تازہ ترینجرم کہانیخبریں

صدر دھماکا، ہلاک ملزم کے حوالے سے مزید سنسنی خیز انکشافات

کراچی میں کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈپارٹمنٹ کے ہاتھوں مقابلے میں ہلاک ملزم کے حوالے سے مزید انکشافات سامنے آئے ہیں۔

صوبائی مشیر اطلاعات بیرسٹر مرتضی وہاب کے ہمراہ سی ٹی ڈی پولیس حکام نے ایک پریس کانفرنس کی جس میں ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی عمران یعقوب منہاس اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی سندھ خرم علی بھی موجود تھے۔

پریس کانفرنس میں اس دہشت گرد گروپ کے بارے میں تفصیلات جاری گئیں۔

مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ 12 مئی کو صدر بم دھماکے میں ملوث ایک ملزم گزشتہ روز رات 3 بجے ماڑی پور میں سی ٹی ڈی اور حساس ادارے کی کارروائی میں ہلاک ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران کئی لوگ شک کے دائرے میں تھے، پھر شارٹ لسٹ کیا گیا،  اداروں کی تحقیقات جاری تھی کہ ماری پور کی کارروائی میں کامیابی ملی، مقابلے میں ملزم اللّٰہ ڈنو اور اس کا ایک ساتھی مارا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ ہلاک ملزم اللّٰہ ڈنو نے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے دھماکہ کیا۔

مرتضی وہاب نے کہا کہ مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ 12 مئی کو واردات ہوئی اور 18 مئی کو کیس حل کر لیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ دیگر وارداتوں کی تحقیقات جاری ہے، وقت سے پہلے کسی انفارمیشن کو لیک کرنے سے کیس خراب ہوسکتا ہے۔

اس موقع پر ڈی آئی جی سی ٹی ڈی خرم علی نے میڈیا کو بریفنگ دی، ان کا کہنا تھا کہ ملزم اللّٰہ ڈنو بم بنانے کا ماہر تھا، تربیت یافتہ تھا، ریلوے لائن پر دھماکوں کے لیے بھی اللّٰہ ڈنو نے ای آئی ڈیز تیار کی تھیں۔

ملزم صدر بم دھماکے کیلئے ساڑھے پانچ کلو میٹر پیدل سائیکل لے کر آیا تھا۔ کئی مقامات پر سائیکل کھڑی کرنے کی کوشش کی مگر ارادہ بدل کر آگے بڑھ جاتا۔

ملزم نے صدر میں ایک مقام پر سائیکل کھڑی کی اور قریب ہوٹل پر بیٹھ گیا تھا، نیلی لائٹ والی سرکاری گاڑی کو دیکھ کر ملزم نے ریموٹ کنٹرول سے دھماکا کیا۔

انہوں نے بتایا کہ بہت واضح فوٹیجز ملی ہیں جن میں ملزم واضح ہے، شک کی گنجائش نہیں، یہی ملزم تھا۔

جیو فینسنگ میں بھی اللّٰہ ڈنو ہائی لائٹ ہوا، گروہ کے سرغنہ اصغر شاہ سے ملزم نے ہدایات لیں، آڈیو بھی موصول ہوگئی ہے۔

پریس کانفرنس میں میڈیا کو وہ گفتگو بھی سنوائی گئی، یہ گفتگو سندھی میں کی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اس کام کیلئے ملزم اور ساتھیوں کو 2 لاکھ روپے کی فنڈنگ ہوئی، ٹرانزیکشن بھی پکڑی گئی ہے.

دہشتگرد سرغنہ اصغر شاہ ایران سے گروہ کو آپریٹ کر رہا ہے، 15 سے 20 ہزار میں ملزمان دھماکے کر رہے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button