریکہ میں متعین سفیر نے وزارت خارجہ کو بھیجا۔اس مراسلے کی حقیقت کیا ہے یا اس کا اثر کس حد تک ہے؟یہ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ جو زبان اس مراسلے میں لکھی گئی ہے،وہ یقینی طور پر ایک سپرپاور کی طرف سے توقع کی جا سکتی ہے لیکن اس مراسلے میں لکھے گئے ’’تحریک عدم اعتماد‘‘کے الفاظ اسے بیرونی مداخلت ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔
جس کی تصدیق نیشنل سکیورٹی کمیٹی میں شامل اراکین نے بھی کی لیکن نیشنل سکیورٹی کمیٹی میں شامل اہم اراکین نے تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے سے گریز کیا اور اسے سیاسی رہنماؤں کی ’’بصیرت‘‘ پر چھوڑ دیا۔سیاسی رہنماؤں کی بصیرت کا بھانڈا اس وقت پھوٹ گیا جب اکثریت فیصلہ کرنے کے لیے ان اہم اراکین کی جانب دیکھنے لگے،ان کے فون کا انتظار کرنے لگے لیکن دوسری جانب موجود خاموشی کو رضامندی سمجھتے ہوئے ،اس تحریک عدم اعتماد کے ساتھ شامل ہو گئے کہ زردار ی نے انہیں بہرطور اس کے کامیاب ہونے پر قائل کرلیا۔اس کھیل میں شریک سب کھلاڑی یہ تصور کئے بیٹھے تھے کہ عمران چونکہ اپنی مقبولیت کھو چکا ہے لہٰذا شب خون مارنے کے لیے یہ بہترین موقع انہیں میسر ہے لیکن عوام از خود عمران کی حمایت میں باہر نکل آئی اور عمران کے مؤقف کو تسلیم کر کے عمران کو بھرپور احتجاج کے لیے آمادہ کر لیا۔
اب صورتحال یہ ہے کہ عمران اپنے ساتھیوں بلکہ عوام کی ایک بڑی اکثریت کے ساتھ سڑکوں پر ہے اوردوسری طرف حکومت عجیب مخمصے کا شکار نظر آتی ہے ۔ معاشی مسائل ہیں کہ حکومت کو شدت کے ساتھ اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیںاور اس کے ساتھ ساتھ اس کی مقبولیت و مہارت پر گہرے سوال اُٹھ رہے ہیں بالخصوص مشیر خزانہ کے بیانات نے سخت اُلجھا رکھا ہے کہ ایک طرف وہ سابق حکومتی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں تو دوسری طرف سابق حکومت کے وزیرخزانہ سے مشورے بھی مانگ رہے ہیں،یہ عجیب کھلا تضاد ہے۔ حکومت کی مشکل یہ ہے کہ گذشتہ ادوار میں لیے گئے قرضوں کا حجم اتنا زیادہ ہو چکا ہے کہ اب ان کا سود ادا کرنے کے لیے بھی ریاست پاکستان کو قرضوں کی ضرورت رہتی ہے،لمحہ موجود میں ایسی کوئی بھی سیاسی یا غیر سیاسی حکومت یا اس کی ایسی کوئی پالیسی نظر نہیں آتی جو پاکستان کو قرضوں کی اس گہری دلدل سے نکال سکے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ریاست کو اپنے امور چلانے کے لیے مسلسل قرض لینا پڑتا ہے ،
اس قرض کو چکانے کے جو معروف طریقے،ایک عام شہری کودکھائی دیتے ہیں کہ یا تو حکومت اپنے غیر پیداواری اخراجات کم کرے بلکہ ختم کرے یا دوسری صورت عوام پر سخت ترین ٹیکس کا نفاذ کرے،ملک سے کرپشن کا خاتمہ کرے کہ بہت سے ملکی وسائل اس لعنت کی نذر ہو جاتے ہیں۔ گذشتہ حکومت میں حکومتی اخراجات کم کرنے کے اعلانات کے ساتھ ان پر عملدرآمد بھی ہوالیکن بدقسمتی سے بیساکھیوں پر کھڑی حکومت کو آخر
کار گھٹنے ٹیکنے پڑے اور اتحادیوں کو فنڈز جاری کرنے پڑے،
علاوہ ازیں حکومت پنجاب کی بے شمار کرپشن دبے لفظوں سامنے آنے لگی،جو آج ہر شخص کی زبان پر ہے۔ عمران خان پنجاب حکومت کی کارکردگی کا دفاع کرتے رہے لیکن وفاقی حکومت میں ہونے والی کرپشن پر عمران خان سوائے عہدوں سے الگ کرنے کے علاوہ کوئی سخت تادیبی کارروائی کرنے سے قاصر رہے،جس سے ان کی اپنی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا کہ عمران بالعموم نبی اکرمؐ کی مثال دیتے ہیں لیکن خود عملدرآمد کروانے سے قاصر رہے۔یوں کسی بھی حکومت کے پاس صرف ایک ہی راستہ بچتا ہے کہ عوام پر ٹیکسز لگا کر پیسہ اکٹھا کیا جائے،خواہ اس میں عوام کے تن سے کپڑے،گھر میں فاقوں کی نوبت آجائے، حکومت قربانی صرف عوام سے مانگتی ہے۔
اس وقت بھی مشیر خزانہ آئی ایم ایف سے مذاکرات میں مشغول ہیں کہ کسی طرح رُکی ہوئی قسط کا اجراء ممکن ہو سکے اور پاکستان کی معاشی حالت وقتی طور پر سنبھل جائے،بالفاظ دیگر حلوے مانڈے چل سکیں۔ یہاں پھر حکومت کے سامنے عمران خان کے مؤقف کی تلوار سر پر لٹکتی دکھائی دیتی ہے کہ اگر آئی ایم ایف موجودہ حکومت کی دادرسی کرتی ہے اور اسے قسط جاری کرتی ہے تو عمران خان شدت کے ساتھ عوام کو بتائیں گے کہ ان کی حکومت گرانے میں امریکی ملوث تھے جبکہ امپورٹڈ حکومت کو انہوں نے بھرپور مددفراہم کی ہے،جو اس بات کی غماضی ہے کہ مقامی میر جعفروں اور میر صادقوں نے اپنے بیرونی آقاؤں کا ساتھ دے کر ان کی حکومت کو گرایا ہے۔
عمران خان اپنے جلسوں میں اس بات کی تکرار پہلے ہی کرچکے ہیں کہ چونکہ وہ بیرونی آقاؤں کے مقاصد کی نگہبانی نہیں کررہے تھے بلکہ پاکستانی مفادات کا تحفظ کرر ہے تھے،اس لیے ان کی حکومت کو ہٹایا گیا۔آئی ایم ایف کی موجودہ حکومت کو قسط بھی اسی صورت جاری ہونی ہے اگر پٹرول و بجلی کی قیمتوں میں خاطر خواہ اور معاہدے کی شرائط کے مطابق اضافہ نہیں کیا جاتا،مراد یہ کہ عوام کے تن سے آخری کپڑا(لنگوٹی)تک اُتار لی جائے،ان کی رگوں سے خون اور ہڈیوں سے گودا تک نچوڑ لیا جائے۔بالفرض حکومتی درخواست کے مطابق ہی اگر آئی ایم ایف موجودہ حکومت کوان شرائط کے نفاذ کے لیے کچھ وقت دے ،تب بھی عمران خان عوام کے سامنے ان حقائق کو رکھتے ہوئے،
اس حکومت سے مسلسل بدظن کرتے رہیں گے۔تیسری تلخ حقیقت اس سے بھی زیادہ پریشان کن ہے کہ مقتدرہ کو عمران خان اس کے اپنے مؤقف کے مطابق ہی اب بھی غیر جانبدار رہنے کیلئے کہہ چکے ہیں اور حکومت مدت پوری کرنے کیلئے ان سے ضمانتیں طلب کر رہی ہے ، حکومت کیلئے تو یہ لمحہ شکر ہے کہ تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی سے مستعفی ہو چکے ہیں،گو کہ ان کے استعفیٰ ابھی تک منظور نہیں کئے گئے،لیکن بوقت ضرورت کسی بھی لمحے منظور ہو سکتے ہیں وگرنہ بساط دوسری طرف پھرپلٹ سکتی ہے۔ حکومت جس مشکل میں پھنسی ہے،
اس سے نکلنے کیلئے مسلسل کوشش تو کر رہی ہے کہ کسی طرح اپنی ترجیحات کے حصول کو ممکن بنائے لیکن فی الوقت ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا کہ گذشتہ دنوں عدالت میں پیشی کے موقع پر وزیراعظم اور ان کے بیٹےکوپولیس نے روک لیاتھا۔ اس صورت میں یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اپنی ترجیحات کے لیے قانون سازی کر سکیں؟اس ساری مشق میں،جو سیاسی و غیر سیاسی افراد شہباز شریف کو متبادل کے طور پر دیکھ رہے تھے،اس کا پول بھی کھل چکا ہے اور جس طرح عمران خان کے لانگ مارچ سے نپٹنے کی تیاریاں وزیر داخلہ کررہے ہیں،اس سے کم ازکم یہ واضح ہو رہا ہے کہ حکومت چاہتی ہے کہ لڑ کر ’’سیاسی شہادت‘‘حاصل کرے،جس کا امکان ففٹی ففٹی نظر آتاہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button