Column

کون سی تحریک عدم اعتماد ؟ ….. کاشف بشیر خان

کاشف بشیر خان

مختلف الخیال اپوزیشن نے تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتمادلانے کادعویٰ کیا تھا وہ تو لگتا ہے کہ اب ہوا میں اڑ چکا۔ پی ڈی ایم کی ماضی کی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے تو اسی دن لکھ دیا تھا کہ اول تو کرپشن زدہ اپوزیشن میں اتنا دم خم ہی نہیں کہ وہ تحریک عدم اعتماد لا سکے دوسرا یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے نکمی اور نالائق ترین اپوزیشن ہے کہ جسے امور مخالفت بھی سوائے الزامات کے کچھ نہیں آتے۔ جمہوریت میں کسی بھی حکومت کے خلاف جو بھی اپوزیشن ہوتی ہے اس کا مقصد حکومتوں کی کارکردگی اور پالیسیوں پر کڑی نظر رکھتے ہوئے اسے سیدھے راستے پر چلنے پر مجبور کرنا ہوتا ہے۔اپوزیشن کے اراکین یارہنماو ¿ں کا ذاتی ایجنڈہ کچھ نہیں ہوتااوراپوزیشن کاایجنڈا صرف اور صرف ملک وعوام کی فلاح ہوتا ہے۔محترمہ بینظیر بھٹو جب اپوزیشن کرتی تھیں تو ان کے مطمع نظر صرف عوام اور ناقص حکومتی پالیسیاں ہوا کرتی تھیں۔ اگر پاکستان کی 80 اور 90 کی دہائی کی سیاست پر نظر دوڑائیں تو اس تمام دور میں محترمہ بینظیر بھٹو کے ساتھ انتقامی کارروائیوں کی انتہا کی گئی لیکن بطور اپوزیشن لیڈر محترمہ نے بہت کم ان زیادتیوں پر واویلا مچایا بلکہ مجھے نہیں یاد پڑتا کہ کبھی محترمہ بینظیر بھٹو نے آصف علی زرداری اور اپنے ساتھ ہونے والی حکومتی انتقامی کارروائیوں پر رونا دھونا ڈالا ہو۔

پچھلے قریباً 4 سالوں میں اپوزیشن نے اپنی کرپشن سے چھٹکارا حاصل کرنے کی دہائیاں دینے کے علاوہ کسی بین الاقوامی یا قومی ایشو پر حکومت کو ٹف ٹائم نہیں دیابلکہ میں سمجھتا ہوں کہ شہباز شریف، مریم صفدر، بلاول بھٹو اور فضل الرحمن کی ان تمام ایشوز پر بات کرنے یا حکومت پر تنقید کرنے کے لیے مطلوب اہلیت اور تعلیم نہ ہونا ہی دراصل ان کی بدترین ناکامی بن کرسامنے آئی ہے۔قریباً چار سالوں میں اپوزیشن حکومت کا کوئی بھی مالی و کرپشن پر مبنی سکینڈل سامنے لانے میں بری طرح ناکام رہی ہے، دوسرا اپوزیشن میں موجود زرداری سمیت تمام شخصیات کو معلوم ہی نہیں کہ اپوزیشن کیا ہوتی ہے اور کیسے کی جاتی ہے۔2007 سے لیکر آج تک ان تمام اشخاص نے فرینڈلی اپوزیشن کے ساتھ حکومتیں کی ہیں اور یہ وہ حکومتیں تھیں کہ جن کے ایمپائر ان کے ساتھ ملے ہوتے تھے۔آصف علی زرداری نے ایک ترپ کا پتہ کھیلا اور شہباز شریف وغیرہ کو عدم اعتماد کی طرف لگا کر تماشا دیکھنا شروع کر دیا ہے۔رہی بات مولانا فضل الرحمان کی، تو وہ تمام عمر مفادات کی سیاست کرتے رہے ہیں اور بینظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت سے لیکر نوازشریف کے پچھلے دور تک ہر حکومت میں اقتدار پر مبنی مالی فوائد حاصل کئے ہیں اس لیے ممکنہ عدم اعتماد تحریک اول تو یہ پیش ہی نہیں ہو سکے گی اور اگر تحریک عدم اعتماد پیش ہو بھی گئی تو اس کی ناکامی میں کوئی شک ہی نہیں ۔جس اپوزیشن کو یہ ہی معلوم نہ ہو تو کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں ان کا ویر اعظم کون ہو گا اور حکومت میں آنے کے بعد ان کی ترجیحات کیا ہوں گی اس سے کیا امید لگانی۔؟

تحریک انصاف کی پنجاب اور مرکز کی حکومت کے فیصلوں اور ناکامیوں پر گہری نظر رکھنے کے باوجود مجھے تو 2018 سے لیکر اب تک کرپشن کا کوئی سکینڈل ایسا نہیں ملا کہ جس کی وجہ سے حکومت کو فارغ کر دیا جائے۔رہی بات آٹااور چینی سکینڈل کی، تواس میں شریف فیملی، ترین فیملی، زرداری و فریال تالپور فیملی، سید خورشید شاہ اور دوسرے سیاست دان شامل ہیں اور یہ کارٹل ہر حکومت میں اپنے کاروبار کے تحفظ کے لیے سیاسی وفاداری سے قطع نظر ہمیشہ ایک ہوتا ہے۔اس لیے اپوزیشن کا یہ کہنا کہ موجودہ حکومت آٹا اور چینی کے سکینڈل میں ملوث ہے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ تحریک عدم اعتماد سے بات شروع ہوئی تھی 1989 میں محترمہ بینظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا ڈول ڈالا گیا تو اس وقت بھی نواز شریف ہی اس تحریک کے سرغنہ تھے لیکن تمام حلقوں کی مخالفت اور کوششوں کے باوجود محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب نہ ہو سکی۔ کسی بھی حکومت کو گھر بھیجنے کے تین معروف طریقے ہیں۔پہلا طریقہ تحریک عدم اعتماد۔دوسرا طریقہ عوامی شدید ردعمل اور حکومت مخالف جلسے جلوس اور تیسرا طریقہ انتخابات میں شکست دے کر۔اب سوچنے کی بات ہے کہ پہلے دو طریقے تو موجودہ اپوزیشن کے بس کا روگ نہیں اور تیسرے طریقے میں ابھی ایک سال اور کچھ ماہ باقی ہیں۔آنے والے چند دنوں میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز وغیرہ اربوں کی منی لانڈرنگ کیس میں جیل جاتے دکھائی دے رہے ہیں کہ ان کیسوں سے بچاو ¿ ممکن ہی نہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت کا عوام کو صحت کارڈ مہیا کرنا ایک ایسا کام ہے جو عمران خان حکومت کی تمام تر ناکامیوں کے باوجود انہیں باقی تمام سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں ممتاز کر رہا ہے اور ویسے بھی اپوزیشن میں تمام پٹے ہوے مہرے ہیں جو اس ملک کے بنیادیں اپنی کرپشن سے ہلا چکے ہیں۔ اپوزیشن کے پاس صرف اور صرف پراپیگنڈا کی کچھ مشینیں ہیں جو انہیں سیاسی طور پر زندگی رکھے ہوئے ہیں وگرنہ ان کے دامن میں رسوائیاں ہی رسوائیاں ہیں۔

پنجاب میں گراں فروشی اور تھانہ کلچر کی موجودگی عوام کے لیے مسلسل درد سر ہے لیکن عوام کے پاس موجودہ حکمرانوں کے علاوہ دوسری کون سے آپشن ہے؟کیا وہ ماضی میں اس ملک کو لوٹنے والوں اور عوام کو گروہوں میں بانٹنے والوں کو دوبارہ منتخب کرنے کا رسک لے سکتے ہیں؟یہ ہے وہ سوال جو پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے بڑا اہم ہے۔کاش کہ موجودہ اپوزیشن عمران خان اور ان کے اتحادیوں کے خلاف کرپشن کا کوئی ایک ایسا ٹھوس ثبوت سامنے لا سکتی جیسے نواز، شہباز اور زرداری کی حکومتوں میں آئے دنوں سامنے آیا کرتے تھے۔آنے والے دنوں میں اپوزیشن کا حجم گھٹتا ہوا دکھائی دے رہا ہے کہ یہ سزاو ¿ں اور جیلوں کا ڈر، ان کو اکٹھا کیے ہوئے ہے اور لاہوری چھوٹے میاں کے جیل جانے کے بعد تحریک انصاف ہو گی اور ان کا بقیہ ایک اور چند ماہ کا عرصہ حکمرانی۔رہی بات تحریک عدم اعتماد کی تو وہ اس اپوزیشن کے بس کی بات نہیں کہ ان کے قریباً تمام رہنماو ¿ں کے جسموں کے بال بال کرپشن میں لتھڑے ہوئے ہیں۔عوام کو کبھی لانگ مارچ اور کبھی تحریک عدم اعتماد لانے کے دعوے صرف لہو گرم رکھنے اور عوام میں سیاسی طور زندہ رہنے کی ناکام کوششوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ شریف برادران کے نمک خوار میڈیا میں بیٹھ کر جھوٹ کی مشینیں چلا رہے ہیں جبکہ تحریک انصاف کی حکومت کے چند اچھے کاموں کو عوام تک پہنچانے والوں کی تعداد آٹے میں نمک سے بھی کم ہے۔حکومت وقت کو اس بارے فوری سوچنا ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button