ColumnNasir Sherazi

ٹھکائی کا سال …. ناصر شیرازی

ناصر شیرازی

سری لنکا میں سیاست دانوں اور حکمران طبقے کی وحشیانہ لوٹ مار ختم ہونے میں نہ آرہی تھی، بالآخر عام آدمی کا پیمانہ صبر لبریز ہوا، اب عام آدمی سڑکوں پر ہے، اُس کے ہاتھ میں چھتر کے علاوہ ڈنڈے، سریے ہیں، وہ لوٹ مار کرنے والوں کو گھروں سے نکال کر ان کے کپڑے اُتار کر انہیں قطار در قطار سڑک پر لٹا کر اُن کی مرمت کررہا ہے اور جی کی بھڑاس نکال رہا ہے۔ سری لنکن قوم اور ملک کو لوٹنے کے ذمے دار دو خاندان بتائے جاتے ہیں، راجہ پکسا اوربندرانائیکے۔ کئی دہائیوں سے حکومت انہی کے پاس ہے، اقتدار میں موجود خاندان کے شوقِ حکمرانی  کا اندازہ لگائیے، ایک بھائی صدر، دوسرا وزیراعظم، دیگرچار افرادِ خانہ اہم وزارتیں سنبھالے بیٹھے ہیں جبکہ چالیس دیگر شخصیات اہم ترین عہدوںپر براجمان تھیں۔ یوں سب مل کر جمہوریت کے حُسن سے فیض یاب ہورہے تھے، اور کہتے ہیں کہ ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے۔

تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ عام آدمی کو کھانے کے لیے دو وقت کی روٹی میسر نہیں، صاحبان اقتدار نے عام آدمی کا خون چوس چوس کر دولت کے انبار اکٹھے کیے، انہیں بیرون ملک خفیہ اکائونٹس میں منتقل کیا، ملک کے اندر وسیع و عریض محلات اور جائیدادیں خریدیں، مہنگی ترین گاڑیاں خریدنے اور گھروں کی وسیع پارکنگ میں جمع کرنے کی دوڑ جاری تھی، کوئی کام، کوئی ٹھیکہ یا تقرر بنا رشوت دیئے ممکن نہ رہا، چند روز قبل تک حکمران خاندان کی خوشنودی کے بغیر پتا نہ ہل سکتا تھا، آج یہ سب لوگ عوامی احتساب کے سامنے بے بس ہیں، مارے خوف کے ان کے حلق خشک ہوچکے ہیں، آنکھیں اُبل کر باہر آرہی ہیں، تیزہوا سے گھر کا کوئی دروازہ کوئی کھڑکی، کھڑکے تو اہل خانہ کے چہرے زرد پڑ جاتے ہیں، انہیں یقین ہوجاتا ہے کہ اُن کی باری آگئی ہے، ملک الموت پہنچ گیا ہے، بپھرے ہوئے عوام کا جم غفیر لوٹ مار کرنے والوں کے گھروں میں رات کے اندھیرے میں نہیں بلکہ دن کے اُجالے میں داخل ہوتا ہے،
ہر شے کو تہس نہس کرنے کے بعد پٹرول چھڑک کر آگ لگادی جاتی ہے، کسی کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جاتی، جو گھر میں رہ گیا سمجھئے وہ مرگیا، بیشتر وزیر، مشیر اور اعلیٰ عہدوں پر متمکن شخصیات ملک چھوڑ گئی ہیں لیکن اب نہیں، بھوکے ننگے عوام نے سب راستے بند کردیئےہیں، بعض اہم شخصیات کو قتل کرنے یا زندہ جلاکر راکھ کردینے کی منصوبہ بندی سامنے آئی تو فوج نے اِن لوگوں کو اپنی حفاظت میں اُن کی رہائش گاہوں سے نکالا اور اپنے زیر حفاظت مقامات پر منتقل کیا، لیکن آخر کب تک سری لنکن فوج کس کس کی حفاظت کرے گی، اس کی اپنی ذمہ داریاں بھی ہیں، پھر فوج کی نفری کم جبکہ بھوکوں سے گھروں کے گھر بھرے ہوئے ہیں۔
حکومت کا خزانہ خالی، پٹرول اور اناج خریدنے کے لیے ڈالر موجود نہیں، تین وقت کھانا کھانے والے دو وقت پر آگئے، اب انہیں صرف ایک وقت کا کھانا میسر ہے، سری لنکا میں چند مخصوص سبزیوں کے علاوہ مچھلی تو ہے لیکن صرف ان دو چیزوں پر زندگی کا انحصار نہیں کیا جاسکتا، ناریل کے تیل سے کھانا تو پک جائے گا لیکن ٹرانسپورٹ نہیں چل سکتی، یوں زندگی جام ہوتی نظر آتی ہے، سری لنکا جو دنیا بھر میں سیاحوں کے لیے کشش رکھتا تھا، آج خوف کے دبیز پردے میں لپٹا ہوا ہے۔ سری لنکا جانے والے جہاز قریباً خالی ہیں، مساتر اتنے ہی نظر آتے ہیں جتنا ایک جہاز میں سٹاف ہوتا ہے، ہوٹل ویران ہیں، سوشل میڈیا پر اُن کے اشتہاروں میں گاہکوں کو اپنی جانب کھینچنے کے لیے کہا جارہا ہے کہ صرف سات روز قیام کرنے کے پیسے دیں اور چودہ دن بلامعاوضہ رہیں ، ہر وہ جنس جو نایاب تھی، اب ارزاں ہے، مورتیاں سجی ہیں کوئی خریدار نہیں۔ یاد رکھیئے یہ اُس ملک کا حال ہے جو سرسبز و شاداب قدرتی نظاروں سے مالا ما اور یہاں تعلیم کا تناسب قریباً سو فیصد ہے، یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ان پڑھ جاہل مطلق انتہا پسندوں نے ملک اور حکومت کو یرغمال بنالیا ہے،
سری لنکن بحیثیت قوم سلجھے ہوئے،محنتی، دیانتدار اور امن پسند ہیں، وہاں بسنے والے زیادہ تر بدھ مت کے پیروکار ہیں جو کسی کو اذیت دینا گناہ عظیم سمجھتے ہیں، ان کی تعلیمات کے مطابق سڑکوں، بازاروں میں یوں چلنے کا حکم ہے کہ پائوں تلے کوئی کیڑا مکوڑہ بھی آکر زندگی سے ہاتھ نہ دھو بیٹھے، عوام کے زیر عتاب حکمران طبقہ کہنا چاہے تو کہہ سکتا ہے کہ امریکہ اس کا مخالف ہے، اُس نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے حکومت کو بے بس کردیا ہے، وہ کہنا چاہیں تو کہہ سکتے ہیں کہ بھارت اپنی من پسند حکومت سری لنکا میں قائم کرنا چاہتا ہے لیکن کسی نے اس حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔ شاید سبھی جانتے ہیں کہ بے سروپا بات کی گئی تو عوام کی طرف سے سستا و فوری انصاف ملنے کی رفتار تیز ہوجائے گی، ہر گلی
کوچے، ہر بڑے شہر میں سڑکوں پر لگائی گئی عدالتوں میں اب ان سے بھی انصاف کیا جارہا ہے جن کے منصب کا تقاضا تھا کہ وہ انصاف مہیا کریں مگر وہ نہ کرسکے۔سری لنکن حکمران خاندان نے مجمع اکٹھا کرکے کوئی سازشی خط نہیں لہرایا، انہوں نے کوئی راز فاش کرنے کی دھمکی نہیں دی، انہوں نے مہاتما بدھ کے مجسمہ کے پیچھے چھپنے یا پناہ لینے کی کوشش نہیں کی، انہوں نے عوامی نفرت کا امڈتا ہوا سیلاب دیکھ کر سرکاری پناہ گاہیں اور سرکاری دستر خوان نہیں سجائے ، وہ یوٹرن ٹیکنالوجی کی افادیت کے ابجد سے واقف نہیں، ان کے پاس قابل سوشل میڈیا بھی نہیں، بادی النظر میں لگتا ہے کہ انہیں لٹریچر سے کوئی دلچسپی نہیں، انہیں کوئی انقلابی نظمیں یاد نہیں، انہیں بدھ مذہب سے جڑے اقوال زریں کی کوئی خبرنہیں، وہ حد درجہ بدذوق ہیں انہیں ڈیزائنر ملبوسات پہننے کا شوق نہیں، وہ غیر ممالک کے اکثر دورے نہیں کرتے، وہ تحفوں کے انبار سمیٹنے کا ہنر نہیں جانتے، بے وقوفی کی انتہا، ان کے یہاں کوئی توشہ خانہ نہیں، وہ براہ راست مال سمیٹنے پر یقین رکھتے تھے، ایسے عقل و فہم سے عاری کہ ٹی وی پر پندرہ روز کے بعد آکر اپنی لایعنی گفتگو کرنے کے آرٹ سے بھی محروم، وطن کی محبت میں اتنے سرشار کہ کسی کی بیوی، بچوں کے پاس امریکہ، کینیڈا یا برطانیہ کی شہریت نہیں، نااہلی کی انتہا کسی کے بچے کسی غیر ملک میں کوئی کاروبار نہیں کرتے، سست الوجود اتنے کہ کسی کو کسی قسم کے شکار یا سیروسیاحت کا شوق نہیں، نالائقی ملاحظہ فرمائیے، برس ہا برس اقتدار گھر کی لونڈی رہا، اس کے ساتھ لونڈیوں والا سلوک بھی کرتے رہے لیکن اپنی خود نوشت نہ لکھی، عین ممکن ہے ہینڈ رائٹنگ بہت خراب ہو لیکن کسی خوشخط کی خدمات حاصل کرکے اپنے نام سے کتاب تو چھپوائی جاسکتی تھی۔
سوچ سوچ کر افسوس ہوتا ہے انہیں نیلسن منڈیلا، مارٹن لوتھرکنگ یا ابراہام لنکن کاکوئی قول یاد نہیں جسے وہ اپنی قوم کو متاثر کرنے کے لیے دھرا سکیں۔ دقیانوسی اتنے کہ کسی ملکی یا غیر ملکی حسینہ یا ماڈل کے گلے میں بانہیںڈال کر چند تصویریں بھی نہ اُترواسکے۔ ان کے یہاں کئی حبیب جالب پیدا ہوئے وہ ٹیگور کے ماننے والے بھی ہیں، کسی کوئی انقلابی نظم ترنم سے پڑھ کر قوم کو فرضی انقلاب کے ڈراوے بھی نہ دے سکے۔ ایسے نالائقوں کے ساتھ یہی ہونا چاہیے تھا جو ہورہا ہے۔یہ لوگ ہر اعتبار سے حقیقی انقلاب بلکہ خونی انقلاب کے حق دار ہیں۔ سیاسی ستارہ شناسوں کے مطابق 2022ٹھکائی کا سال ہے، ہمارے یہاں سے بھی ٹھکائی کی خبریں آنے والی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button