Column

شعبہ زراعت عدم توجہی کا شکار …. امتیاز احمد شاد

 امتیاز احمد شاد

پاکستان زرعی ملک اور افرادی قوت کا قریباً 44 فیصد حصہ زرعی شعبے سے وابستہ ہے، زراعت کے شعبے سے حاصل ہونے والی آمدن کا حصہ ملک کی مجموعی قومی پیداوار کا لگ بھگ ایک چوتھائی ہے۔ زراعت کا ملکی ترقی اور خوشحالی میں بنیادی اور انتہائی اہم کردار ہونے کے باوجود یہ شعبہ سرکاری اداروں کی ناقص کارکردگی اور تحقیق کے فقدان کے باعث اِس حال کو پہنچ چکا ہے کہ ملک کو کپاس، دالیں اور دیگر زرعی اجناس کی درآمد پر ہر سال خطیر زرمبادلہ صرف کرنا پڑرہا ہے، اور اب نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ ِاس سال گندم بھی درآمد کرنا پڑے گی۔اِس حد تک غفلت اور نااہلی کہ گندم کی کاشت کے وقت ڈی اے پی غائب اور اب یوریا کھاد نایاب۔ حکومت کو ماننا پڑے گا کہ باقی مافیاز کی طرح کھاد ،سپرے اور دیگر زرعی آلات مافیا کے سامنے بھی وہ بے بس ہے۔آخر حکومت کرنا کیا چاہتی ہے؟ایک گندم ہی تھی جس میں ہم خودکفیل تھے ،صرف انتظامی غفلت اور ڈیلرز مافیا کا حکومتی اہلکاروں سے گٹھ جوڑہمیں اِس مقام پر لے آیا ہے کہ ڈی اے پی کی بروقت دستیابی نہ ہونے سے گندم کی کاشت پہلے کے مقابلے میں نصف ہوئی اور بد قسمتی یہ ہے کہ جو نصف حصے پر کاشت کی گئی وہ یوریا کی عدم دستیابی سے دم توڑ رہی ہے۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ہماری حکومتیں زراعت کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرتیں تاکہ ملک زرعی شعبہ میں خود کفالت کی منزلیں طے کرتا۔ آج ہمارا ملک گندم اور تیل دار اجناس جیسی بنیادی غذائی فصلیں درآمد کے بجائے دوسرے ممالک کو برآمد کر رہا ہوتا افسوس ایسا نہ ہوسکا۔ حکومتی پالیسیوں اور دیگر عوامل کے باعث کسان بطور خاص چھوٹے کاشتکار زراعت سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں جس کے منفی اثرات ابھی سے ہمارے سامنے آ رہے ہیں اور مستقبل میں اگر یہ رجحان برقراررہا تو ہماری آنے والی نسلوں کو اِس سے بھی زیادہ خوفناک غذائی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تیل دار اجناس کی کاشت کے لیے افسر شاہی نے گزشتہ سال پلان تیار کیا کہ کسانوں کو کینولا اور سورج مکھی کی کاشت کرنے پر 5 ہزار روپے سبسڈی دی جائے گی،کسانوں کو یقین دہانی کروائی گئی مگر ستم ظریفی یہ کہ سبسڈی تو دور کوئی خریدار نہیں ملا۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اِس سال کسانوں نے نہ ہونے کے برابر اِسے کاشت کیا۔
یہ بات سب پر عیاں ہے کہ ملک بھر میں پانی کی شدید قلت ہے۔ کسان آئندہ فصلوں کی کاشت کے لیے مہنگے ڈیزل اور بجلی کے زرعی ٹیوب ویلوں پر غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باوجود انحصار کرنے لگے ہیں۔ پھر بھی کسان کو مارا جارہا ہے۔مہنگائی کے اس دور میں کسان کو اِس کی فصل کا جائز معاوضہ بھی نہیں دیا جاتا۔اِس طرح کے حالات میں کھیتی باڑی کرنا ناممکن ہوگیا ہے۔ موجودہ حکومت نے عام لوگوں کی فلاح اور بہبود کے لیے اعلانات تو بہت کیے مگر کبھی کوئی مثبت قدم نہیںاٹھایا ۔ کسان ناقص حکومتی پالیسیوں کے باعث معاشی بدحالی کا شکار ہے۔ اِسے کسی حال میں اِس کی فصل کا جائز معاوضہ نہیں ملتا۔ ہمیشہ مڈل مین سارا منافع لے جاتا ہے جبکہ کاشتکار سارا سال محنت کرنے اور اپنا خون پسینہ ایک کرنے کے باوجود مقروض ہی رہتا ہے۔ اس کے گھر میں فاقوں کا راج رہتا ہے۔
ملک کی نقد آور فصل کپاس تھی جو اب پاکستان میں قریباً ختم ہو چکی اور اگر یہی حال رہا تو وہ دن دور نہیں کہ ہم گندم سے بھی محروم ہو جائیں گے۔ پاکستان میں پیدا ہونے والی فصلوں کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو اِن کی پیداوار میں کمی کا رجحان جاری ہے۔ وزارت زراعت پنجاب کی عارضی اور فرضی پالیسیوں سے نہ صرف کسان تنگ آچکے ہیں بلکہ ماہرین زراعت اور زرعی سائنسدان بھی پریشان ہیں۔ سیکرٹری زراعت سے لے کر فیلڈ میں کام کرنے والے آفیسرز تک سب کو بھاری تنخواہیںاور مراعات دی جاتی ہیں مگر کار کردگی صفر بٹہ صفر۔ عارضی پراجیکٹس بنائے جا رہے ہیں جس میں کمیشن مافیا کافی متحرک ہے۔ کروڑوں روپے کی لاگت سے ایگری کلچر ڈویلپمنٹ یونٹ بنایا گیا جس کی کارکردگی ابھی تک سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ اس طرح ایگری کلچر ریسرچ بورڈ سمیت دیگر فصلوں کے بورڈز بھی آج تک کوئی اہم پیش رفت نہیں کر پائے بلکہ پہلے سے موجود اداروں کی کارکردگی بھی صفر ہوتی جا رہی ہے۔
نئے ادارے بنانے کی بجائے پرانے اداروں کو بااختیار، جدید اور فعال بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ ارباب اختیار کو یہ بات ذہن نشین کرلینا چاہئے کہ اگر ملک کا کاشتکار خوشحال ہوگا تو ملک بھی ترقی کرے گا۔ ملک کو زرعی اجناس، سبزیوں اور پھلوں میں خودکفیل بنانا ہوگا تو عارضی پراجیکٹس بنانے کی بجائے ماہرین سے آراءلی جائیں۔ یونیورسٹیوں میں طلباءسے ریسرچ کرائی جائے تاکہ آنے والے دنوں میں ہم زراعت کے شعبہ میں بہتری لاسکیں۔ پنجاب زرعی حوالے سے ملک کی جان ہے۔ پنجاب میں تمام فصلوں کی کاشت سے لے کر مارکیٹ میں لانے تک ماہر اور تجربہ کار زراعت افسروں کو آگے لانا ہوگا۔ نوجوان زرعی گریجوایٹس کی خدمات حاصل کرنا ہوں گی۔ ریٹائرڈ ماہرین زراعت کا علم پرانا ہوچکا ہے۔ اب اِن سے فیلڈ میں کام کروانا ناممکن ہے۔ فیلڈ میں کام کرنے والے ماہرین زراعت اور زرعی سائنسدانوں کو آگے لانے کی اشد ضرورت ہے۔ اِس کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ اَن پڑھ سادہ کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے متعارف کروانے کے لیے پہلے عملی تربیت دینی ہوگی۔
مجبور کسانوں کے ساتھ وہی وعدے کیے جائیں جو پورے ہو سکیں۔ آج تک کسانوں کو فاسفورس کھاد کے کوپن پر سبسڈی نہیں مل سکی۔ کروڑوں روپے کی سبسڈی کمپنیاں اور افسر ہڑپ کر گئے۔ کسانوں کو براہ راست مراعات دی جائیں۔ اِن کو بھکاری نہ بنایا جائے۔اِن کو وافر پانی معیاری اور سستی کھاد، اصل بیج، سستی بجلی کی سہولت دی جائے۔ کمپوٹر سسٹم تو رائج ہو گیا مگر ابھی تک پٹواری کلچر کا مکمل طور پرخاتمہ نہیں کیا جاسکا۔کسان کے پاس چھ ماہ بعد پیسہ آنا ہوتا ہے اِسے اِس سے محروم نہ کیا جائے۔ یہ بات طے ہے کہ کسان خوشحال ہو گا تو ملک ترقی کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button