تازہ ترینخبریںکاروبار

سری لنکا میں سیکنڈ ہینڈ گاڑیاں ‘سونے’ کے مول کیوں بکتی ہیں؟

سپر مارکیٹ کی شیلفیں خالی ہیں اور ریستوران کھانا پیش نہیں کر سکتے لیکن سری لنکا کا معاشی بحران استعمال شدہ آٹو ڈیلرز کے لیے فائدہ بن گیا ہے کیونکہ گاڑیوں کی قلت کے باعث قیمتیں ایک اچھے علاقے میں مکان سے زیادہ ہیں۔

22 ملین کی آبادی والا یہ جزیرہ دیوالیہ ہونے کے دہانے پر ہے، مہنگائی عروج پر ہے اور حکومت نے خوراک، ادویات اور ایندھن خریدنے کے لیے درکار امریکی ڈالر بچانے کے لیے "غیر ضروری” درآمدات پر پابندی لگا دی ہے۔

گاڑیوں کی مارکیٹ میں اس 2 سالہ پابندی نے فیکٹری سے نئی گاڑیوں کی پیداوار کو روک دیا ہے جس سے مایوس خریداروں کو عام سی چھوٹی گاڑیوں اور بغیر اے سی والی فیملی سیڈان گاڑیوں کی دنیا کی بلند ترین قیمتیں ادا کرنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔

انتھونی فرنینڈو نے حالیہ ویک اینڈ کولمبو کے مضافات کی سیلز لاٹ میں گزارا کیونکہ ان کی بیٹی تقریباً ایک سال سے سستی گاڑی خریدنے کی کوشش کر رہی ہے۔

63 سالہ فرنینڈونے اپنی بیٹی کے بارے میں کہا کہ ‘وہ سوچ رہی تھی کہ قیمتیں کم ہو جائیں گی لیکن اب وہ اس تاخیر کی قیمت ادا کر رہے ہے۔’

انہوں نے کہا کہ قیمتیں ‘عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہیں۔’

پانچ سال پرانی ٹویوٹا لینڈ کروزر 62.5 ملین روپے (US$309,654) کی حیران کن قیمت پر آن لائن فروخت کے لیے پیش تھی۔

یہ قیمت پابندی سے پہلے کی شرح سے تین گنا زیادہ اور دارالحکومت کولمبو کے ایک متوسط ​​محلے یا نئے لگژری اپارٹمنٹ میں گھر خریدنے کے لیے کافی ہے۔

شہر کے مرکز میں ایک دہائی پرانی پانچ سیٹوں والی Fiat ایک پھٹے ہوئے انجن (جو کسی دوسرے ملک میں پارٹس کیلئے نکال لیا جائے گا) کے ساتھ 8250 امریکی ڈالر میں بک رہی ہے جو کہ سری لنکا کی اوسط سالانہ آمدنی سے دو گنا زیادہ ہے۔

دارالحکومت کی سب سے بڑی ڈیلرشپ کے مالک سرتھ یاپا بندارا نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ‘ایک کار اور ایک گھر کامیابی کی علامت ہیں، یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر لوگ ان اونچی قیمتوں پر بھی خریدنے کو تیار ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button