ColumnNasir Naqvi

معاشی دہشت گردی …. ناصر نقوی

ناصر نقوی

پاکستان نے عسکری اور سیاسی قائدین کی حکمت عملی اور عوامی تعاون سے دہشت گردی پر قابو پالیا ہے تاہم اِکا دُکا واقعات کا ابھی بھی سامنا ہے جس کے لیے ہر پاکستانی کو اپنی صفوں میں موجود مفاد پرست کالی بھیڑوں سے نمٹنا ہو گا۔ یقیناً اس اجتماعی مفاد کے لیے آنکھیں اور کان کھلے رکھنے ہوں گے اس لیے کہ ہمیں دہشت گردی کی آگ میں دھکیلنے کا خواہشمند دشمن ڈرپوک، بزدل اور مکار ہے، ہم نے امن پسندرویوں سے ثابت کیا ہے کہ صرف پاکستان ہی امن کا گہوارہ نہیں بلکہ پورے خطے کو دہشت گردی سے پاک ہونا چاہیے اور اس منصوبہ بندی کی کامیابی کے لیے ہر سطح پر مالی اور جانی قربانیاں بھی تاریخی ہیں اس سلسلے میں صرف ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد کے مثبت نتائج سے کوئی انکارنہیں کر سکتا۔ ایسے میں پاکستان امن کا مرکز بنا تو ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں میں بھی اضافہ ہوا لیکن حالات بتا رہے ہیں کہ آپ نے جینے کے لیے اور معاشی دہشت گردی ــ کا مقابلہ کرنے کے لیے کمر نہ کسی تو معاملات بگڑ جائیں گے۔ ہر آنے والی حکومت کی طرح نو منتخب اتحادی حکومت کا بھی دعویٰ ہے کہ سابق حکمرانوں نے نا اہلی ، نالائقی اور اپنے اناڑی پن سے وطن عزیزکو معاشی دہشت گردی کا شکار کر دیا ہے۔ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا دعویٰ ہے کہ عمران خان نے بیس ہزار ارب کا قرض لے کرنیا ریکارڈ بنایا اور آئندہ بجٹ خسارے کاہو گا، معاشی بد حالی پرپریشان ہیں۔ آ ئی ایم ایف سے کڑی شرائط پر قرضہ لیا گیا اور پھر مہنگائی نے اس قدر زور پکڑا ہے کہ اس وقت پاکستان دنیا کا تیسرا مہنگا ترین ملک بن چکا ہے، لہٰذا حکومتی ترجیح عوامی ریلیف کے راستوں کی تلاش ہے کیونکہ عوام مشکلات کا شکار ہیں اور انہیںکوئی سروکار نہیں کہ کس نے کیا کیا؟ان کا ایک ہی سوال ہے کہ کیا تبدیلی سرکار کی تبدیلی سے انہیں سکھ کا سانس ملے گا؟ یقیناً یہ بہت بڑا چیلنج ہے اور وزیراعظم نے بنیادی اقدامات کی ہدایت بھی کر دی ہے۔ مفتاح اسماعیل بھی آئی ایم ایف سے اپنی قوم کا مقدمہ لڑنے پہنچ چکے ہیںنتیجہ کیا نکلے گا اس بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی پھر بھی یہ اٹل ہے کہ موجودہ حکومت کو ہر ممکن کوشش سے عوامی ریلیف دینا ہو گا ورنہ نئے بجٹ نے نئی ہنگامہ آرائی کرنی ہی ہے۔ بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی مصیبت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں، جنرل ضیاالحق جیسا آمراپنے اقتدار کے آخری ایام میں یہ کہنے پر مجبور ہو گیا تھا کہ اقتدار پھولوں کی سیج نہیں ، کانٹوں کی مالا ہے لیکن موجودہ حکومت نے افہام و تفہیم، سیاسی بصیرت اور سیاسی اکابرین نے مشترکہ جدوجہدکی تو ان کا ہوم ورک بھی مکمل ہوگا اگر موجودہ حکمران کسی قسم کی بھی

ریلیف دینے میں کامیاب ہوگئے تو عوام کا اعتماد نہ صرف بحال ہو گا بلکہ یہ بات بھی ثابت ہو جائے گی کہ کھلاڑی اناڑی تھے تاہم اگر حکومت نے اب بھی ماضی کی طرح محض تنقید اور الزامات کی سیاست کی ریت اپنا ئی تو شاید عبوری سال ڈیڑھ سال تو پورا کرلیں لیکن نئے انتخابات میں انہیں بھی ان گنت عوامی سوالوں کا جواب دینا پڑے گا۔ہم نے قومی یکجہتی کے جذ بے اور حب الوطنی سے دشمنوں کی دہشت گردی کا خاتمہ کر کے وطن عزیز کو بڑی حد تک امن کا گہوارہ بنا لیا ہے، دنیا نے بھی ہماری افواج اور سیاسی قیادت کے ساتھ عوامی صبر وتحمل اور قربانیوں کو سراہا ہے لیکن اب دنیا میں جہاں ایک دوسرے پر معاشی بر تری کی لڑائی لڑی جارہی ہے وہاں جانتے بوجھتے ایسی پالیسیاں بھی بنائی جا رہی ہیں کہ جن سے معاشی دہشت گردی کے رجحانات میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے، یہ دہشت گردی زیادہ خطرناک ہے اور اس میں عوامی کوتاہیاں کم اور حکومتی نالائقی زیادہ ہے ۔ اسی لیے وزیر داخلہ راناثناء اللہ تبدیلی سرکار پر سخت ناراض ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ دوسروں کو غدار قرار دینے والے ’’میر جعفر نیازی‘‘ نے پا کستان کے خلاف ملکی معیشت کی تباہی سے سازش کی ہے، ہم معاشی دہشت گردی کی راہ ہموار کرنے والوں کو بھاگنے نہیں دیں گے کیونکہ یہ قومی مجرم ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ عمران اور ان کے ساتھیوں کی غلطیوں و ناقص منصوبہ بندی سے قوم معاشی دہشت گردی کا شکار
ہوئی ہے لہٰذا انہیں باجماعت اپنی نا اہلی اور لوٹ مار پر عوام سے معافی مانگنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھاکہ عمران خان حقیقی سیاسی میدان سے بھاگے ہوئے ہیں۔ متحدہ اپوزیشن نے اپنی سیاسی اور آئینی مشترکہ جدوجہد سے ایک زبردست سیاسی مقابلے کے، انہیں اقتدار سے نکال باہر کیا ہے۔ آپ وہ ایک خط اور قومی سلامتی کے نام پر عوام کو جذ باتی کر کے اپنی جان چھڑانا چاہتے ہیں لیکن ان کی سیاسی تربیت نہیں اس لیے وہ عدم اعتماد کی طرح اب ہر محاذ پر شکست کھائیں گے۔ قوم کی بدقسمتی کہ ان کے ہاتھ ایک سلپ کا کیچ آ گیا لیکن انہوں نے اقتدار ملنے پر انکساری کی بجائے غرور اور میں میں کی رٹ لگائی جو کہ مالک کو پسند نہیں آئی اور اقتدار واپس ہو گیا،اب ان کا بیانیہ روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہوتا ہے کبھی ہمیں اور ہماری حکومت کو امپورٹڈ کہہ کر نا منظور کہتے ہیں، کبھی ہمیں امریکن ایجنٹ قرار دیتے ہیںحالانکہ ہماری حکومت میں سارے کے سارے ایسے پاکستانی ہیں جن کے پاس وطن عزیز کے علا وہ کہیں کی شہریت نہیں ،ان کی پہچان ان کے کاروبار اسی دھرتی پر ہیں جبکہ نیازی صا حب کے دائیں بائیں تمام امریکن اور برطانوی شہریوں کی یلغار تھی۔ عمران نے اپنے اناڑی پن میں غیر ملکیوں کو اپنے منتخب ساتھیوں پر فوقیت دی لہٰذااپنے پرائے ہو گئے اور امپورٹڈ وزیر و مشیر اقتدار جاتے ہی ایکسپورٹ ہونا شروع ہو گئے ۔ ایک نجی محفل میں رانا ثناء اللہ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ہمیں غلام کہنے والے عمران خان کے لیے ہم نہیں، امیر جماعت اسلامی سراج الحق کہہ رہے ہیں کہ تبدیلی سرکار نے آئی ایم ایف سے غلط معاہدہ کرکے غلامی کا طوق عوام کے گردنوں میںڈالا ہے اور موجودہ حکومت معاہدے پر نظر ثانی کرے۔
وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ سے لاکھ اختلاف کریں ان کی یہ بات تو بالکل درست ہے کہ تبدیلی سرکار میں برطانیہ ، امریکہ اور کینیڈا کے وفا داروں کی ہرگز کمی نہیں تھی۔ ڈاکٹر ظفر مرزا اپنی اعلیٰ اور منفرد خدمات انجام دے کر جہاں سے آئے تھے وہاں واپس چلے گئے لیکن زلفی بخاری ، شہباز گل، ندیم بابر، اعظم سواتی ، فیصل واڈا ، ثانیہ نشتر ، ملیکہ بخاری اور مشہور زمانہ سچے اور کھرے شہزاد اکبر مرزا ، و دیگر غیر ملکی شہریت رکھنے والے امپورٹڈ ہی تھے جبکہ موجودہ حکومت میں شاید ڈھونڈنے سے بھی کوئی امپورٹڈ نہ ملے لیکن سپریم کورٹ کے مستند صادق وامین عمران خان کا فرمان ہے کہ امپورٹڈ حکومت نامنظور۔ یقیناً ہم بھی امپورٹڈ شخصیات کے خلاف ہیں، ماضی میں معین قریشی اور شوکت عزیز جیسے امپورٹڈ وزیر اعظم بھی اپنا اپنا کام دکھا کے جاچکے ہیں۔ واہ ہم بھی عجیب لوگ ہیں جب بھی چاہیں اپنوں کو غیر اور غیروں کو اپنا بنا کر فخر کرتے ہیں، ہمیں غیر ملکی وزیروں مشیروں اور ورلڈ بنک کے ایجنٹوں سے قومی اجتماعی مفاد میں نجات حاصل کرنی ہو گی کیونکہ آئی ایم ایف کے بد ترین نقصان دہ معاہدے اور غیر ملکی دباؤ پر سٹیٹ بنک کی آزادی حقیقت میں قوم کو غلام بنانے کا اصل اقدام ہے۔ بھلا وہ قوم کیسے ترقی کر سکتی ہے کہ جس کا انحصار غیر ملکی قرضے پر ہو اور قومی ریاستی بنک کسی اور کے قبضے میں ہو؟ ایسے میں صرف معاشی دہشت گردی ہی ہو گی اور کچھ نہیں ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button