Column

تیسرا خط ….. کاشف بشیر خان

کاشف بشیر خان

پاکستان کے اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت کوئی نئی بات نہیں ہے۔پاکستان بننے کے فوری بعد اس وقت کے وزیر خزانہ شعیب، ملک غلام محمد اور اسکندر مرزا نے پاکستان کی تمام پالیسیوں کو امریکہ کی خواہشات کے تابع کرنے کی کوششیں شروع کر دی تھیں۔خود مختار پاکستان کے وزیر اعظم کو روس کا مجوزہ دورہِ منسوخ کر کے امریکہ کا دورہ کروانے والے بھی یہ ہی لوگ تھے۔ لیاقت علی خان بہت جلد سمجھ گئے تھے کہ امریکہ اپنے مقاصد کے لیے پاکستان کو استعمال کرنا چاہتا ہے اسی لیے جب لیاقت علی خان نے پاکستان کی خارجہ پالیسی فوری تبدیل کرنا چاہی اور روس کے ساتھ ڈپلومیسی شروع کی تو پھر لیاقت علی خان کو راولپنڈی میں سرعام ایک جلسہ میں شہید کروا دیا گیا۔بعد کے کچھ حکمران اور پھر ایوب خان بھی روسی اثر و رسوخ کے زیر اثر پاکستان پر حکمرانی کرتے رہے۔بڈھ پیر کے فضائی اڈے بھی تو ایوب خان نے ہی امریکہ کو دیئے تھے۔ پشاور سے دس کلومیٹر دور بڈھ پیر گاؤں میں پاکستان نے ائیر بیس قائم کیا جسے 1959 میں 10 سالہ لیز پر امریکہ کے حوالے کر دیا گیا اور امریکہ وہاں سے روس کی جاسوسی کرتا تھا۔

ایوب خان کے اس قدم نے دنیا بھر میں ناصرف پاکستان کی جگ ہنسائی کروائی بلکہ اس خطے میں امریکیوں کو اپنے قدم جمانے میں بھی مدد دی۔ بڈھ پیر کے فضائی اڈے 1970 میں امریکہ نے خالی کئے لیکن اس دوران وہ پاکستان میں مختلف مقامات پر اپنے ایجنٹ بٹھا چکا تھا۔ پاکستان میں سانحہ مشرقی پاکستان ہوا ، اس کے پیچھے بھی امریکن سی آئی اے کا گہرا ہاتھ تھا اور مشرقی پاکستان میں امریکہ کے سفارت کاروں کی شیخ مجیب الرحمن سے لاتعداد ملاقاتیں اس سازش کو بے نقاب کرتی ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں بھی پاکستان، امریکہ کی ریشہ دوانیوں سے محفوظ نہ رہا اور 1976 میں لاہور کے گورنر ہاؤس میں امریکن خارجہ سیکرٹری ہنری کسنجر نے بھٹو کے ایٹمی پروگرام سے پیچھے نہ ہٹنے پر یہ دھمکی دی تھا کہ’’ہم تمہیں ایک خوفناک مثال بنا دیں گے‘‘

فرانس سے ذوالفقار علی بھٹو نے ایٹمی ری پروسیسنگ پلانٹ کا معاہدہ کیا جو امریکہ کو کھٹکتا تھا۔ ایک سال بعد ہی پاکستان میں عام انتخابات کے بعد جو کچھ ہوا وہ دنیا کی یادوں میں آج بھی تازہ ہے کہ کس طرح پاکستان کی اپوزیشن کو ڈالروں کی فراوانی سے خریدا گیا اور ملکی حالات کو ابترترین بنا کر ذوالفقار علی بھٹو کو نہ صرف اقتدار سے الگ کیا گیا بلکہ پھانسی پر بھی لٹکا دیا گیا۔ بھٹو کے خلاف جاری احتجاجی تحریک کے دوران ساہرس رابرٹ وینس (جو اس وقت امریکی صدر جمی کارٹر کے سیکرٹری اسٹیٹ آف ڈیفنس تھے) نے بھٹو کو ایٹمی پروگرام سے باز رکھنے کی آخری کوشش کرتے ہوئے ایک خط لکھا جو ذوالفقار علی بھٹو لے کر راجہ بازار پنڈی پہنچ گئے اور عوام کو وہ خط لہراتے ہوئے بتایا کہ امریکہ ایٹمی پروگرام ختم نہ کرنے پر مجھے دھمکی آمیز خط لکھ رہا ہے، پھر چند ہی دنوں کے بعد بھٹو کی حکومت ختم کرکے ملک میں مارشل لاء لگا دیا گیا تھا۔ جنرل ضیاء الحق کے تمام دور میں ہم نے امریکہ کی ہی پالیسیوں پر عمل درآمد کیا اور پاکستان میں پرائی جنگ گھسیٹی جس کے مضمرات آج بھی محسوس کئے جا سکتے ہیں۔

جنرل ضیاء الحق کے بعد سے جنرل مشرف تک کے تمام ادوار ہی ہم بیرونی ایجنڈوں کی تکمیل میں مصروف عمل رہے۔اس دوران جب بھارت نے ایٹمی دھماکے کئے ۔ اگر فوج اور پاکستانی عوام بھرپور دباؤ نہ ڈالتے توہو سکتا ہے کہ حکمران ایٹمی دھماکے بھی نہ کرتے۔اسی دوران کارگل کی جنگ کے دوران جو قومی غیرت بیچی گئی اس کے پیچھے بھی امریکہ ہی تھا۔جنرل مشرف کے دور حکومت میں نائن الیون ہوا اور پھر افغانستان میں امریکی غاصبانہ حملے کے موقع پر بھی پاکستان نے امریکی خواہشات کا بھرم رکھتے ہوئے پاکستان کو خون خون کروا یا ۔کہا گیا تھا کہ امریکہ نے پیغام دیا تھا کہ ’’ہمارا ساتھ دو ورنہ غاروں کے دور میں واپس جانے کے لیے تیار ہو جاؤ‘‘۔

اس کے بعد ہم نے امریکہ کی اس جنگ میں بھرپور ساتھ دینے کی قربانی قریباً 90 ہزار پاکستانیوں کی شہادتیں کی شکل میں دی۔ 2007 میں بھی جلاوطن بینظیر بھٹو اور شریف برادران جب ملک میں واپس آئے تو بینظیر بھٹو اور مشرف کے درمیان ڈیل کروانے والا امریکہ ہی تھا۔قارئین کو سمجھنا ہو گا کہ بل کلنٹن نے شریف فیملی کو پہلے مشرف سے این آر او دلایا اور پھر 2007 میں بھی انہیں واپس پاکستان لانے والا امریکہ کا ہی صدر تھا۔ شریف برادران اور بینظیر بھٹو کو پاکستان لانے کا مقصد سمجھنا مشکل ہرگز نہیں اور پھر پاکستان میں عدلیہ بحالی تحریک میں جس طرح بیرونی فنڈنگ کی گئی وہ بھی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔مشرف کو صدارت سے زرداری اور نواز شریف کے ذریعے گھر بھجوانے والا بھی امریکہ ہی تھا اور اس کے بعد ہم نے پاکستان کی تاریخ کا شرمناک سکینڈل میمو گیٹ دیکھا جس نے محب وطن عوام کی آنکھیں کھولیں کہ صدر پاکستان آصف علی زرداری اور امریکہ میں اس وقت کے پاکستانی سفیر حسین حقانی نے اپنے فرنٹ میں منصور اعجاز کے ذریعے امریکی حکام کو ایک خط لکھا کہ’’مجھے پاکستانی فوج سے بچایا جائے کیونکہ وہ مجھے امریکہ کی حکومت کا ساتھ دینے پر نقصان پہنچا سکتی ہے‘‘میمو گیٹ سکینڈل پر جے آئی ٹی بھی بنی اور اس کی آصف علی زرداری و حسین حقانی کے خلاف رپورٹ بھی آئی تھی لیکن یہ سب آج بھی مصروف عمل ہیں اور پچھلے دنوں حسین حقانی اور نواز شریف کی آپس میں ملاقاتیں بھی ہوئیں۔2008 سے 2018 تک امریکی ایجنڈے کی تکمیل بذریعہ شریف برادرز اورآصف علی زرداری ہوتی رہی اور امریکہ کو پاکستان میں اپنے مذموم ایجنڈے کی تکمیل میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی لیکن 2018 میں عمران خان کا برسر اقتدار آنا امریکہ اور یورپ کو ناگوار گزرا۔

عمران خان کا تین سالہ دور حکومت مشکل ترین دور حکومت تھا جس میں ہم نے بہت سے مواقعوں پر حکومت کو بے بس اور ناکام پایا۔پاکستانی عوام نے پہلی مرتبہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی کی زبان سے پاک فوج کے جنرلوں کے خلاف بدترین زبان بھی سنی اورعوام کو پاک فوج کے خلاف بغاوت کی حد تک اکساتے ہوئے بھی دیکھا۔یہ عمل نہایت ہی خوفناک تھا اور ملکی سالمیت و خود مختاری پر کھلم کھلا حملہ تھا اور عوام پریشان تھی اور ہے کہ ان ملک دشمن عناصر جو پچھلے 30 سال سے زائد عرصہ ملک کو لوٹتے رہے کی، اس باغیانہ سرگرمیوں پر ان کو کوئی پکڑتا کیوں نہیں ؟لیکن سال 2022 میں بیرونی طاقتوں کو معلوم ہو چکا تھا کہ عمران خان ان کے ایجنڈے کی تکمیل میں رکاوٹ ہے اور اسی دوران عمران خان نے روس کا دورہ کرنے کی ٹھان لی لیکن 7 مارچ کو ایک اور لیٹر لکھا گیا جس میں وزیر اعظم پاکستان اور ریاست پاکستان کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔اس لیٹر کے اگلے ہی دن وہ سب کچھ شروع ہو گیا جس کا ذکر اس دھمکی آمیز خط میں کیا گیا تھا۔وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک بالکل ویسے ہی لائی گئی جیسے اس خط میں لکھا گیا تھا۔نیشنل سکیورٹی کمیٹی اور پارلیمنٹ کی سکیورٹی کمیٹی بھی اس خط کو دیکھ اور پڑھ چکی ہے اور اس کے بعد پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ امریکی ناظم الامور کو دفترخارجہ بلواکر ڈیمارچےDemarcheکیاگیایعنی عمران خان کی حکومت نے اس خط پر امریکہ سے شدید احتجاج کیا۔اس لیے جو کہتے ہیں کہ خط میں کوئی حقیقت نہیں ،وہ جھوٹ بولتے ہیں۔پاکستان کی تاریخ میں سیاسی و ملکی افق پر نظر آنے والا یہ تیسرا خط ہے جس نے پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری پر کاری ضرب لگائی۔پہلا ذولفقار علی بھٹو والا،دوسرا آصف علی زرداری والا(میمو گیٹ)اور تیسرا اب والا جو بہت سنگین ہے اور اس کے بعد ملک میں موجود وہ سب سیاسی قیادت جو کھربوں کی کرپشن میں ملوث ہے، اقتدار سنبھالنے کو تیار دکھائی دے رہی ہے لیکن اس مرتبہ عوام کو کچھ اور ہی دکھائی دے رہا ہے۔اس کالم کو پڑھتے وقت نا معلوم سیاسی حالات کیا ہوتے ہیں لیکن ہفتہ شام کے بعد اگر وزیر اعظم عمران خان نے اس لیٹر کے پاکستانی کرداروں کے خلاف غداری کا مقدمہ نہ درج کیا تو پھر یہ بھی قوم سے زیادتی ہو گی۔ وزیر اعظم آپ کی پریشانی اور بے بسی تو سمجھ آرہی ہے لیکن اب آپ کوکچھ ایسا کر جانا چاہیے کہ بیرونی سامراجی طاقتوں کے ایجنڈوں کی تکمیل کرنے والے مستقبل میں یاد رکھ سکیں اور کہہ سکیں کہ جاتے جاتے وہ مجھے(اچھی)نشانی دے گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button