تازہ ترینحالات حاضرہخبریںدنیا سےروس یوکرین تنازع

روس یا چین کیخلاف ممکنہ لڑائی امریکی فوج کیلئے سب سے بڑا خطرہ

 روس یوکرین تنازع نے امریکا کو ایک ہی وقت میں متعدد خود کار ڈرونز کے استعمال اور ایک ہزار میل تک مار کرنے والی توپ تیار کرنے پر مجبور کیا، امریکی فوج کے پاس اسی خطے میں گزشتہ جنگی رجحانات کے جواب میں کئی نئی ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے غور کیا جارہا ہے۔

جریدے ”سائنٹیفک امریکن“ کی رپورٹ کے مطابق جب 2014 میں روس نے کریمیا سے الحاق کیا اور یوکرین کے ڈونیٹ بیسن خطے میں مداخلت کی، تو روسی فوج نے نئی ٹیکنالوجی استعمال کی اور جدید جنگ کے بارے میں امریکی فوج کی سوچ کو مسترد کر دیا۔

اب امریکی اور یورپی رہنما اندازہ لگا رہے ہیں کہ آیا ماسکو یوکرین پر دوبارہ حملہ کرے گا، پینٹاگون ایسے منصوبوں کو آگے بڑھا رہا ہے جو روس یوکرین جاری تنازع کے آغاز کے بعد طے شدہ ترجیحات کی عکاسی کریں۔

اس وقت امریکا ایک ہی وقت میں کئی خود کار ڈرونز کے استعمال اور سپر کینن (توپ)جو ایک ہزار میل کی دوری تک فائر کر سکتی ہو جیسی جنگی ٹیکنالوجی پر کام جاری رکھے ہوئے۔ حیران کن مہم جوئی کا مقصد موجودہ راڈار اور مواصلات کو جدید ترین کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت کے ساتھ جوڑنا ہے تاکہ ایک ایسا خودکار نظام بنایا جا سکے جو متعدد جنگی علاقوں میں کارروائیوں کو مربوط کرے۔

ان میں سے بہت سی کوششوں کا پتہ یوکرین پر روس کے 2014 کے حملے کے بارے میں امریکی فوج کے مطالعے سے لگایا جا سکتا ہے۔ اس دوران، روس نے سائبر اسپیس، الیکٹرانک وارفیئر اور معلوماتی ہتھیاروں کے استعمال کے ذریعے روایتی میدان جنگ کو وسعت دینے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔

مطالعہ میں یہ سامنے آیا کہ مستقبل کی لڑائی میں، روس کی نئی صلاحیتوں کو روبوٹک ہتھیاروں اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں کے ساتھ جوڑا جا سکتا ہے، جس میں فضائی اور خلائی حملوں سمیت میزائل شامل ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ روس کئی اہم جنگی شعبوں میں امریکہ کو پیچھے چھوڑ دے گا، بشمول آرمر، آرٹلری، فضائی دفاع، خلا اور سائبر اسپیس میں۔ رپورٹ کے مطابق امریکی دفاع کوجدید میدان جنگ کی نئی حقیقتوں کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہوگی یا روایتی لڑائی میں شکست کا سامنا کرنا پڑے گا جو نیٹو اتحاد کی ہم آہنگی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے اور جوہری تصادم کے امکانات کو بڑھا سکتا ہے۔

امریکی فوج کے چیف آف اسٹاف جنرل جیمز میک کونول کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس ایسے اسٹریٹجک حریف ہیں جن کے پاس بڑی فوجیں ہیں۔امریکی فوج نے افغانستان اور عراق میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں پر توجہ مرکوز کی ہے۔ لیکن روس یا چین کے خلاف ممکنہ لڑائی، جسے پینٹاگون اب امریکی فوج کے لئے سب سے بڑا خطرہ سمجھتا ہے، اسے ٹیکنالوجی کے مختلف سیٹ پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہوگی۔

اسٹریٹجک حریفوں کو روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیاں کرنے کی ضرورت ہے۔گزشتہ نومبر میں آرمی فیوچرز کمانڈ نے پروجیکٹ میں 100 سے زیادہ نئی ٹیکنالوجیز نمائش کی گئی، ان سب کا مقصد ایک نئے آئیڈیا کو آگے بڑھانا تھا کہ کس طرح لڑنا ہے۔

روس کی 2014 کی کارروائیوں کے بعد”جائنٹ آل ڈومین کمانڈ اینڈ کنٹرول“کا قیام لایا گیا۔یہ ٹیکنالوجی پروجیکٹ متعدد محاذوں پر لڑائی کو تیزی سے مربوط کرے گا۔اس کا مقصد تمام امریکی فوجی انٹیلی جنس، سرویلینس اور جاسوسی کو ڈیٹا کلاؤڈ میں جمع کرنا اور مصنوعی انٹیلی جنس اور الگورتھم کو دیئے گئے ہدف کے خلاف بہترین ہتھیار سے مماثلت کرنا ہے۔

یہ کوآرڈینیشن مثالی طور پر فوج، بحریہ، فضائیہ اور میرینز کو ایک واحد فائٹنگ فورس میں ضم کر دے گا، جس کے اندر کوئی بھی سینسر کسی بھی شوٹر سے جڑ سکتا ہے۔ امریکا کے اعلیٰ دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کو چین یا روس سے لڑنے کی صورت میں، واشنگٹن کو ایک مخصوص ٹیکنالوجی کی ضرورت ہوگی۔ہم قابل، کم لاگت والے بغیر پائلٹ کے نظام کے ساتھ داخل ہوں گے۔

جنوری کے اوائل میں امریکی فوج نے 2024 کے ساتھ ہی ایک پروٹو ٹائپ سپر کینن کا تجربہ کرنے کے منصوبے کا انکشاف کیا۔طویل رینج کی توپ ایک ہزار میل دور اہداف کو نشانہ بنانے کے قابل ہوگی، جو آج کے دور کی 25 میل کی پہنچ سے بہت آگے ہے۔

یوکرین پر روس کے 2014 کے حملے سے ایک اہم سبق یہ تھا کہ امریکی فوج کو اپنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے نظام کو بڑھانے کی ضرورت تھی۔ اب فوج 2023 تک طویل فاصلے تک مار کرنے والے متعدد نئے میزائل تیار کرنے کے راستے پر ہے۔ طویل فاصلے تک مار کرنے والی توپ ابھی ہتھیاروں کے فہرست کا حصہ نہیں۔

 

بشکریہ روزنامہ جنگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button