Column

شکریہ گورنر صاحب!!! …… محمد مبشر انوار

محمد مبشر انوار
پندرہ فروری کی شب موبائل فون کی گھنٹی بجی،دیکھا تو پاکستان سے نامعلوم نمبر سے کال آ رہی تھی ،ایسا بہت کم ہوا ہے کہ پاکستان سے کوئی براہ راست فون کرے،بہرکیف فون اٹھانے پر ایک خوشگوار حیرت کا سامنا ہوا کہ دوسری طرف محترم عابد قمر،ترجمان اعلیٰ گورنر سٹیٹ بنک آف پاکستان کی میٹھی و نرم آواز سنائی دی۔ تعارف کرواتے ہوئے فرمانے لگے کہ گورنر سٹیٹ بنک آف پاکستان ڈاکٹر رضا باقر نے آپ کا نمبر دیا اور ہدایت کی ہے کہ آپ کو جو معلومات درکار ہیں،وہ تفصیلاًفراہم کی جائیں۔قارئین !یہاں واضح کرتا چلوں کہ رضا باقر اپنی ٹیم کے ہمراہ گذشتہ دنوں سعودی عرب کے دورہ پر تھے ،جہاں اُن کی دیگر مصروفیات کے علاوہ سفارتخانہ پاکستان ریاض میں تارکین وطن کے ساتھ روشن ڈیجیٹل اکاو ¿نٹ پر ایک تعارفی تقریبسیمینار تھا،جس میں ارشد بھٹی ڈائریکٹر سٹیٹ بنک آف پاکستان نے روشن ڈیجیٹل پاکستان کے حوالے سے تفصیلی خطاب کرتے ہوئے،اِس اکاو ¿نٹ کی خصوصیات و سہولیات پر روشنی ڈالی تو رضا باقر نے بعد ازاں تارکین وطن کے اعتماد پر تفصیلی گفتگو کی۔
سفارتخانہ پاکستان کا ہال،تمام شعبہ ہائے زندگی کے افراد سے بھرا ہوا تھا،جس میں سابق سفیر پاکستان بلال اکبر،سفارتخانہ کے عملہ بالخصوص رانا محمد معصوم ،سہیل بابر وڑائچ اور اظہر ڈاہر کی کاوشیں شامل حال رہیں جبکہ دیگر سفارتی عملہ کا تعاون بھی پس پردہ بہر طور شامل رہااور کامیاب تقریب کا انعقاد ہوا۔ تقاریر کے بعد سوال وجواب کے دوران مختلف افراد نے اپنی مشکلات کا ذکر کیا تو وہیں بہت سے افراد نے اِس اکاو ¿نٹ کے حوالے سے اپنے تجربات کا ذکرتے ہوئے کئی ایک قابل عمل تجاویز گورنر کو پیش کیں،جن کو گورنر نے نہ صرف خوشدلی سے سنا بلکہ ان تجاویز کو سراہتے ہوئے اپنے ساتھیوں کو اُن تجاویز پر جامع پروگرام مرتب کرنے کی ہدایت بھی دی۔ظاہری سی بات ہے کہ ایک خیال کو بروئے کار لانے میں کیا کیا مراحل سامنے آتے ہیں،جب تک اُن تمام مراحل کی جزئیات پر بغور جائزہ نہ لے لیا جائے،اُن پر عملدرآمد ممکن نہیں ہوتا اور اس کے لیے وقت درکار ہے تا کہ ایک عام خیال کو عملی جامہ پہنانے سے قبل اُس کے خدوخال کو مزید نکھارا جائے اور اُسے قابل عمل بنا کر پیش کیا جائے۔ ویسے تو بالعموم ہر کاروباری تخیل میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی و بہتری ممکن رہتی ہے جیسا کہ روشن ڈیجیٹل اکاو ¿نٹ کے حوالے سے گورنر اور اُن کی ٹیم مسلسل کاوشیں کر رہی ہے،جو لامحالہ تارکین وطن کو سہولت پہنچانے کے لیے ہی ہے۔ ڈاکٹر شہباز(غالباً)نے انتہائی عمدہ طریقے سے روشن ڈیجیٹل اکاو ¿نٹ کے مختلف پہلوو ¿ں پر انتہائی سیر حاصل گفتگو اور تجاویز دیتے ہوئے ،گورنر سٹیٹ بنک کو اپنا گرویدہ بنا لیا اور گورنر نے اظہار خیال کرتے ہوئے یہاں تک کہا کہ ڈاکٹر ،دیکھتے ہیں کہ اگر آپ کو سٹیٹ بینک کا اعزازی نمائندہ بنایا جا سکتا ہے یا نہیں،تا کہ ڈاکٹر سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوںکی روشن ڈیجیٹل اکاو
نٹ کے حوالے سے رہنمائی کر سکیں۔
اِس تقریب میں ہم بھی مدعو تھے لیکن سفارتخانہ کی جانب سے میڈیا نمائندگان سے بوجوہ سوال لینے کی پابندی تھی کہ سفارت خانہ کی خواہش یقینا یہ رہی ہوگی کہ کمیونٹی ممبرز زیادہ سے زیادہ سوال و جواب میں شرکت کر سکیں،اِس لیے میڈیا نمائندگان میں سے کسی کو بھی سوال کرنے کی اجازت نہیں ملی۔تاہم میڈیا نمائندگا ن نے کوشش کی کہ کسی طرح گورنر سے وقت حاصل کیا جا سکے اور اس کوشش میں مجھ سمیت چند ایک دوستوں نے کھانے کی میز پر رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن بہت زیادہ تفصیلی گفتگو ممکن ہی نہ تھی۔ راقم نے بھی کوشش کی کہ گورنر سے کچھ رہنمائی لے سکوں اور میں بھی دیگر دوستوں کی طرح کھانے کی میز پر گورنر کو اکیلا دیکھ کر لپکا اور جھٹ سے اپنا سوال اُن کے سامنے رکھا۔ گورنر سے پوچھنے کے لیے تو بہت کچھ تھا لیکن صرف اتنا ہی پوچھ سکا کہ روپے کی گرتی ہوئی قدر پر سٹیٹ بنک کس طرح قابو پائے گا،جواب میں گورنر نے بتایا کہ ڈالر کی قدر مارکیٹ فورسز طے کرتی ہیں،اِس لیے ہم وہ ماحول بہتر کرنے کی کوششوں میں ہیں۔ مزید سوال کرنے لگا تو ساتھ بیٹھے سفیر محترم جناب بلال اکبر نے فرمایا کہ گورنر کی اگلے دن صبح سات بجے فلائٹ ہے اور وہ گذشتہ تین دنوں سے ایسے سوالات کے جواب دے رہے ہیں،لیکن اب انہیں کھانا،کھانے دیں۔سفیر محترم نے ایک میزبان کی حیثیت سے گورنر کو کھانے کے لیے مناسب وقت تو ضرور لے دیا لیکن ایک میڈیا پرسن کی تشنگی باقی رہ گئی۔
اِس تشنگی کی تشفی بھی بہرحال ہو گئی کہ میں اپنا سوال (جسے اپنے تئیں انتہائی اہم سمجھتا تھا)کسی طرح گورنر تک پہنچانے کا موقع مل ہی گیا،میرا سوال یہ تھا کہ آئی ایم ایف سے ایک بلین ڈالر لینے کے لیے ،پاکستان کو کتنے پاپڑ بیلنے پڑ رہے ہیں اور قومی خزانے میں ذخائر دکھانے کے لیے پاکستان کو برادر ملک سے سخت شرائط پر تین ارب ڈالر کی رقم رکھوانی پڑی ہے،کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ پاکستان آئی ایم ایف سے قسط کی بجائے،اُس برادر ملک سے ایک بلین ڈالر قرض لے کر اپنا کام چلا لیتا اور دہری ادائیگیوں سے بچ جاتا،بالخصوص اُس وقت جب روشن ڈیجیٹل اکاو ¿نٹ میں ساڑھے تین بلین ڈالر کے قریب رقم موجود ہے، یہ سوال گورنر تک 8فروری کو پہنچ چکا تھا لیکن یقینی طور پر اپنی شدید مصروفیات کے باعث،اُنہیں ممکنہ طور پر یاد نہ رہا ہو گا یا وہ بذات خود جواب دینا چاہ رہے ہونگے تاہم جو بھی صورتحال رہی،ترجمان اعلیٰ گورنر کے فون سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ہوئی دیر تو سبب بھی ہو گا لیکن اُنہوں نے وضاحت دینا بہرطور ضروری سمجھا۔ عابد قمر نے سوال دوبارہ پوچھا اور جواباً کہا کہ آپ کے سوال کے دو حصے ہیں پہلا یہ کہ آئی ایم ایف سے ایک بلین ڈالر کی قسط ہی ضروری کیوں؟ تو اِس کا جواب یہ ہے کہ پاکستان نے اپنی مالیاتی مدد کے لیے آئی ایم ایف کا پروگرام حاصل کیا ہوا ہے اور جب کوئی بھی ملک آئی ایم ایف کا امدادی مالیاتی پروگرام حاصل کرتا ہے تو آئی ایم ایف اپنی شرائط کے ساتھ اُس ملک کی مدد کرتا ہے تا کہ وہ ملک اپنے مالیاتی بحران سے نکل جائے۔سوال کا دوسرا حصہ دوطرفہ قرضہ جات کا حصول ہے اور کیا پاکستان برادر ملک سے ایک بلین ڈالر لے کر اپنی مالیاتی مجبوری کو پورا نہیں کرسکتا تھا؟آئی ایم ایف ایک ایسا مالیاتی ادارہ ہے،جس کی طرف دنیا بھر کے مالیاتی اداروں کی نظر رہتی ہے اور آئی ایم ایف ہر سال سب ممالک کی معاشی حیثیت کا تعین یا ریٹنگ جاری کرتا ہے،یہ ممکن نہیں کہ پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام کا حصہ رہتے ہوئے اپنے مالیاتی بحران کو کسی دوسرے ذریعے سے حل کرنے کی کوشش کرے اور آئی ایم ایف کے پروگرام کو ادھورا چھوڑ دے۔ ایسی صورت میں آئی ایم ایف کے پاس جو اختیارات ہیں،اِن کے باعث پاکستان کی معاشی ریٹنگ انتہائی خراب اور پاکستان کی ساکھ عالمی برادری میں،گمان سے کہیں زیادہ خراب ہو سکتی ہے،اِس صورت میں جو مالی مشکلات درپیش ہو سکتی ہیں ،اُن کا اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا۔
عابد قمر کے اِس جواب پر مجھے خود یہ احساس ہوا کہ واقعی آئی ایم ایف کے پاس اتنے اختیارات و وسائل تو ہیں کہ وہ پاکستان کی مشکیں ایک لمحہ میں باآسانی کس سکتا ہے اور درپردہ نہ صرف آئی ایم ایف بلکہ کئی دیگر اداروں و طاقتوں کے علاوہ پڑوسی ملک کی یہ شدید خواہش ہے کہ کسی طرح پاکستان کو منہ کے بل گرایا جائے،اِس کی مشکیں کسی جائیں،اِس کی مالیاتی نکیل اتنی سخت کردی جائے کہ یہ مسلسل معاشی آئی سی یو پر رہتے ہوئے،اُن عالمی مالیاتی اداروں کے زیر نگین رہے۔ علاوہ ازیں!عابد قمر نے یہ بھی فرمایا کہ روشن ڈیجیٹل اکاو ¿نٹ میں موجود سرمایہ تارکین وطن کا ہے،جس کو وہ ذخائر میں ظاہر نہیں کرسکتے(جو میں سمجھا)اِس لیے پاکستان کو برادرملک سے قرضہ حاصل کرنا پڑا۔ تاہم اِس کے باوجود میرے ذہن میں موجود خلش ہنوز باقی ہے کہ ایسا کوئی بھی کمرشل بنک نہیں جو اپنے صارف کی رقم سے کاروبار نہ کرتا ہو،اِس رقم کواپنے اثاثہ جات میں ظاہر نہ کرتا ہو،اِس رقم سے اپنے کلا ئنٹس کو قرض نہ دیتا ہوبلکہ پاکستان میں تو اکثر صارفین کی رقوم پر ایسے ہاتھ صاف ہوتا ہے کہ الامان الحفیظ،کیا ہماری اشرافیہ اِن کمرشل بنکوں سے قرض لے کر ڈکار نہیں مارتی؟کیا وہ بنکوں کا ذاتی پیسہ ہوتا ہے جسے وہ اپنے اثاثہ جات ظاہر کرتے ہیںیا اشرافیہ کے ہاتھ لٹا دیتے ہیں؟
آئی ایم ایف پروگرام لیتے ہوئے ،ایک بات یقینی ہوتی ہے کہ اِس قرض پر شرح سود باقی تمام عالمی مالیاتی اداروں سے قدرے کم تو ہوتی ہے لیکن اُس کی دیگر شرائط انتہائی سخت ہوتی ہیں۔ آئی ایم ایف بنیادی طور پر کمزور معاشی ممالک کو قرض دے کر،اُن ممالک کی معیشت میں اصلاحات کا تقاضہ کرتا ہے تا کہ مہذب اقوام کے طور طریقے اپنا کر یہ ممالک وقتی طور پر اپنی گرتی معیشت کو سہارا دے لیں لیکن اِس کے ساتھ ساتھ اُن اصلاحات کو ضرور نافذ کریں کہ جن کی بدولت حکومتی آمدن میں اضافہ ہو سکے۔ اُن اصلاحات میں سب سے بنیادی عنصر دستاویزی کاروبار کا ہے کہ جو بھی کاروبار ہو اُس کے دستاویزی ثبوت لازم ہوں تا کہ معاشی حجم کا صحیح اندازہ حقائق کا علم حکومت کو ہو سکے۔بدقسمتی سے پاکستان میں دستاویزی کاروبار کی ہمیشہ سے ہی شدید مخالفت کی جاتی رہی ہے اور کاروباری طبقہ کسی بھی صورت اپنے کاروباری حجم کے حقائق حکومت کو بتانے سے گریزاں رہتا ہے کہ اُس کی کئی ایک وجوہ اور رکاوٹیںہیں ،جس میں سب سے پہلی وجہ اوررکاوٹ انکم ٹیکس کاادارہ بذات خود ہے کہ اُس کے اہلکاروں کی لوٹ مار اور بددیانتی زبان زد عام ہے اور ہر کاروباری شخص اُس سے ہراساں نظر آتا ہے۔ اہلکاروں کا یہ وتیرہ ہے کہ جو کاروباری بھی ٹیکس دینا چاہتا ہے،اُس کا تخمینہ ہی اتنا زیادہ لگایا جاتا ہے کہ وہ اُس تخمینے سے ہی گڑبڑا جاتا ہے اور اگر کوئی نیک نیتی کے ساتھ ،اِس بددیانتی کے باوجود،ٹیکس دینے کے لیے تیار ہو ہی جائے تو اگلے برس اُس کا تخمینہ مزید کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے اور بالآخر وہ شخص کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے اہلکار سے ہی اُس ٹیکس سے چھٹکارے کی تراکیب دریافت کرتا نظر آتا ہے۔ سابقہ چیئرمین بورڈ آف ریونیوشبر زیدی اپنے متعدد انٹرویوز میں یہ بات ببانگ دہل کہہ چکے ہیں کہ انکم ٹیکس کے موجودہ نظام کے تحت ،حکومتی ذرائع آمدن بڑھانے کی کوئی بھی سبیل ممکن نہیں ،جب تک اُس کا عملہ ٹھیک نہیں ہوتا۔ فیٹف کی جانب سے بھی دستاویزی کاروبار کی شرائط پرزور دیا جا رہا ہے لیکن حکومت اپنی تمام تر کوشش کے باوجود اِس میں ناکام نظر آتی ہے۔
بہرکیف یہ تو وہ حقائق ہیں کہ جن کا ذکر عابد قمر کے نہ کرنے کے باوجود ساری دنیا کو علم ہے ،علاوہ ازیں جو شرائط آئی ایم ایف کی طرف سے لاگو ہیں ،اُن میں ریاستی زبوں حال بلکہ تباہ حال اداروں کی نج کاری ہے،جو مبینہ طور پر ریاستی وسائل پر بوجھ بنے ہوئے ہیں۔اُن اداروں میں سرفہرست پی آئی اے،سٹیل مل وغیرہ ہیں لیکن واقفان حال اِس سے بخوبی واقف ہیں کہ اِن اداروں کی تباہ حالی میں کن عناصر کا کیا کردار رہا ہے، بالخصوص سٹیل مل تو ایک ایسا ادارہ رہا ہے جو چند سال قبل تک حکومت کو سالانہ خطیر منافع دیتا رہا ہے مگر جب حکمرانوں اور سٹیل مل میں کاروباری تضاد آیا،تو ذاتی کاروبار تو دن دگنی رات چوگنی ترقی کر گیا لیکن بدقسمتی سے سٹیل مل کی حالت انتہائی خستہ حال کر دی گئی۔ کچھ ایسی ہی صورتحال پی آئی اے کے ساتھ دیکھنے کو ملی کہ جب حکمرانِ وقت کی ذاتی ائیر لائن میدان عمل میں آئی تو پی آئی اے کی ساکھ کے ساتھ کیسا کھلواڑ کیا گیا،اُس کے روٹ بند کروا کر اپنی ائیر لائن کے لیے اُن روٹس کا پرمٹ مانگا گیا،اُس کے طیاروں میں کیاکیا بھیجا گیا اور کیسے برطانیہ میں پی آئی اے کے کیرئیر کی تلاشی ہوئی اور اُس میں سے کیا کچھ برآمد ہوا؟حیرت ہے کہ ستر سالوں میں تو پی آئی اے کی ایسی ساکھ نہ رہی تھی،پھر یہ کس طرح راتوں رات اندھیر نگری مچی اور کیوں مچی؟واقفان حال اِس کے پیچھے بھی وہی کہانی سناتے ہیں کہ جس طرح سٹیل مل کو اونے پونے خریدنے کی تیاری تھی،بعینہ پی آئی اے کو بھی ویسے ہی لوٹنا مقصود تھا۔اِس پس منظر میں یہ کیسے اور کیونکر ممکن ہے کہ پاکستان کے کھیت کی رکھوالی ایسی باڑ کے حوالے ہے جو خود اُسے لوٹنے کے لیے بے تاب ہے؟کون آئی ایم ایف کی مشروط اصلاحات پر نیک نیتی سے کام کرکے اُن کو نافذالعمل کرے گا؟مجھے کم ازکم یقین ہے کہ سابقہ حکمرانوں کے نزدیک آئی ایم ایف پروگرامز کا حصول صرف لوٹ مار کے لیے رہا ہے اور اُنہوں نے پاکستان کی معاشی صورتحال کی بہتری کی بجائے اپنی معاشی صورتحال کی بہتری کو ترجیح دئیے رکھی ہے۔ لمحہ موجود میں بھی حقیقی تبدیلی کہیں نظر نہیں آ رہی بلکہ پارلیمنٹ میں وہی الیکٹ ایبلز موجود ہیں،جو گذشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ کرتے چلے آ رہے ہیں اور جو فیصلے اُنہوں نے ماضی میں کئے ،انہی کی رمق آج بھی دکھائی دے رہی ہے۔
حد تو یہ ہے کہ سٹیٹ بنک آف پاکستان کو آئی ایم ایف کی شرط پوری کرتے ہوئے خودمختاری دے دی گئی ہے ،جس پر گورنر نے کہا ہے کہ یہ پارلیمان کا ایکٹ ہے،جسے پارلیمنٹ مناسب وقت پر ختم بھی کر سکتی ہے لیکن کیا کوئی یہ بتا سکتا ہے کہ یہ مناسب وقت کب آئے گا؟بہرکیف گورنر بھی بنیادی طور پر پاکستانی ہیں،اور امید کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ بطور گورنر سٹیٹ بنک آف پاکستان،خودمختار ہونے کے بعد،وہ پاکستانی معیشت کی بہتری میں اپنا کردار زیادہ بہتر طریقے سے ادا کرتے ہوئے،پاکستان کو اِن معاشی مسائل سے نکال کر اپنا نام تاریخ میں سنہری حروف میں رقم کروانا پسند کریں گے۔ اِس خوش گمانی اور امید پر قبل از وقت ہی گورنر سٹیٹ بنک کا شکریہ اداکرنا چاہوں گا،شکریہ گورنر !!!
 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button