تازہ ترینخبریںپاکستان سے

وفاقی حکومت کا فوجداری مقدمات کا قانون بدلنے کا فیصلہ

اُن کا کہنا تھا کہ 9 ماہ میں مقدمات کا فیصلہ لازمی ہوگا، اس دورانیے میں فیصلہ نہ ہونے پر متعلقہ ججز ہائی کورٹ کو جواب دہ ہوں گے۔

وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے فوجداری مقدمات میں ترمیم سمیت نئے قوانین لانے کی منظوری دے دی۔

وزیراعظم عمران خان کو وزیر قانون فروغ نسیم نے 600 سےز ائد نکات میں ترمیم پر بریفنگ دی اور کہا کہ ملک بھر میں ایس ایچ او کے لیے گریجویشن کی ڈگری لازمی قرار دی جائے۔

فروغ نسیم نے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ فوجداری مقدمات کے حوالے سے آئینی ترامیم آئندہ ہفتے منظوری کے لیے کابینہ میں پیش ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ سے منظوری کے بعد آئینی ترامیم کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔

وزیر قانون نے مزید کہا کہ ایف آئی آر درج نہ ہونے پر ایس پی کو درخواست دی جاسکے گی، جو درخواست پر عمل درآمد کا پابند ہوگا۔

اُن کا کہنا تھا کہ 9 ماہ میں مقدمات کا فیصلہ لازمی ہوگا، اس دورانیے میں فیصلہ نہ ہونے پر متعلقہ ججز ہائی کورٹ کو جواب دہ ہوں گے۔

فروغ نسیم نے یہ بھی کہا کہ 9 ماہ میں ٹرائل مکمل نہ کرنے پر ججز کے خلاف ہائی کورٹ انضباطی کارروائی کرسکے گی۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے تھانوں کو اسٹیشنری، ٹرانسپورٹ اور ضروری اخراجات سرکاری فنڈ سے ملیں گے۔

وزیر قانون نے کہا کہ بےگناہی ثابت کرنے کے لئے آگ یا گرم کوئلوں پر چلنے جیسی روایات قابل سزا ہوں گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ عام جرائم کے مقدمات میں 5سال تک کی سزا کےلئے پلی بارگین کی جاسکے گی اور سزا کم ہوکر صرف 6 ماہ رہ جائے گی۔

فروغ نسیم نے مزید کہا کہ قتل، زیادتی، دہشت گردی، غداری اور سنگین مقدمات میں پلی بارگین نہیں ہوسکے گی۔

انہوں نے کہا کہ موبائل فوٹیج، تصاویر، آواز کی ریکارڈنگ، ماڈرن ڈیوائسز کو بطور شہادت قبول کیا جاسکے گا، فارنزک لیبارٹری سے ٹیسٹ کی سہولت دی جائے گی۔

وزیر قانون نے یہ بھی کہا کہ امریکا، برطانیہ کی طرز کا آزاد پراسیکیوشن سروس کا نیا قانون لانے کا فیصلہ ہوا، قوانین میں تبدیلی سے ملک کے پولیس اور عدالتی نظام میں انقلابی تبدیلی آئے گی، آرڈیننس نہیں لارہے، عام آدمی کا فائدہ ہوگا، اپوزیشن ساتھ دے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button