خبریںصحت

کرونا ویکسی نیشن کی تعریف پر ماہرین غیر متفق

سی ڈی سی کی ڈائریکٹر روشیل ولینسکی نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ جن افراد نے ابھی حال ہی میں کرونا ویکسین کی دوسری ڈوز لگوائی ہے اور وہ بوسٹر کے ابھی اہل نہیں ہوئے،

واشنگٹنٜ کرونا وبا کے خاتمے کیلئے ویکسی نیشن کا عمل دنیا بھر میں جاری ہے تاہم ایک فرد کی کامل ویکسی نیشن کی تعریف کیا ہے،

اس امر میں ویکسین تیار کرنے والی فارمیسیز سمیت شعبہ صحت کے حکام کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ امریکہ میں سینٹرز فار ڈزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن ٟ سی ڈی سیٞ اپنی 2اہم ذمہ داریوں میں توازن قائم کر رہا ہے جس میں ویکسین شدہ افراد کو بوسٹر شاٹس کی اہمیت بتانا اور جنہیں ابھی تک ایک بھی ویکسین نہیں لگی انہیں ویکسین لگوانے پر قائل کرنا شامل ہے۔

سی ڈی سی کی ڈائریکٹر روشیل ولینسکی نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ جن افراد نے ابھی حال ہی میں کرونا ویکسین کی دوسری ڈوز لگوائی ہے اور وہ بوسٹر کے ابھی اہل نہیں ہوئے،

وہ اپ-ٹو-ڈیٹ ہیں اور جو ویکسین کی 2ڈوز لگوا چکے ہیں اور اہل ہونے کے بابوجود بوسٹر شاٹس نہیں لگوائے، وہ اپ-ٹو-ڈیٹ نہیں کہلائے جاسکتے۔ تاہم رائٹرز کے مطابق فائزر کے سی ای او ایلبرٹ بورلا سی ڈی سی کی ڈائریکٹر سے اختلاف کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں میری تجویز یہ ہے کہ بوسٹر شاٹس کے بجائے ہر سال ایک بار باقاعدگی سے کورونا ویکسین لگائی جائے۔

اگرچہ کچھ کاروباری اداروں، یونیورسٹیوں اور ان جیسے دیگر اداروں میں عملے سے بوسٹر شاٹس سے متعلق پوچھا جارہا ہے لیکن کامل ویکسی نیشن کے حوالے سے اکثر ادارے سی ڈی سی کی تعریف اپنائے ہوئے ہیں کہ کرونا ویکسی نیشن کے ابتدائی مراحل مکمل ہونے کے بعد ایک فرد کی ویکسی نیشن مکمل ہوجاتی ہے۔ جبکہ دی گلوب اور میل کی رپورٹس کے مطابق کینیڈا کے شعبہ صحت کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ وہ کامل ویکسی نیشن کی تعریف کا دوبارہ تجزیہ کر رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button