Column

قبل از وقت انتخابات ؟ ….. علی حسن

علی حسن
حیران کن امر ہے کہ عمران خان کے تمام مخالفین نے طویل عرصہ لگا کر ان کی حکومت ختم کرنے کی جدوجہد کی۔ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ ( پی ڈی ایم )کا قیام2020 کو عمل میں آیا۔ مولانا فضل الرحمان، بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز شریف اپنے لائو لشکر سمیت تمام بڑے شہروں میں جلسے کر چکے تاکہ عوام کو آمادہ اور قائل کیا جائے کہ حکومت ختم ہو سکے اور عمران خان ہی ان سب کے ہدف رہے۔ اس دوران قومی اسمبلی سے استعفے دینے کے مسئلہ پر آپس میں اختلاف اس حد تک ہوا کہ بلاول اور مریم کے درمیان بول چال ہی بند نہیں ہوئی بلکہ ایک دوسرے کے خلاف بیانات بھی داغے گئے اور بعض اوقات تو قابل اعتراض جملے بھی کسے گئے۔ مولانا فضل الرحمان انہیں منانے میں ہی سرگرم رہے۔ پی ڈی ایم کے قیام کا بنیادی مقصد عمران خان کو حکومت سے ہٹانا تھا تاکہ ان کے مخالف سیاست دان سکون کی سانس لے سکیں اور انہیں ان لوگوں کے خلاف قومی احتساب بیورو میں قائم مقدمات سے نجات مل سکے۔ جلسے، جلوس اور لانگ مارچ وغیرہ ہوئے۔ مولانا فضل الرحمان نے تو اپنے حامیوں کو اسلام آباد میں ایک سے زائد بار جمع کیا۔ آخر میں ان کوششوں میں ایک تحریک عدم اعتماد کی تیاری شامل تھی۔ وہ قومی اسمبلی میں جمع کرائی گئی ۔ مخالفین نے قومی اسمبلی میں زیربحث لانے اور قرار داد پر ووٹنگ کی تاریخ کا انتظار کرنا شروع کر دیا۔ سندھ ہائوس میں پی ٹی آئی کے منحرفین کے علاوہ بھی کئی اراکین قومی اسمبلی کو رکھا گیا تھا۔ حکومت نے اپنی کوششیں کیں کہ کسی نہ کسی طرح قرار دادسے جان چھڑائی جائے۔ قومی اسمبلی کی تاریخ مقرر ہوئی ، سپیکر نے 25مارچ کو اجلاس طلب کرکے رکن قومی اسمبلی خیال زمان کے انتقال پر فاتحہ خوانی کرائی اور اجلاس ملتوی کر دیا۔
عمران حکومت مخالفین کی دل کی گہرائیوں سے خواہش تھی کہ عمران خان وزیر اعظم نہ رہے۔ و ہی ہوا جو عمران خان نے خود کیا اور تین اپریل بروز اتوار قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا گیا۔ سپیکر کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی گئی تھی اس لیے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے صدارت کی۔ انہوں نے تحریک عدم اعتماد کو ایک جملے میں نمٹا دیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’متحدہ اپوزیشن کی تحریکِ عدم اعتماد آئین کے خلاف ہے ۔ وزیرِ اعظم کے خلاف کسی غیر ملکی کو حق نہیں کہ وہ تحریکِ عدم اعتماد لائے، میں بطور ڈپٹی سپیکر رولنگ دیتا ہوں کہ وزیرِ اعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد مسترد کی جاتی ہے‘‘۔ ڈپٹی سپیکر نے تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ کرانے سے انکار کر دیا اور قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا۔ڈپٹی سپیکر کے ا س تیز رفتار فیصلے نے سب ہی کو حیران کر دیا بقول ممتاز وکیل اعتزاز احسن عمران خان نے ایک چھکا لگایا کہ گیند گرائونڈ سے باہر چلی گئی۔ شہباز شریف نے کہاکہ ’’ نہ کھیلتا ہے اور نہ کھیلنے دیتا ہے بلکہ گیند اور بال لے کر بھاگ گیا ہے‘‘۔ اعلیٰ عدالت جو بھی فیصلہ کرے الگ بات ہے لیکن عمران خان نے اسمبلی ہی تڑ وادی ۔ کئی ممتاز وکلاء نے سپیکر کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔
تحلیل کی جانے والی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو آئندہ انتخابات تک نگران وزیر اعظم کا نام تجویز کرنے کی دعوت بھی دے دی اور خود کو بھی ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے وزیراعظم کے عہدے سے سبکدوش کرالیا۔ اب بظاہر تو آئندہ نوے روز میں انتخابات کے انعقاد کا راستہ ہی رہ جاتا ہے۔ محمد خان جونیجو کی حکومت کو جب جنرل ضیاء الحق نے برخاست کیا تو انہوں نے عدالت سے رجوع کر لیا تھا، اس درمیان نئے انتخابات کا اعلان ہو چکا تھا، عدالت نے فیصلہ تو جونیجو حکومت کی بحالی کا دیا لیکن ساتھ میں یہ بھی کہا کہ چوں کہ انتخابات کے انعقاد کا اعلان ہو چکا ہے اس لیے حکومت بحالی نہ کی جائے۔ تین اپریل کو برخاست کی جانے والی اسمبلی کے ساتھ بھی یہ ہی ہوا ہے کہ صدر پاکستان نے قومی اسمبلی کو ہی تحلیل کر دیااور وزیر اعظم سبکدوش ہو گئے ۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری کا کہنا ہے کہ عدالت کو اختیار نہیں کہ سپیکر کی رولنگ کو چیلنج کرے، رولنگ میں وجہ لکھی گئی ہے کہ کیسے آرٹیکل 5 لاگو کیا گیا۔ سیاسی فیصلے عدالتوں میں نہیں ہوتے، سیاسی فیصلے کرنے کا اختیار عوام کے پاس ہونا چاہیے، سیاسی جماعتوں کو عوام کے پاس جانے سے نہیں گھبرانا چاہیے، سیاسی جماعتیں شیر بنیں۔نون لیگ، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی چوں چوں کا مربہ ہیں، سیاسی جماعتیں الیکشن سے کیوں بھاگ رہی ہیں، ان کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے ہیں، ایک سیاسی جماعت سینہ تان کر میدان میں نکلی ہے کہ آئیں الیکشن لڑیں۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر ازخود نوٹس کی مختصر سماعت کی۔ چیف جسٹس
عمر عطا بندیال سپریم کورٹ پہنچے۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ریاستی عہدیداروں کو کسی بھی ماورائے آئین اقدام سے روک دیا ہے۔ سیاسی جماعتیں پر امن رہیں، کوئی ماورائے آئین اقدام نہ اٹھا یا جائے۔سپریم کورٹ ڈپٹی سپیکر کے اقدامات کا جائزہ لے گی۔
عمران مخالف تما م سیاسی قوتیں یہی چاہتی تھیں کہ عمران خان جائے۔ عمران خان تو گئے لیکن انہوں نے مخالفین کو شش وپنج میں ڈالتے ہوئے ان کی توقعات پر پانی پھینک دیا کہ ان میں سے کوئی خصوصاً شہباز شریف وزیر اعظم مقرر ہوجائیں۔ آصف زرداری تو شہباز شریف کو ایک سے زائد بار جناب وزیر اعظم کہہ کر مخاطب کر چکے تھے۔ دیگر عہدوں کے لیے بھی نام فائنل کئے جا رہے تھے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا سپریم کورٹ سپیکر کے فیصلے کو ختم کر سکتا ہے یا فیصلہ کچھ اس طرح کا ہو سکتا ہے کہ چونکہ اسمبلی تحلیل کر دی گئی ہے اور وزیر اعظم سبکدوش ہو گئے ہیں، اس لیے اب آئندہ عام انتخابات کی تیاری کی جائے۔ ممکن ہے کہ سپریم کورٹ ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کو ہی کالعدم قرار دے اور تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کا حکم دے۔ عمران خان عدم اعتماد سے بچنا چاہتے تھے شاید اسی لیے یہ سب کچھ کیا گیا اور انہوں نے انتخابات کے انعقاد کی گھنٹی بجادی۔ ان کے مخالفین بھی تو یہی چاہتے تھے۔ عمران خان کے حامیوں اور مخالفین کی اپنی اپنی آرا ہیں لیکن عمران خان کابینہ کے ایک رکن جو کئی حکومتوں کا زوال دیکھ چکے ہیں ،ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن نے عمران خان کو مقبول بنادیا ہے ، اگلے انتخابات میں عمران خان دو تہائی اکثریت ووٹوں سے منتخب ہوں گے۔ اپوزیشن اپنی سیاسی موت مر گئی ہے ۔ جنہوں نے 20، 20 کروڑ روپیہ کھایا ان کے چہرے سیاسی طور پر سیاہ ہوجائیں گے۔ فضل الرحمان اور شہباز شریف کا مطالبہ انتخابات کا ہی تھا۔ تین تجاویز تھیں، اس میں بڑوں کی رائے بھی شامل تھی۔ نئے الیکشن کے لیے میں دو مہینے سے رو رہا ہوں، میں تو ایمرجنسی کی بات کرتا تھا، وزیراعظم نے مسترد کردی، پھر گورنر راج کا بھی وزیراعظم کا خیال تھا کہ ختم ہو جائے گا جبکہ میں نے گورنر راج کی بھی بات کی تھی۔ سوچ بچار کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ انتخاب کا راستہ اختیار کیا جائے۔ یہ میری خواہش تھی کہ حج کے بعد الیکشن ہو جائیں، میری خواہش تھی کہ صوبوں میں بھی اسمبلیاں توڑ دی جائیں۔ روز لوگ طعنہ دیتے تھے عمران خان کو کہ ’سلیکٹڈ ہے‘۔اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد قانون کے مطابق 15 دن عمران خان وزیراعظم رہیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button