Column

وزیر اعظم کا دورہ روس ….. علی حسن

 علی حسن
پاکستان اور روس کے درمیان طویل عرصے تعلقات میں گرم جوشی نہیں رہی تھی۔ وزیر اعظم عمران خان ایسے موقعہ پر روس کا سرکاری دورہ کر رہے ہیں جب ایک طرف یوکرین پر روس نے حملہ کر دیا ہے اور بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے تو دوسریق طرف وزیر اعظم پاکستان کو بھی اپنے ملک میں حزب اختلاف کی جانب سے ایسے مسائل کا سامنا ہے جو حزب اختلاف کے خیال میں ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیابی کے ساتھ پیش کر کے ان کی حکومت ختم کراسکتی ہے۔ ملک کے اندر پائی جانے والی صورت حال بظاہر وزیر اعظم کے حق میں نہیں جاتی ہے لیکن روس میں بھی داخلی صورت حال یوکرین کی وجہ سے کشیدگی کا منظر پیش کر رہی ہے۔ یوکرین کے معاملہ پر پاکستان روس کو کچھ سمجھانے سے تو رہا لیکن روس کو یہ تو باور کرایا جا سکتا ہے کہ جنگ کی بجائے مذاکرات کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ بلاکوں کی سیاست کی وجہ سے پاکستان کو ماضی میں تاریخی طور پر نا قابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ پاکستان کو دو لخط ہونا انتہائی نقصان دہ ثابت ہوا تھا لیکن روس اس وقت بھارت کا اتحادی تھا اور امریکہ پاکستان کی مدد کو نہیں پہنچ سکا تھا۔ وزیر اعظم ضرور کہیں کہ پاکستان کسی کیمپ کی سیاست پر یقین نہیں رکھتا لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ سے بڑھتے ہوئے فاصلوں میں روس کی قربت کے ساتھ ساتھ چین سے مضبوط تعلقات کا اعادہ سفارتی محاذ پر پاکستان کے لیے تاریخی طور پر انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
پاکستان میں مبصرین وزیر اعظم کے دورہ روس کے حوالے سے منقسم رائے رکھتے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ وزیراعظم کا دورئہ روس طے کرنے سے پہلے روس یوکرین کشیدگی کو مدنظر رکھنا چاہئے تھا۔ اور لوگ سمجھتے ہیں کہ آج کے پاکستان کو جن مسائل کا سامنا ہے اس کے پیش نظر اس کی کوئی خاص اہمیت ہی نہیں ہے۔ البتہ بعض کا کہنا ہے کہ جیسے بھی حالات ہوں، حکومت کو تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ماضی میں امریکہ کاساتھ دینے پر پاکستان کو بہت نقصان ہوا ، لہٰذا اب ہم کسی بلاک کا حصہ نہیں بنیں گے ۔ روس کے ساتھ تعلقات بہترکرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ روس، چین اور امریکہ سمیت تمام طاقتوں کے درمیان تعاون انسانیت کے مفاد میں ہے۔بیرونی امداد کو ایک لعنت قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وجہ سے ملکوں کو غلط فیصلے کرنے پڑتے ہیں ۔ اس غیرملکی امداد کی وجہ سے اپنا نظام نہیں بناسکے، ایکسپورٹ نہیں بڑھا سکے،خود انحصاری نہیں رہی ۔ پاکستان کو گیس کی قلت کا سامنا ہے ۔ روسی کمپنی پر امریکی پابندیوں کی وجہ سے نارتھ ساﺅتھ گیس پائپ لائن تاخیر کا شکار رہی ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ ایران پر سے بھی پابندیاں ختم ہو جائیں۔وزیر اعظم پاکستان کے روسی صدر پیوٹن کے ساتھ ملاقات میں جس کا دورانیہ بھی بڑھا دیا گیا ہے، تین ارب ڈالرز کے مجوزہ منصوبے کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔روس کے سی پیک کا حصہ بن جانے پر بھی تبادلہ خیال ممکن ہے۔
پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان شہید نے روس کا دعوت نامہ ملنے کے باوجود امریکہ کا دورہ کرنے کو ترجیح دی۔ ایسا کیوں ہوا تھا یا کیا گیا تھا۔ پس منظر میں کیا عوامل تھے۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات نبھانے کے لیے پاکستان نے تمام اقدامات اور کوششیں کیں لیکن نتائج پاکستان کی توقعات کے بر عکس اس لیے نکلے تھے کہ جیسے پاکستان کے سابق صدر ایوب خان نے اپنی خود نوشت ” جس رزق سے پرواز میں آتی ہو کوتاہی “ میں لکھا ہے کہ پاکستان دوست چاہتا ہے ، آقا نہیں۔ یہ بات براہ راست امریکہ کے لیے تھی۔ بعد میں بھی ہر پاکستانی حکمران یہ کہتا رہا کہ ہمیں امداد کی بجائے ہمارے ساتھ تجارت میں اضافہ کیا جائے۔ جہاں تک سابقہ سوویت یونینروس اور پاکستانی حکمرانوں کے دوروں کا تعلق ہے تو وہ زیادہ کثرت سے نہیں ہوئے۔ پاکستانی وزیر اعظم، فوجی آمر، منتخب اور غیر منتخب صدور اور گورنر جنرل 3 مئی 1950 سے اب تک قریباً 43 بار امریکہ کا دورہ کر چکے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ3 اپریل 1965کو صدر ایوب خان نے ماسکو کا پہلا سرکاری دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران سوویت یونین نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالث کا کردار ادا کیا جس میں بھارت اور پاکستان کو تاشقند اعلامیہ پر دستخط کرنے کے قابل بنایا گیا تھا۔
سوویت اور پاکستان کے درمیان ہتھیاروں کا پہلا معاہدہ 1968 میں ہوا تھا جس پر بھارت کی جانب سے احتجاج کیا گیا تھا۔ 1970 میں جنرل یحییٰ خان بھی سابق سوویت یونین کا دورہ کر چکے ہیں۔ اس کے باوجود بھارت پاکستان کے خلاف سفارتی محاذ استعمال کرنے پر سرگرم تھا۔ پاکستان اور روس تعلقات میں کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوا جب سوویت یونین نے بھارت کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا۔ یہ ایسا وقت تھا جب بھارت پاکستان کے داخلی معاملات میں کھلی داخلت کر رہا تھا ۔ اس دفاعی معاہدے نے بھارت کے اس وقت کے حکمرانوں میں نئی امیدیں پیدا کر دی تھیں۔ بھارت نے پاکستان پر جنگ تھونپ دی اور پاکستان دو لخط ہو گیا تھا۔ اس معاہدے کے بعد بھی پاکستان کے حکمرانوں نے نامعلوم کیوں ایسے حالات پیدا ہونے دیے کہ جب روسی صدر پوڈ گرنی نے صدر پاکستان کو نومبر 71 میں لکھا تھا کہ شیخ مجیب الرحمان کو فوری رہا کیا جائے۔ صدر پاکستان نے روسی صدر کے خط کا جواب سفارتی آداب سے ہٹ کر دیا تھا۔ دوسرا موقعہ اس وقت آیا تھا جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پولینڈ کی قرار داد پر غور و فکر اور بحث کی بجائے پاکستان کے فوجی حکمران جنرل یحییٰ خان کی جانب سے نامزد وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے اجلاس میں قرار داد پھاڑ دی اور واک آوٹ کر گئے ۔ قرار داد پھاڑنے جیسے انتہائی قدم اور واک آوٹ کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ بعد میں جب سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا تو پاکستان ایک بار پھر روس کے خلاف استعما ل ہوا جس کے بعد پاکستان اور روس کے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ۔ امریکہ نے پاکستان کو روس کے خلاف ہر لحاظ سے استعمال کیا۔ خطے میں ہونے والے اس کھیل سے پاکستان کو کئی لحاظ سے نقصانات اٹھانے پڑے ہیں۔ پاکستانی حکمرانوں نے بہت تلخ حالات دیکھے ہیں ۔ اب حالات کا تقاضہ ہے کہ پاکستان بڑی طاقتوں کی دوستیوں پر انحصار کرنے کی بجائے اپنی ضرورتوں پر بھر پور توجہ دے۔ دنیا جہان کا درد اپنے سینے میں نہ رکھے۔ جس درد کی دوا ہی نہیں ملے اسے پالا ہی کیوں جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button