Column

خواتین کی عفت اور پاکستان کی سیاست ….. سی ایم رضوان

 سی ایم رضوان

پاکستان کی سیاست اور سیاسی بحث کا معیار بذات خود ایک قابلِ بحث موضوع ہے۔ سیاسی بحث کس طرح ہونی چاہیے۔ اس کے آداب و ضوابط کا خیال کیسے رکھنا چاہیے اور اس کی حدود کیا ہیں، اس پر اکثر بات ہوتی ہے۔ اکثر ایک دوسرے پر رکیک حملے کیے جاتے ہیں اور ذاتی اور نجی معاملات کو سیاسی بحث میں گھسیٹ کر لایا جاتا ہے لیکن ایک مسئلہ ایسا ہے جو سیاسی بحث اور بیانیے کو باقی خرابیوں سے زیادہ داغ دار کرتا ہے۔ اسے انگریزی میں میسوجنی کہتے ہیں یعنی ایسا بیان یا اقدام جو صنفی بنیادوں پر خواتین سے نفرت اور تعصب پر مبنی ہو۔پاکستان کے بانی محمد علی جناحؒ کی بہن محترمہ فاطمہ جناح نے جب جنرل ایوب خان کے مقابلے میں انتخابات میں حصہ لیا تو ان پر کئی الزامات لگائے گئے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ جنرل ایوب خان نے ان کے بارے میں دو ایسے الفاظ بھی کہے تھے جو پوری طرح سے خواتین سے نفرت اور تعصب کے زمرے میں آتے ہیں۔ میڈیا آزاد نہیں تھا لہٰذا اگر کہیں مذمت ہوئی بھی ہو گی تو سامنے نہ آ سکی لیکن ایسے الزامات کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔ بے نظیر بھٹو اور ان کی والدہ نصرت بھٹو کے خلاف تو صنفی بنیادوں پر کردار کشی کی پوری مہم تاریخ کا حصہ ہے۔ اب بھی خواتین سیاسی رہنما اور کارکن اس رویے کی زد میں رہتی ہیں۔

کئی لڑکیاں جنہیں سیاست میں دلچسپی تھی اور وہ باقاعدہ طور پر سیاست میں حصہ لینا چاہتی تھیں صرف مردوں کے مجموعی رویے کی وجہ سے سیاست سے دور ہو گئیں اور مردوں نے بڑی آسانی سے یہ سمجھ لیا ہے کہ سیاست صرف مردوں کا کام ہے۔ یہ تو عام طور پر لڑکیوں کو کہا جاتا ہے کہ آپ کا یہاں کیا کام ہے، آپ کی تو کچھ عرصے میں شادی ہو جانی ہے۔ اس کے باوجود بھی اگر کوئی لڑکی آگے بڑھنے لگتی ہے تو کئی مردوں کی انا کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ نوجوان لڑکیوں کے لیے سیاست میں بہت نچلی سطح سے ہی مزاحمت شروع ہو جاتی ہے اور یہ سلسلہ اوپر تک جاتا ہے۔ خواتین کے لیے مردوں کے مقابلے میں کھلا سیاسی میدان نہیں ہے۔خواتین کے کردار اور جسمانی خدوخال پر تبصرے ہونا عام سی بات ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس طرح کی گفتگو بہت نارمل ہے کہ فلاں خاتون سیاستدان فلاں بڑے سیاستدان کے ساتھ تعلقات کی بنا پر سیاست میں آئی اور کامیاب ہوئی ہے۔ چند سال قبل پاکستان تحریکِ انصاف کے دھرنوں میں شرکت کرنے والی خواتین کے بارے میں بھی جو زبان استعمال کی گئی وہ بھی انتہائی نامناسب تھی۔
آج بھی صورتحال کوئی زیادہ خوش کن نہیں۔ ابھی بھی جب کسی خاتون سیاستدان کے بارے میں ان کی صنف کی بنیاد پر کوئی بری یا متعصبانہ بات کہی جاتی ہے تو معاشرے میں عمومی طور پر یہی کہا جاتا ہے کہ سیاست میں آئی ہیں تو یہ سننا پڑے گا۔گوکہ سوشل میڈیا پر کچھ لوگ، کچھ ایکٹیوسٹ یا خواتین کے حقوق کی تنظیمیں ضرور اس رویے کی مذمت کرتی دکھائی دیتی ہیں لیکن سیاستدانوں کا ایک دوسرے پر نکتہ چینی کرنا معمول کی بات ہے مگر خواتین سیاستدانوں کو اپنے خلاف نفرت پر مبنی اور متعصبانہ بیانات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جو سیاست کے ذہنی دبا ¶ کے دوران خواتین سیاستدانوں کے لیے ایک اضافی بوجھ ہے۔ بعض مرد سیاستدانوں کی جانب سے خواتین سیاستدانوں کے بارے میں ان کی جنس کی بنیاد پر جملے کسنے کا مقصد ان کے حوصلے پست اور ذہنی طور پر انہیں کمزور کرنا ہوتا ہے۔
اگر پاکستان کی تاریخ میں مزید پیچھے جائیں تو پاکستان کے پہلے وزیراعظم کی اہلیہ بیگم رعنا لیاقت علی کو بھی خاتونِ اول ہونے کے باوجود کئی باتیں سہنی پڑیں۔ وہ ساڑھی پہنا کرتی تھیں جس پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کی شخصیت اور فلاحی کاموں کے بجائے ان کے لباس پر بات کی گئی۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو خواتین کو سیاسی میدان میں برابری کی بنیاد پر مقابلے کا موقع نہیں ملتا کیونکہ انہیں اپنی ذات کے بارے میں ہر وقت ایک پریشانی اور دبا ¶ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 80 اور90 کی دہائی میں بے نظیر بھٹو کو آئے روز ایسے بیانات اور جملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ اپنے آپ کو بے نظیر بھٹو کہلواتی تھیں لیکن ان کے سیاسی مخالفین انہیں بے نظیر زرداری کہتے تھے۔ بے نظیر کو اپنی سیاسی جدوجہد میں ہر وقت ایک اضافی خطرے کا سامنا رہتا تھا اور ایک خاتون ہونے کے ناطے محتاط رہنا پڑتا تھا جبکہ ان کے مدِمقابل مرد سیاستدان ایسی کسی پریشانی کا شکار نہیں تھے۔ اس لیے میدانِ سیاست میں مقابلہ برابر کا نہیں تھا لیکن پھر بھی انہوں نے اپنے مخالفین کو شکست دی۔اپنی وزارتِ عظمیٰ کے دوران وہ بچوں کی پیدائش کے مرحلے سے بھی گزریں اور وزیراعظم کی حیثیت سے اپنے فرائض بھی انجام دیئے لیکن اس پر بھی تعریف کے بجائے بعض لوگوں کی جانب سے تمسخر کا نشانہ بنیں۔ خواتین سیاستدانوں کی مشکلات کسی ایک جماعت تک محدود نہیں بلکہ یہ مسئلہ اکثر سیاسی جماعتوں میں موجود ہے۔
حال ہی میں گلگت بلتستان کے انتخابات میں مریم نواز کے بارے میں ایک وفاقی وزیر نے باتیں کیں اور جلسہ گاہ میں حاضرین نے قہقہے لگائے۔ بہت سے لوگوں کا ایسے بیان پر خوش ہونا ظاہر کرتا ہے کہ معاشرے میں بڑی تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں جو ان باتوں پر چسکے لیتے ہیں اور سیاسی بحث میں ایسے بیانات کی گنجائش موجود ہے۔ وہ خود کو مریم نواز کہلوانا پسند کرتی ہیں تو کسی کو یہ حق نہیں کہ انہیں مریم صفدر کہے لیکن ان کے کئی مخالف سیاستدان صرف سیاسی چسکے اور انہیں نیچا دکھانے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ شیریں مزاری، شیری رحمان اور فردوس عاشق اعوان سمیت کئی خواتین سیاستدانوں کے خلاف تمسخر آمیز بیانات پاکستان کی سیاسی بحث کو پستی میں دھکیلنے کی واضح مثالیں ہیں۔ جن لوگوں کو یہ بیانات یاد ہوں گے انہیں یہ بھی معلوم ہو گا کہ ان بیانات کا ان خواتین کی سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
خواتین کے خلاف نفرت اور تعصب کی جڑیں طبقاتی نظام میں بھی بہت گہری ہیں۔جب کوئی خاتون سیاست میں قدم رکھتی ہے تو بہت سے لوگوں کے لیے وہ اپنے روایتی کردار سے باہر آتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس کا یہ کام نہیں کہ وہ کسی سیاسی جماعت میں جائے یا کسی بھی سطح پر قیادت کرے۔ بہت سے مردوں کے خیال میں وہ اپنے سماجی کردار سے تجاوز کرتی ہیں ۔خواتین سیاستدانوں کے خلاف اس رویے کی جڑیں معاشی اور طبقاتی تضادات میں موجود ہیں۔ ان تضادات کے خاتمے کے لیے مثبت اور مخلصانہ کوشش آج اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہم خود کو جمہوری اور مہذب معاشرہ کہتے ہیں۔ تاہم سماجی دبا ¶ کے سامنے خواتین سیاستدان جتنا جھکیں گی انہیں اتنا ہی زیادہ جھکایا جائے گا۔سیاستدان خواتین حتیٰ کہ سیاستدان گھرانوں کی خواتین کو اب پہلے سے زیادہ ہمت کے ساتھ سیاست میں موجود اس گندی روایت کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہے اور اس نظریہ سے کرنا ہے کہ ایسے لوگوں کا مقابلہ ایک انسان خاموشی سے ہی کرسکتا ہے۔ یہ بات بھی حوصلہ افزا ہے کہ پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں اب زیادہ خواتین نظر آ رہی ہیں۔ ایسے علاقوں سے بھی خواتین انتخابات اور سیاسی عمل کے ہر شعبے میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں جو بہت قدامت پسند سمجھے جاتے ہیں۔ ملک کے قوانین بھی میدانِ سیاست میں اترنے میں خواتین کے لئے مددگار ثابت ہو رہے ہیں لیکن خواتین کے خلاف صنفی بنیادوں پر متعصبانہ رویے آج بھی پوری طرح موجود ہیں ۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے سیاست میں خواتین کی زیادہ سے زیادہ شمولیت ہی اس مسئلہ کا حل ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button