Column

اہم پیغام …… ناصر شیرازی

ناصر شیرازی

بتایا جا رہاتھا خبر کسے کہتے ہیں، خبر ہوتی کیا ہے؟ کتا انسان کو کاٹ لے تو یہ کوئی خبر نہیں، انسان کتے کو کاٹ لے تو یہ واقعی خبر ہے۔ اِس تشریح کے بعد دل مسوس ہوکر رہ گیا کہ فی الحال تو کتے ہی انسانوں کو کاٹ رہے ہیں۔ہماری زندگی میں شاید انسان کتوں کو کاٹنا شروع نہ کریں۔ یہ جان کر مزید صدمہ ہواکہ نہ انسان کتے کو کاٹیں گے نہ اِسے خبرکا درجہ حاصل ہوں گا یوں ہم بے خبری میں ہی روز و شب گزارتے رہیں گے۔ صدق دل سے دعا کی یاالٰہی ایسا نہ ہو۔ لگتا ہے قبولیت کی گھڑی تھی کہ دعا قبول ہو گئی۔ زمانہ ہوش و حواس میں ہی انسان کی کتوں کو کاٹنے کی خبریں ملنے لگیں۔ اِس حوالے سے تاریخی مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ ساٹھ کی دہائی کے وسط میں شہر کراچی میں انسانوں نے پہلی مرتبہ کتے کو کاٹا، اِس کے سری پائے سمیت سب کچھ بک گیا۔ کچھ عرصہ بعد یہ نفع بخش کاروبارکا درجہ حاصل کر گیا تو کئی کاروباری ادھر متوجہ ہوئے۔ جب کاروبار دھڑلے سے ہونے لگا تو حکام بھی متوجہ ہوئے اور آپریشن کلین اپ ہوا۔ اس مذموم کاروبار سے منسلک لوگوں کے ساتھ وہ کچھ ہوا جسے ”کتے والی کی گئی“ کہتے ہیں۔

کتے کاٹنا اور فروخت کرنا گھاٹے کا سودا سمجھ لیا گیا، چند کلو کے کتے کی اوقات ہی کیا کہ ذلیل ہوا جائے۔ چند برس خاموشی سے گزرے پھر توجہ گدھے کی طرف مبذول کی گئی، آم کے آم گٹھلی کے دام وصول کرنے والوں نے حیرت انگیز معاشی کامیابیاں حاصل کیں۔ یہ کام بھی اِسی طرح شروع کیا گیا جیسے دیگر جرائم کا آغاز ہوتا ہے کہ عرصہ دراز تک کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ پھر فوڈ اتھارٹی متحرک ہوئی تو یہ کاروبار مندے کا شکار ہو گیا۔

ایک لمبے وقفے کے بعد صوبہ خیبرپختونخوا میں کتا بزنس شروع ہونے کی خبر باتصویر ملی ہے۔ علاقہ پولیس نے سالم ذبح شدہ کتے اور تیار شدہ کتا کڑاہی برآمد اور میڈیا کے سامنے پیش کی تواندازہ ہوا کہ اِس کاروبار سے وابستہ افراد کا مسکن اب صوبہ خیبر پختونخوا ہے کیونکہ وہاں ابھی فوڈ اتھارٹی متحرک نہیں ہوئی۔

کتوں کے بارے میں اہل پاکستان صرف اتنا ہی جانتے ہیں کہ ان کا کام بھونکنا یا کاٹنا ہے، آوارہ کتے اِس کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتے ہیں۔ کچھ خاص نسل کے کتے رکھوالی یا چوکیداری کے لیے مشہور ہوئے بعدازاں وہ بھی چوروں سے مل گئے یایوں کہیں ’کتی چوراں نال مل گئی‘ پس یہ باب بھی بند ہوا۔

ترقی یافتہ کے مقابلے ترقی پذیر ملکوںکے لوگ بہت پیچھے رہ گئے ہیں، یہی حال ان کے کتوں کا بھی ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں کے کتے کم بھونکتے کم کاٹتے ہیں، وہ اپنی توانائیوں کا مثبت استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔ نابینا افراد کی رہنمائی کرتے ہیں، کورس کے بعد بازار سے سودا سلف لاتے ہیں، ڈوبتے کو بچانے کی کوشش بھی کرتے ہیںاس کے علاوہ بہت کچھ کرتے ہیں۔ کچھ کتے شرم و حیا کا پیکر نظر آتے ہیں، وہ تن ڈھانپنے لگے ہیں۔ موسم کی مناسبت سے لباس ہوتاہے، صاف ستھرے رہتے اور غسل کرتے ہیں۔ طبیعت خراب ہونے پر ڈاکٹر سے دوا لیتے ہیں۔ رات بھر آوارہ پھرنے کی بجائے نرم گرم بستر میںنیند کے مزے لیتے اور صبح جلد بیدار ہو کر مارننگ واک بھی کرتے ہیں۔

ہمارے ملک میں کتوں کی فلاح و بہبود کے لیے آج تک کچھ نہیںکیا گیا۔ آوارہ، بداعمال و بدچلن اور ان پڑھ کتوں کی تعداد میں ہوشربا اضافہ دیکھتے ہوئے ایک صوبائی حکومت نے فیصلہ کیاہے کہ اِس عفریت سے قوم کو محفوظ رکھنے کے لیے کتوں کی فیملی پلاننگ کی جائے۔ فیملی پلاننگ پر ہمارے یہاں آج تک انسانوں نے توجہ نہیں دی، کتے خاک دیں گے۔ کتوں کی عدم توجہ کے باوجوداس منصوبے پر عمل شروع کر دیا گیا، خیال تھا کہ کتوں کی کم افزائش سے انسانوں کو کاٹنے کے واقعات بھی کم ہو جائیں گے، یوں کتا ویکسین درآمد پر اٹھنے والے اخراجات بھی کم ہوں گے۔ اس کا بہرحال قومی خزانے کو فائدہ ہو گا۔ اس صوبائی حکومت کا یہ اقدام کچھ لوگوں کو ناگوار گزرا ہے۔ کتوں کی منصوبہ بندی رکوانے کے لیے ایک این جی او سندھ ہائیکورٹ پہنچ گئی، وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ بے گناہ کتوں کو مارا جا رہا ہے لہٰذا ان کی منصوبہ بندی کو روکا جائے۔ درخواست کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کی گئی ہے۔

غیر ملکی امداد سے چلنے والی این جی اوز نے دنیا بھر میں انسانی حقوق کے نام پرتحفظ کی بجائے حقوق پامال کرنے میں جو معاونت کی ہے اس کی بڑی مثال عراق، کویت، لیبیا، شام، مصر، سوڈان، ایران اور کشمیرکی ہے۔ اب ان کے خیال میں کتوںپر ہونے والے مظالم سے انہیں بچانا دنیا کا اہم ترین مسئلہ ہے۔ امریکہ ، یورپ و دیگر ترقی یافتہ ممالک میں کتوں سے بے پناہ محبت کی جاتی ہے، وہ انہیں خاندان کا حصہ سمجھتے ہیں جبکہ کچھ مغربی خواتین کی طرح کتوں کو شریک حیات بنانے کے فیصلے بھی منظر عام پر آئے ہیں۔ ڈچ خاتون ڈومینک لیسیرل نے پہلا عقد ایک بلے سے کیا تھا جسے سولہ برس ان کا شوہر ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔ حال ہی میںکتے کے انتقال کے بعد ڈومینک بہت دکھی رہنے لگی تھی اب اس نے پہلی محبت اور پہلے شوہر کی موت کا دکھ بھلانے کے لیے دوسری شادی ایک کتے سے کرنے کافیصلہ کیا ہے۔ اس کا نام ٹراویس ہے جو گدھے کے سائز کا ہے۔ ڈومینک لیسیرل کے مطابق ٹراویس ایک آوارہ اور جاہل کتا ہے، اس کی محبت میں وہ تب گرفتار ہوئی جب وہ ساحل سمندر سیر کرنے نکلی، وہ اکثروہاں نہانے جاتی تھی جہاںاس کی ملاقات ٹراویس سے ہوئی۔ وہ سن باتھ کے مزے لے رہی تھی جب وہ اس کے قریب آیا اور اپنے انداز میںچاٹ کر اس نے اظہار محبت کیا۔ ڈومنیک نے اسے کھانا اور پانی پیش کیا جس کے بعد دونوں کی دوستی ہو گئی اور وہ اسے اپنے گھر لے آئی۔ کچھ عرصہ بعد ایک جان لیوا بیماری ہوئی تو ڈومنیک نے اس کا علاج کرایا۔ اب وہ مکمل طور پر صحت مند ہے اور زندگی کی روزمرہ ’سرگرمیوں‘ کی طرف لوٹ آیا ہے۔ وہ اپنے فرائض خوب پہچانتا ہے کہ اسے کس وقت کیا کرنا ہے۔ ڈومنیک نے قریباً بیس برس قبل ویب سائٹ بنائی تھی جس کا مقصد خواتین اور کتوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا اور رشتہ داری میں منسلک کرنا ہے۔ وہ خواتین کی شادیاں کتوں کے علاوہ دوسرے جانوروں سے بھی کراتی ہے، اس کا کہنا ہے کہ ٹراویس نامی کتے کے ساتھ شادی کی تقریب کی تفصیلات ان کی ویب سائٹ پر دیکھی جا سکیں گی۔
پاکستانی کتوں کو چاہئے کہ وہ تمام وقت بلاوجہ بھونکنے، معصوم لوگوں پر جھپٹنے اورکاٹنے میںاپنی زندگی ضائع نہ کریں۔ وہ غیرملکی کتوں کی زندگی کامطالعہ کریں، دیکھیں کہ کس طرح انہوں نے ترقی کی منازل طے کیں۔ انہیں وقت کی قدر و قیمت کا احساس کرتے ہوئے زندگی کا مقصد جاننے کی کوشش کرنا چاہئے اور عظیم مقاصد کے حصول کے لیے لائحہ عمل ترتیب دینا چاہئے۔ بنی نوع انسان پر بھونکنا، کاٹنا،قصائی کے پھٹے سے چھیچھڑے کھانا اور رات گزار کر اپنی زندگیاں برباد نہ کریں۔ترقی پذیر ممالک کے بسنے والوں نے جن خرافات میں الجھ کر جس طرح زندگیاں برباد کی ہیں، کم از کم وہ اس سے سبق حاصل کریں۔ کتوں کے لیے میرا ”اہم پیغام“ یہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button