تازہ ترینخبریںپاکستان سے

پاکستان آمریت کی طرف بڑھ رہا: بلاولٜ, فارورڈ بلاک تیار، تحریک کامیاب ہوگی: مریم

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ قانون کے بغیر کوئی مہذب معاشرہ اور جمہوریت ممکن نہیں، قانون معاشرے کو جوڑ کر رکھتا ہے، ریاست اور قوم کے درمیان ایک پل کا کام دیتا ہے،  قانون کی حکمرانی کسی بھی جمہوری نظام کی روح ہوتی ہے، موجودہ سلیکٹڈ حکومت قانون کی حکمرانی کو ختم کرنا چاہتی ہے، اس لئے اس کی حفاظت کرنا تمام سیاستدانوں، وکلا اور ججوں پر عائد ہوتی ہے،
تاریخ بتاتی ہے ہم اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں اب تک ناکام رہے ہیں۔ لاہور بار ایسوسی ایشن سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ صدر زرداری اور شہید بی بی کا فیصلہ تو تاریخ نے کر دیا اور ان لوگوں کا فیصلہ بھی کر دیا جنہوں نے ان کے خلاف سازشیں کی تھیں اور آج وہ سارے لوگ تاریخ کے کوڑے دان میں پڑے ہوئے ہیں، ان سازشیوں کے نام ہمارے آئین، ہماری مملکت اور تاریخ میں کالے حروف سے لکھے ہیں لیکن ہم آج بھی اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ عدالتوں نے جو غلطیاں کی ہیں ان کی تشریح کی جائے ، وقت آگیا ہے کہ عدلیہ پر لگائے گئے دھبے کو صاف کیا جائے، اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ دنیا کو بتائیں کہ ہمارے ملک میں آزاد عدلیہ موجود ہے تو عدلیہ نے جو تاریخ میں غلطیاں کی ہیں انہیں درست کرے،
ہماری عدلیہ نے ڈکٹیٹر شپ کی توثیق کی اور اس نے جنرل مشرف اور جنرل ضیائ کی بھی توثیق کی ہے لیکن قائد عوام کو پھانسی کے پھندے پر چڑھا دیا، ہمیں عدلیہ کی، کی ہوئی غلطیوں کو درست کرنا ہوگا، اکثر اوقات انصاف کا ترازو عوام پر ظلم کرنے والے پلڑے کی طرف جھکا ہوتا ہے،
ہم ایک ایسا عدالتی نظام چاہتے ہیں جو انصاف اور برابری پر مبنی ہو، کوئی بھی جدید ریاست ایک انصاف پر مبنی قانونی نظام کے بغیر کام نہیں کر سکتی، موجودہ احتساب مخالفین کو دبانے اور ان لوگوں کو خاموش کرانے کے لئے ہے، جو حکومت کے چہرے سے نقاب اٹھاتے ہیں، عمران خان کی حکومت میں ہم جمہوریت کی طرف نہیں بڑھ رہے ہیں بلکہ آمریت کی طرف جا رہے ہیں،
عدلیہ ایسی جگہ ہے جہاں قانونی خیالات، آئینی امور اور بنیادی انسانی حقوق اور انسانی عزت کی بات کی جائے، یہ ایسی جگہ نہیں کہ جہاں یہ فیصلے کئے جائیں کہ کونسا ڈیم کہاں بنے گا، عدلیہ غریب ترین طبقے کا آخری سہارا ہوتا ہے لیکن کچھ ججوں نے اپنے اوپر یہ ذمہ داری لے لی ہے کہ فیصلہ کریں کہ کونسی عمارت گرائی جائے گی اور کونسی عمارت نہیں گرائی جائے گی، آج ہم ایک دوراہے پر کھڑے ہیں، ہماری سرحدوں کی ایک جانب انتہاپسندوں کی حکومت ہے اور سرحدوں کی دوسری جانب بھی انتہا پسند موجود ہیں،
اس وقت پاکستان کے لئے یہ موقع ہے کہ ہم جمہوریت کے لئے روشنی کا مینارہ بن کر ابھریں، احتجاج کرنا ہمارا جمہوری حق ہے، ہم جمہوریت پسند لوگ ہیں اور ہم پارلیمان اور پی ٹی وی پر حملہ کرنے پر یقین نہیں رکھتے، ہم اس سلیکٹڈ حکومت کے خلاف ایک تحریک شروع کریں گے اور یہ تحریک پاکستانی عوام کے ساتھ ہوگی،
ہم اس حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائیں گے اور اس حکومت کو جمہوری انداز سے چیلنج کریں گے، ہم دیکھیں گے کہ کون عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور کون عوام کے ساتھ نہیں کھڑا، ان شائ اللہ ہم پاکستان بچانے میں کامیاب ہوں گے اور ضرور کامیاب ہوں گے۔
دریں اثنا بلاول بھٹو نے بلاول ہائوس کراچی میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو عمران خان سے نجات دلانے کیلئے  سڑکوں پر نکل رہے ہیں، ہمارا منشور کل بھی روٹی، کپڑا اور مکان تھا اور آج بھی ہے، ہمارا قافلہ ہر صورت اسلام آباد پہنچے گا اور وہاں پہنچ کر اپنے مطالبات سامنے رکھے گا، ہم نے اپنا احتجاج شروع کر دیا ہے اور حکومت سے نجات کیلئے صاف اور شفاف انتخابات وقت کی ضرورت بن گئے ہیں،
عمران خان نے سب پر چوری کا الزام لگا کر اپنی سیاست چمکائی، ملک کو کنگال اور اپنی ملکیت میں اضافہ کیا، مدینہ ریاست کا نعرہ لگا کر اقتدار حاصل کرنے والا وزیر اعظم امیر ہوگیا اور عوام غریب، اب بہت ہوگیا ہے نااہل سلیکٹڈ وزیر اعظم عمران خان کو عوام کو جواب دینا ہوگا۔
ادھر  نواز لیگ کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ عوام اپوزیشن کی جانب دیکھ رہے ہیں کہ کوئی ان کے لئے آواز اٹھائے، تحریک عدم اعتماد ایسا رسک ہے جو لینا چاہئے، عمران خان نے معیشت ہی تباہ نہیں کی بلکہ خارجہ پالیسی بھی برباد کی، آج دوست ملک بھی پاکستان کو منہ لگانے کو تیار نہیں،
عمران خان براہ کرم غیر ملکی دورے نہ کیا کریں، آپ کسی ریاست کے بادشاہ نہیں ہیں، یہ چین پیسہ مانگنے گئے تھے اور پیسہ بھی نہیں ملا،  انہیں فی الحال وزیراعظم ہائوس کے ایک کمرے میں بند کر دینا چاہئے، تمام اتحادی جماعتوں سمیت سب سے کہتی ہوں عوامی آواز پر لبیک کہنا چاہئے، یہ جنگ عوام اور اقتدار کے درمیان ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ  اگر ان کے پاس  میرے کوئی ثبوت ہوتا تو اسے عدالت میں پیش کیا جاتا، اگر مقدمہ  انتقام پر مبنی نہ ہوتا تو یہ کاغذ کا ٹکڑا سمجھا جاتا ہے، جب آپ کے پاس کوئی ثبوت ہی نہیں ہے تو عدالت سے مہلت ہی مانگی جائے گی،
اگر نیب کے پاس ثبوت نہیں تو اس مقدمے کو اتنا لمبا کھینچنے کی ضرورت نہیں ہے، انصاف ہونے دیں، جب پرویز مشرف کو پتہ چلا کہ ان کی حکومت ختم ہونے والی ہے تو چیف جسٹس کو شاہراہ دستور پر گریبان سے پکڑ کر گھسیٹا تھا، 60ججز کوپن کے سٹروک سے گھر بھیجا گیا، ان کو بچوں کے ہمراہ گھر میں قید کر دیا گیا تو جب عمران خان کی حالت پر غور کریں تو مشرف کا دور یاد آتا ہے،
مجھے آپ کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں لگتی بلکہ یہ محسوس ہوتا ہے کہ آپ ذہنی طور پر مفلوج ہو چکے ہیں، آپ کی اہلیہ احترام کے قابل ہیں، جو سٹینڈرڈ آپ کی اہلیہ کا ہے وہ سٹینڈرڈ مرحومہ کلثوم نواز کے لئے ہونا چاہئے تھا، جب وہ لندن کے ہسپتال میں بے ہوش حالت میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی تھیں تو تحریک انصاف کے لوگوں نے ڈاکٹرز کا بھیس بدل کر آئی سی یو میں ان کی تصویریں لینے کیلئے دھاوا بولا، اس وقت بار بار ٹی وی پر پی ٹی آئی کے لوگوں نے کہا تھا کہ بیگم نواز شریف بالکل ٹھیک ہیں اور وہ لوگ اکٹھے ہو کر کھانا کھاتے ہیں، والدہ کی عیادت کے بعد واپسی پر پی ٹی آئی کے لوگوں نے مجھے گالیاں دیں،  آپ نے مجھے بے گناہ ہوتے ہوئے ڈیتھ سیل میں ڈالا،
آپ نے نواز شریف کے سامنے ان کی بیٹی کو گرفتار کیا، اس کو ہراساں کیا، میرا بیٹا جنید گزرتا تھا تو اس کے سامنے اس کی والدہ کو گالی دی جاتی تھی، جب آپ میں وزن ہو گا تو آپ میں تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ بھی ہو گا، آج ملک میں مہنگائی، لاقانونیت اور دہشتگردی واپس آرہی ہے، آپ کا کچن تو کوئی اور چلاتا ہے آپ کو مہنگائی کا کیا علم ہے،
ذاتی انتقام کی تسکین کی خاطر ایف آئی اے اور نیب کو سیاسی لڑائی میں جھونکا، عمران خان آپ نے عوام کے خون پسینے کی کمائی پر سوائے انتقام لینے کے کچھ نہیں کیا، عمران خان آپ کے جرائم کی فہرست طویل ہے، آج ملک میں لوگ خود کشی کرنے پر مجبور ہیں ان کی نوکریاں چلی گئی ہیں، بھلے آپ جعلی اور چوری کر کے آئے مگر وزیراعظم کی کرسی پر تو بیٹھے، آپ نے صرف انتقام پر توجہ مرکوز رکھی، عمران خان آپ سے سوال دنیا اور آخرت میں ہو گا،
آپ کو بھاگنے کی جگہ نہیں ملے گی، عمران خان آپ بادشاہ نہیں ہیں، ریاست کے حکمران نہیں ہیں، آپ نے جو کچھ کیا آپ کو لندن بھاگنے کی اجازت بھی نہیں ملے گی، عمران خان جس ملک میں جاتے ہیں وہاں پاکستان کا تماشہ بنا کر آتے ہیں،
عمران خان پاکستان کے دوسرے ممالک کے ساتھ بنائے ہوئے تعلقات کو بھی بگاڑ کر آ جاتے ہیں، عمران خان ان سب کے ذمہ دار ہیں، یہاں اہلکار شہید ہو رہے تھے، وہاں آپ اولمپکس کا میچ دیکھ رہے تھے، تمام اتحادی جماعتوں، ایم این ایز اور ایم پی ایز تقریباً فارورڈ بلاک بنا کر بیٹھے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف میں فارورڈ بلاک بن چکا ہے، عدم اعتماد کی تحریک ضرور کامیاب ہوگی،
صحافیوں کے معاملات میں پاکستان دنیا کا خطرناک ملک ہے، لوگوں کے گھروں میں ریاستی ادارے کے اہلکاروں کا دیواریں پھلانگ کر جانا افسوسناک ہے، ججز سے درخواست ہے انصاف میں تاخیر انصاف نہ ہونے کے مترادف ہے ، میں ہر سماعت میں پیش ہوتی ہوں تو نیب کو بھی اتنی ڈھیل نہیں دینی چاہئے،
جب عوام اشیا ضرورت کی خریداری کے لئے جاتے ہیں تو وہ جن القابات سے آپ کو نوازتے ہیں، میں ادا نہیں کرنا چاہتی، کیا آپ تنقید پر عوام پر بھی ایف آئی اے کے حملے کرائیں گے۔ مزید برآں انہوں نے وزیر اعظم عمران خان اور بل گیٹس میں ملاقات کی تصویر ٹویٹر پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ  غیرملکی مہمان کو اس طرح سے بٹھانا بد تہذیبی اور تکبر ہے۔
ادھر نواز لیگ کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے لئے اپوزیشن کوششیں کر رہی ہے، ہوم ورک جاری ہے، عدم اعتماد ایک ریفرنڈم ہوگا، عمران خان پاکستان کو ہٹلر کی ریاست بنانا چاہتے ہیں، اس کی اجازت نہیں دیں گے، قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی میں بھی ایک طبقہ موجود ہے جس نے ابھی فیصلہ کرنا ہے، جو شخص غیر ملکی سربراہوں سے ملنے والے تحائف میں غبن کر دے وہ کیا ایماندار ہوگا، تمام مافیاز آپ کی چھتری تلے اور آپ کی کابینہ میں بیٹھے ہیں۔
مزید برآں نواز لیگ نے سینئر صحافی محسن بیگ کی گرفتاری کا معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھانے کا اعلان کیا ہے، گزشتہ روز رانا ثنا اللہ، محسن شاہنواز رانجھا اور طارق فضل چودھری وفد کے ہمراہ تھانہ مارگلہ پہنچے تاہم پولیس نے انہیں سینئر صحافی سے ملاقات نہیں کرنے دی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button