Column

اظہار رائے کی آزادی …..  مظہر چودھری

مظہر چودھری

چند روز قبل حکومت کی جانب سے جعلی خبروں کی نشرو اشاعت روکنے کے نام پر لایا گیا پیکا ترمیمی آرڈیننس © اب لاہور ہائی کورٹ میں بھی چیلنج کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے پیکا ترمیمی آرڈیننس کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا جس کی ابتدائی سماعت میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عوامی شخصیات کے لیے تو ہتک عزت قانون ہونا ہی نہیں چاہیے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ زمبابوے، یوگنڈا اور کانگو تک بھی ہتک عزت کو فوجداری قانون سے نکال رہے ہیں۔ عدالت نے احکامات جاری کیے کہ کسی شخص کی شکایت پر اس قانون کے حوالے سے پہلے سے طے کیے گئے ایس او پیز پر عمل درآمد کرتے ہوئے کسی شخص کی گرفتاری کو عمل میں نہ لایا جائے۔ واضح رہے کہ حکومت نے 20فروری کو پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) میں ترمیم و اضافہ کرتے ہوئے آرڈیننس جاری کیا تھا جس کے تحت نہ صرف پیمرا کے لائسنس یافتہ ٹی وی چینلز کو حاصل استثنیٰ ختم کر دیا گیا بلکہ جعلی خبر پھیلانے اور غلط معلومات نشر کرنے کو ناقابل ضمانت جرم قرار دے دیا گیا ہے۔پیکا ترمیمی آرڈیننس کے تحت اب جعلی خبر کی شکایت پر فوری گرفتاری عمل میں آ ئے گی اور اس معاملے کو فوجداری قانون کے تحت نمٹا جائے گا۔

نئے قانون کے تحت اب کوئی بھی شخص اپنی فہم کے مطابق ایف آئی اے کو شکایت کر سکتا ہے کہ فلاں شخص ، تجزیہ نگار اور اینکر نے سوشل میڈیایا مین سٹریم میڈیا پرفلاں بات لکھی یا کہی ہے جو کہ ریاست، فوج، عدلیہ یا کسی سیاست دان کے خلاف ہے توایف آئی اے اس شخص کوفوری گرفتار کر سکے گی ۔اس حوالے سے سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ اس فیک نیوز پھیلانے کے الزام میں گرفتار شخص کی ضمانت بھی نہیں ہو سکے گی۔جرم ثابت ہونے پر زیادہ سے زیادہ پانچ سال تک کی سزا اور دس لاکھ جرمانہ بھی ہوگا۔ میڈیا اور صحافتی تنظیموں کے علاوہ سول سوسائٹی اور قانونی ماہرین کی جانب سے بھی پیکا ترمیمی آرڈیننس کو غیر جمہوری اور اظہار رائے پر قدغن لگانے کی مذموم کوشش قرار دیا گیا ہے۔ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے کہا ہے کہ حکومت اور تمام اداروں کے نمائندگان یہ بات یاد رکھیں کہ عوام کے نمائندہ اور سرکاری ملازم ہونے کے ناتے شہریوں کے سامنے جواب دہی اور تنقید برداشت کرنا ان کی ملازمت کا حصہ ہے۔ ایچ آر سی پی کے مطابق یہ قانون سازی صرف غیر جمہوری ہی نہیںبل کہ اس کا استعمال ناگزیر طور پر حکومت اور ریاستی اداروں کے ناقدین کو روکنے کے لیے بھی کیا جائے گا“۔ صحافتی تنظیموں نے نئے قانون کو آزادی اظہار رائے کے قتل اور جمہوریت کو سبوتاژ کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ ملک میں ایسی کوئی ہنگامی صورت حال نہیں کہ اسمبلی کا اجلاس بلائے بغیر پیکا قانون میں ترمیم ناگزیر ہو جاتی۔
جدید جمہوری ریاستوں کے قیام کے بعدسے اظہار رائے کی آزادی کو بنیادی انسانی حقوق کی فہرست میں سرفہرست تصور کیا جاتا ہے۔ جدیدجمہوری معاشروں میںآزادی اظہار پرکسی بھی قسم کی قدغن لگانے کو دیگر تمام بنیادی حقوق پر قدغن لگانے کے مترداف سمجھا جاتا ہے یوں تو دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان کے آئین میں بھی شہریوں کو اظہار رائے کی آزادی کا حق حاصل ہے لیکن آئین کے آرٹیکل19میں اس حق کو مذہب ، سلامتی ،غیر ممالک کے ساتھ تعلقات ، توہین عدالت اور امن عامہ میں بگاڑ کے خدشے سمیت کئی چیزوں کے ساتھ مشروط کر کے کافی حد تک محدود کر دیاگیا ہے ۔ ویسے تو دنیا کے کئی دیگر ممالک میں بھی اظہار رائے کے بنیادی حق کو کسی نہ کسی حد تک حدود و قیود کا پابند بنایا گیا ہے لیکن امریکہ اور یورپ سمیت دنیا کی جدید جمہوری ریاستوں میں شہریوں کے رائے کے اظہار پر پابندیاں نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ دنیا کے کسی بھی معاشرے میں رائے کے اظہار کی ایسی آزادی کو پسندیدہ نہیں سمجھا جاتا جس سے دوسروں کی آزادی مجروح ہونے کا خدشہ ہو۔ مشہور برطانوی مفکر برٹرینڈرسل اپنے مضمون” آزادی اور معاشرہ“ میں فرد کی آزادی میں معاشرے کی مداخلت بارے رقم طراز ہیں۔”میں ان معاملات میں معاشرے کی مداخلت کو بالکل تسلیم نہیں کرتا جہاں ایک آدمی کے اعمال دوسرے آدمی کی آزادی پر کوئی اثر نہیں ڈالتے۔ اگر کسی سماج کی اکثریت کسی رائے کو پسند نہیں کرتی تو اس کو ہرگز یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ ان لوگوں کی رائے میں دخل اندازی کرے جو اس کو اچھا سمجھتے ہیں۔اسی طرح اگر کسی معاشرے کی اکثریت کسی حقیقت کو جاننا نہیں چاہتی تو اسے یہ حق حاصل نہیں کہ جو لوگ اسے جاننا چاہتے ہیں ، انہیں قید میں ڈال دے ۔“
فرد کے اظہار رائے کا حق میڈیا یعنی ذرائع ابلاغ کی آزادی کے بغیر ممکن نہیں۔ ماس میڈیا یا ذرائع ابلاغ انسان کے دو بنیادی حقوق یعنی جاننے کا حق اور رائے کے اظہار کے حق کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔یہ ماس میڈیا یا ذرائع ابلاغ ہی ہیں جن کی مدد سے ایک ملک یا دنیا کے مختلف حصوں میں بیٹھے ہوئے انسان اپنی رائے کا اظہار بھی کرتے ہیں اور دنیا بھر کی معلومات بھی حاصل کرتے ہیں۔لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ میڈیا کی آزادی دراصل انسان کے جاننے اور اظہار کرنے کے دو بنیادی حقوق کی پاسداری کی ضمانت مہیا کرتی ہے اور میڈیا پر پابندی یا قدغن دراصل ان دو بنیادی انسانی حقوق غصب کرنے کے مترادف ہے۔اظہار رائے اور جاننے کے حق کا استعمال روایتی (پرنٹ اورالیکٹرانک)میڈیا کے علاوہ بھی کئی ذرائع سے ہوتا ہے جن میں جلسہ، جلوس، ڈرامہ، فلم، ادب، شاعری، تقریر و تحریر اور سوشل میڈیا زیادہ اہم ہیں۔عام آدمی کے جاننے اور اظہار رائے کے حق کو یقینی بنانے کے لیے ان مذکورہ ذرائع کی آزادی بھی انتہائی ضروری ہے۔ موجودہ حکومت کے دور میں میڈیا کو مختلف ہتھکنڈوں سے قابو کرنے کے اقدامات کیے گئے۔ کہیں پرجان کی دھمکیوں کی بجائے کام بند کرانے کی دھمکیاں دے کر مطلوبہ مقاصد حاصل کر لیے گئے تو کہیں عملی طور پر کام بند کرا کے تنقید کرنے والوں کی زبان بندی کر دی گئی۔ کہیں قومی مفاد کے نام پر سرکاری بیانیے کی مخالفت کرنے والے نیوز چینلز کو کیبل پر غائب کر دیا گیا تو کہیںاخبارات کی ترسیل اور اشتہارات کی تقسیم پر اثر انداز ہو کر مخالف آوازوں کو خوش اسلوبی سے دبا دیا گیا۔پیکا ترمیمی آرڈیننس بھی سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا پر تنقیدی اور حکومت مخالف آوازوں کو دبانے کی کوشش ہے۔ قوی امید تو یہی ہے کہ عدالت اظہار رائے پرلگنے والی اس قدغن کو کالعدم قراردے دے گی کہ جمہوری ممالک میں آزادعدلیہ کے ہوتے ہوئے کوئی حکومت اظہار رائے پر ایسی قدغن لگانے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button