تازہ ترینجرم کہانیخبریں

3 طالبات نے توہین رسالت کا الزام لگا کر اپنے ہی مدرسے کی استاد کو قتل کر دیا

ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے انجم آباد میں مدرسے کے باہر توہین رسالت کا الزام عائد کرکے خاتون معلمہ کو قتل کردیا گیا۔

ڈی ایس پی صغیرگیلانی نے بتایا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والی اس واردات میں خاتون کو قتل کرنے والی بھی 3 خواتین ہیں۔

پولیس نے تینوں خواتین کو گرفتار بھی کرلیا ہے۔قتل ہونے والی خاتون مدرسے میں معلمہ تھیں۔ تینوں خواتین نے اس مدرسے سے ہی تعلیم حاصل کی تھی۔

ڈی پی او آفس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ قاتل کرنے والی خواتین نے مقتولہ پر توہین رسالت کا الزام عائد کیا اور ان پر مولانا طارق جمیل سے متاثر ہونے کا طنز بھی کیا۔

مدرسے کے باہر ہونے والی اس واردات میں دونوں کے درمیان بحث و تکرار ہوئی جس کے بعد مقتولہ کو چھری کے وار کرکے قتل کردیا۔

ڈی پی او کی جانب سے مزید بتایا گیا کہ دوران تفتیش ملزمان نے انکشاف کیا کہ ان کی ایک عزیزہ  نے خواب میں دیکھا کہ حضرت محمد  ﷺ نے اس کو بشارت دی تھی کہ یہ خاتون توہین رسالت کی مرتکب ہوئی ہیں اور ان کو قتل کردیا جائے۔ تینوں خواتین نے اس خواب کی تکمیل کے لیے یہ قتل کیا۔

طالبات اور معلمہ کا تعلق جنوبی وزیرستان سے ہے۔ تینوں خواتین سے آلہ قتل برآمد کرلئے گئے جن میں چاقو، چھری اور ڈنڈا شامل ہیں۔

گرفتار ہونے والوں میں 24 سالہ عمرہ امان، 21 سالہ رضیہ حنفی اور 17 سالہ عائشہ نعمانی شامل ہیں۔ مبینہ طور پر خواب دیکھنے والی 13 سالہ بچی کو بھی پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔

مقتولہ کے چچا کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے تفشیش شروع کردی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button