Columnمحمد مبشر انوار

بہت دیر کر دی !!! …… محمد مبشر انوار

محمد مبشر انوار

عام زندگی میں بالعموم بروقت فیصلے انسان کو بہت سی مشکلات سے بچا لیتے ہیں اور سیاست میں بالخصوص بروقت فیصلوں کی اپنی اہمیت مسلمہ ہے،جو کسی بھی سیاستدان کی سیاسی بلوغت کی نشاندہی کرتے ہیںتو اس کے ساتھ ساتھ کامیاب سیاسی زندگی کی ضمانت بھی دیتے ہیں۔ پاکستانی سیاسی پس منظر میں اس مسلمہ اصول کی حقیقت کیا ہے؟کیا ہم واقعتاً اس مسلمہ اصول پر پورا اترتے ہیں،بالخصوص اگر کوئی سیاسی رہنما بروقت فیصلہ کربھی لے،تب بھی کیا ایسے بروقت کئے گئے فیصلے اس کی کامیاب سیاسی زندگی کی ضمانت بن سکتے ہیں؟بدقسمتی سے اس کا جواب منفی میں ہی نظر آتا ہے کہ پس پردہ کچھ فیصلے کئے جا چکے ہوتے ہیں،جن کے باعث کسی بھی سیاسی رہنما کابروقت کیا گیا فیصلہ بھی اس کی کامیاب سیاسی زندگی کا ضامن نہیںبن پاتاکجا ایسی صورتحال کہ جس میں سیاسی رہنما وقت حاصل کرنے کے چکر میں فیصلہ کرنے میں تاخیر سے کام لے تو اس کی سیاسی زندگی کی کامیابی ممکن ہی نہیں۔پاکستانی سیاسی تاریخ میں سب سے طاقتور سیاسی رہنما شیخ مجیب الرحمن اور ذوالفقار علی بھٹو ہی گنے جاتے ہیں اور ان کی سیاسی بلوغت بھی بہرکیف دوسرے ہم عصر سیاستدانوں سے بہتر رہی ہے،لیکن دونوں رہنماؤں نے اپنی سیاسی زندگی میں چند ایسی غلطیاں بھی کیں، کہ جن کے باعث انہیں نہ صرف اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا بلکہ غیر فطری موت سے بھی ہمکنار ہوئے۔ قارئین کی اکثریت اس کی تفصیل سے واقف ہے کہ کس طرح ان رہنماؤں نے کیسے دباؤ کے تحت فیصلے کئے اور ان کے فیصلوں کے باوجود،ان کی سیاسی اننگز کا خاتمہ ،درپردہ فیصلوں کی نذر ہو گیا۔بدقسمتی سے پاکستانی سیاسی رہنماؤں اور پس پردہ قوتوں نے ان حقائق کا ادراک آج بھی نہیں کیا اور ہنوز اختیار کی جنگ میں پاکستانی بقا و ساکھ کو داؤ پرلگانے سے گریز نہیں کیا جا رہا۔ انا و شخصیت پرستی میں ڈوبی قوم کو مزید شخصیت پرست بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جا رہی اور حقائق کو مسخ کرنے کی روش سے گریز بھی نہیں کیا جا رہا۔
عمران خان بائیس سالہ جدوجہد کرنے کے بعد کس طرح اقتدار نشین ہوئے،کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ،اپنے دوراقتدار میں کس طرح حکومت کی،کن بیساکھیوں کو سہارا ان کو میسر رہا،آڑے وقت میں کون ان کی مدد کو آیا،اظہر من الشمس ہے اور سب پر واضح ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ عمران خان بھی اقتدار کے نشے میں اس تلخ حقیقت کو فراموش کر بیٹھے کہ ان کا موجودہ اقتدار ایسی بیساکھیوں پر ہے،جو کسی بھی وقت ان سے چھینی جا سکتی ہیںلیکن اس کے باوجود اقتدار کی خاطر سمجھوتے کرتے رہے۔ البتہ پنجاب کے حوالے سے انہیں بارہا کہا گیا کہ پنجاب کی قیادت کسی متحرک و فعال شخصیت کو سونپی جائے تا کہ سابقہ حکومتوں کا اثر زائل کیا جا سکے لیکن عمران خان ہر مرتبہ اس حوالے سے یقین دہانی تو کرواتے مگر عملی اقدام کرنے سے گریز کرتے رہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک پیج پر ہونے کی صورتحال بتدریج کم ہوتی چلی گئی اور پھر نوبت غیرجانبداری تک پہنچ گئی،واقفان حال بخوبی جانتے ہیں کہ غیر جانبداری کا مطلب قطعی غیر جانبداری نہیں ہوتا بلکہ حزب اختلاف کو یہ موقع فراہم کرنا ہے کہ اب وہ اپنا کھیل کھیل سکتے ہیں۔حزب اختلاف جو ایسے موقعوں کی تلاش میں رہتی ہے ،بھلا کیسے اس نعمت غیر مترقبہ کو ہاتھ سے جانے دے؟خصوصاً اس و قت جب اسے یہ بھی علم ہے کہ حکومت کی بنیاد ہی اتحادیوں کی وجہ سے ہے اور اسے سادہ اکثریت بھی حاصل نہیں،ویسے پاکستانی سیاسی صورتحال میں اب یہ کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے ممکن نہیں رہا کہ وہ سادہ اکثریت حاصل کر پائے کجا دو تہائی اکثریت میسر ہو۔طرہ یہ کہ 2018کے انتخابات میں عمران خان نے جن الیکٹ ایبلز کو اپنے ساتھ ملایا تھا،اس وقت بھی انہیں یہ مشورے دئیے گئے کہ یہ وہی الیکٹ ایبلز ہیں،جن کی کوئی سیاسی جماعت نہیں ماسوائے اقتدار پارٹی کے، اس لیے انہیں اپنے ساتھ شامل کرنے سے گریز کریں۔ تب عمران خان کا جواب تھا کہ میں اس قوم سے فرشتے کہاں سے لاؤں،جو اس سیاسی نظام میں رہتے ہوئے،ان سیاستدانوں کا مقابلہ کریں؟تب یہ دلیل بھی دی گئی تھی کہ اگر قائد ایماندار ہو،تو سب ٹھیک ہو جاتا ہے لیکن شو مئی قسمت کہ یہ سب دعوے،صرف دعوے ہی رہے اور ایک ایماندار قائد کے ہوتے ہوئے بھی جو اندھیر نگری مچی،اس کے چند حقائق ہی منظر عام پر آسکے لیکن ان کے خلاف قانونی کارروائی اور سزا و جزا کا عمل وقوع پذیر نہ ہو سکا۔صرف تفتیشی رپورٹس کو منظر عام پر لانا ،حقائق کو عوام کے سامنے رکھنے سے عوام کی داد رسی تو قطعی ممکن نہیں تھی،اس کے لیے عمران خان کو اپنے دعوے کے عین مطاق بلا امتیاز اور بے لاگ احتساب کرنا تھا،جو عمران خان نہ کر پائے۔ علاوہ ازیں!سول اداروں میں اصلاحات اور سیاسی اثرورسوخ کا خاتمہ بھی ممکن نہ ہوسکا۔

اس پس منظر میں جب عوام سابقہ حکومتوں کی کارکردگی سے متنفر تھی اور یہ توقع کر رہی تھی کہ ’’تبدیلی سرکار‘‘ واقعتاً کچھ کر کے دکھائے گی،تبدیلی سرکار نے سابقہ حکمرانوں کو دوبارہ زندگی دی اور وہ حکمران جنہیں اتنے مختصر وقت میں متحرک ہونے کا گمان نہیں تھا،وہ نہ صرف متحرک ہوئے بلکہ تبدیلی سرکار کے گرد گھیرا اتنا تنگ کردیا ہے کہ اب بچاؤ ممکن نہیں ۔جال کا تانا بانا بنا جاچکا ہے اورعملًا حکومت کا وجود کاغذوں میں بھی نہیں رہا کہ واضح عددی اکثریت اپوزیشن ظاہر کر چکی ہے،انتظار ہے کہ کب تحریک عدم اعتماد پر باقاعدہ ووٹنگ ہو اور باضابطہ و قانونی طریقے سے حکومت کو گھر بھیجا جا سکے، تاہم ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں آ چکی ہیں کہ وزیراعظم ہاؤس سے سامان پیک ہونا شروع ہو چکا ہے۔حکومت کی جانب سے معاملات کو سلجھانے کی کوششوں میں تاخیر تو ایک تلخ حقیقت ہے ہی، اہم ترین تلخ حقیقت یہ رہی کہ حکومت نے اول روز سے جوش میں ہوش کھو دیا اور ایسا رویہ اپنایا کہ مخالف تو ایک طرف،اتحادی بھی مسلسل شاکی رہے،معاہدوں کے باوجود ان معاہدوں پر عمل درآمد نہیں کیا گیااور اتحادیوں کو اپنے خلاف کرتے چلے گئے۔ اخلاقی رویہ کے حوالے سے بھی عمران خان غیر شائستہ زبان کا بے دریغ استعمال کرتے،خیر اس کا علم ساری دنیا کو ہے کہ کرکٹ کے زمانے سے ہی وہ ایسی زبان استعمال کرتے رہے ہیں،لیکن کرکٹ کے میدان میں بات میدان اور کپتان کے کھلاڑیوں تک محدود رہتی تھی جبکہ میدان سیاست کسی اور رویہ کا متقاضی ہوتا،اس کا حوالہ خود عمران خان نے اپنے ایک جلسے میں تقریر کے دوران حوالہ دے کر کیا۔یہ باتیں ہمارے سیاستدان کسی بھی صورت نہیں بھولتے اور ان کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ کامیابی اپنی خوبیوں کی بجائے،دوسروں کی خامیوں پر حاصل کی جائے(یہی عمران خان نے کیا) اور آج جب عمران خان بری طرح مشکلات کا شکار ہو چکے ہیں،کہیں سے بھی انہیں مدد کی امید نظر نہیں آرہی۔ البتہ سات مارچ کو بیرون ملک سے موصول ہونے والے دھمکی آمیز خط کی عمران خان اس وقت کلی طور پر تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے ترپ کا پتہ تصور کر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک،اس خط کے مندرجات نہ صرف اتنے قابل اعتراض ہیں کہ ان کی موجودگی میں ،تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف لائی جانے والی عدم اعتماد کی تحریک،یقینی طور پر زمیں بوس ہو سکتی اور اس کے غبارے سے نہ صرف ہوا نکل جائے گی بلکہ اس میں ملوث اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف سخت قانونی کارروائی بھی ممکن ہو سکے گی۔حقیقت یہ ہے کہ ابتداء میں اس خط کوکسی بھی حلقے کس جانب سے سنجیدہ نہیں لیا گیااور اسے صرف ایک بہانہ سمجھا ،عمران خان نے اس پر پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس،سکیورٹی اداروں ، عدالت اور صحافیوں کو اعتماد میں لینے کا کہا،تب بھی اس کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا۔ آخر میں عمران خان نے اس خط کو عوام میں ظاہر کرنے کا عندیہ دیا،تو اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جناب اطہر من اللہ نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت وزیراعظم کو اسے عام کرنے سے روک دیا۔ تھوڑی دیر پہلے چینی وزیر خارجہ نے اس حوالے سے یہ بیان دے کرکہ سرد جنگ والے داؤ پیچ استعمال کرکے چھوٹے ممالک کو نقصان پہنچانے نہیں دیا جائے گا، اس خط کی حقیقت پر مہر ثبت کر دی ہے ۔اس پس منظر میں اپوزیشن ،جو اس وقت عمران خان کو کوئی راستہ نہ دینے کے دعوے کر رہی ہے،اگر ادارے بھی اس خط پر قائل ہو گئے تو کیا اپوزیشن کے لیے محفوظ راستہ بچے گا؟گو کہ محفوظ راستے کے لیے ایک کھڑکی ہمیشہ کھلی رہتی ہے،جو ہمارے سیاستدانوں کو تازہ ہوا فراہم کرتی ہے،لیکن تادم تحریر یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ کھڑکی کھلوانے کے لیے فی الوقت عمران خان کو دشواری ہو رہی ہے لیکن اگر معاملات الٹ گئے ،بالخصوص جب نون لیگ رہنما میاں نواز شریف کے امریکی عہدیداروں سے رابطوں کا اعتراف بھی کررہے ہیں،تو کیا اپوزیشن کو بہت دیر کردینے کا احساس بھی ہو سکے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button