Column

ہم کہاں کھڑے ہیں

محمد عباس عزیز
سات دہائیوں کا سفر طے کرنے کے بعد بھی پاکستان کے حالات جوں کے توں ہیں، پاکستانی لوگ آج جن مسائل کا شکار ہیں ان کی بڑی وجہ ہمارے ملک کا نظام ہے جس میں ہم ابھی تک کوئی تبدیلی پیدا نہیں کر سکے۔ جنرل ضیاء الحق نے 1979ء میں ہمیں ایسی جنگ میں جھونک دیا جس کے نتائج آج تک ہم بھگت رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں دہشت گردی کی لہر میں تیزی آ گئی ہے اور ہمارے فوجی جوان شہید ہورہے ہیں، دنیا ہمیں دہشت گرد ممالک میں شمار کر رہی ہے جس کی وجہ سے اقتصادی ترقی کئی دہائیوں سے زوال پذیر ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو عوام کے مسائل کا کوئی ادراک نہیں ہے، فوجی حکمرانوں سے لے کر سیاسی پنڈتوں تک اپنی اپنی انائوں کا شکار ہیں۔ ماضی کی غلطیاں کوئی تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔ 70لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں، آبادی کا جن قابو میں نہیں آرہا، جعلی دوائیوں کی خبریں اخبارات کی زینت بن رہی ہیں، ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی ہڑتال سے عوام کو ذلیل و رسوا کیا جارہا ہے۔ بجلی کے بلوں نے عوام کی آتما رول دی ہے، کوئی چیز حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہے۔ تاجر من مانیاں کر رہے ہیں، تمام اشیائے خورونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، پولیس کا نظام ابھی تک ہم درست نہیں کر سکے، ہماری عدلیہ دنیا کے پست ترین درجہ میں شمار ہوتی ہے۔ قومی اسمبلی میں قانون سازی کے بجائے سیاستدان اپنے مفاد کو مد نظر رکھتے ہیں، تمام شعبہ جات اپنی پستی کی انتہائوں کو چھو رہے ہیں۔ عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے، کسان بیچارے گندم کی فصل کے لئے کھاد کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔ ملک ایک ٹرائیکا کی شکل اختیار کر چکاہے جس کو بھی ہاتھ لگائو پورا مافیا اکٹھا ہو کر حکومت کو بلیک میل کرنا شروع کر دیتا ہے۔ ایئر پورٹ ہمارے ویران پڑے ہیں، تجارتی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ مڈل ایسٹ، انڈونیشیا، ملائیشا، سنگا پور اور کئی دیگر ممالک جو ہم سے ترقی میں کافی پیچھے تھے آج کہاں سے کہاں پہنچ چکے ہیں۔ آخر ہمارے دنیا سے پیچھے رہ جانے کی وجہ کیا ہے؟۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ ہم ابھی تک کوئی سسٹم نہیں بنا سکے۔2024 ء کا سال الیکشن کا سال ہے الیکشن کا ڈنکا بج چکاہے ابھی تک کوئی جماعت عوامی امنگوں کے مطابق اپنا منشور پیش نہیں کر سکی۔ مسلم لیگ ( ن) ماضی میں ہونے والی زیادتیوں کا ماتم کر رہی ہے جبکہ پی ٹی آئی لیول پلیئنگ فیلڈ کا رونا رو رہی ہے۔ بلاول بھٹو بھی اپنے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں، ایسے محسوس ہو رہاہے کہ الیکشن کے بعد بھی دال جوتوں میں بٹ رہی ہوگی۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں کوئی جماعت اپنی پانچ سالہ مدت پوری نہیں کرتی تاکہ معلوم ہوسکے کہ اس نے برسراقتدار آ کر عوام کیلئے کیا کام کئے ہیں۔ اگر70سالوں میں جمہوری سسٹم کو ڈی ریل نہ کیا جاتا تو آج تمام سیاسی جماعتوں کی کارکردگی آشکار ہوچکی ہوتی۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہوسکا، زیادہ دور نہ جائیں 2013ء کے الیکشن میں نواز شریف وزیراعظم پاکستان بنے، ان کی حکومت کے خلاف میڈیا میں ایسا پراپیگنڈا کیا گیا اور ایک ایسی جماعت کو بانس پر چڑھایا گیا جو اب قابو میں نہیں آرہی۔ تمام راز آشکار ہوچکے ہیں لیکن آج تک کسی نے اپنا گناہ قبول نہیں کیا۔ ایک بات تو نوازشریف درست کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے پائوں پر خود کلہاڑیاں چلائی ہیں۔ عدلیہ سمیت تمام کردار اب ماضی کا قصہ بن چکے ہیں لیکن افسوس تو یہ ہے کہ سبق کوئی نہیں سیکھتا۔ اس وقت ملک پاکستان کے تمام شعبہ جات میں غیر معمولی اصلاحات کی ضرورت ہے۔8فروری کو ہونے والے الیکشن میں تمام جماعتوں کو نمائندگی دی جائے، الیکشن ہر صورت شفاف ہونے چاہئیں، آنے والی حکومت کو مکمل آزادی سے کام کرنے دیا جائے، اسے مذہبی پیشوائوں کے دھرنوں اور دیگر قباحتوں سے محفوظ رکھا جائے۔ اس میں ہمارے خیال میں دو اہم ادارے کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ایک عدلیہ اور دوسری اسٹیبلشمنٹ۔ خوش قسمتی سے اس وقت دونوں اداروں کے سربراہ غیر معمولی کردار کی شخصیات ہیں۔ چیف جسٹس جناب قاضی فائز عیسیٰ اور چیف آف آرمی سٹاف جناب سید عاصم منیر صاحب سے پاکستانی عوام کو کافی امیدیں ہیں۔ عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ مل کر کوئی ایسا نظام واضح کر دیں کہ آئندہ جمہوری سسٹم کو کوئی ڈی ریل نہ کر سکے، کوئی طبقہ یا گروہ افراتفری پیدا نہ کرے۔ ہم سب کے علم میں ہے کہ کسی دوسرے اسلامی ملک میں ایسا نہیں ہوتا جس طرح ہمارے ہاں غیر ضروری دھرنے، جلسے جلوسوں کا ماحول پیدا کرکے ملک کے ساتھ کھلواڑ کیا جاتاہے۔ اگر ان سب قباحتوں پر قابو پا لیا جائے تو پھر جا کر ہم سنبھل سکتے ہیں۔ معیشت کو درست کرنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے اس کیلئے تمام سٹیک ہولڈزز کو میثاق معیشت کرنا ہوگا۔ پھر جا کر اقتصادی حالات میں کوئی بہتری کے آثار پیدا ہوسکتے ہیں۔ شارٹ کٹ سے کچھ نہیں ہوگا اور اگر ایسا نہ ہوا تو پھر دہشت گردی، پسماندگی، غربت، جہالت، انتہاء پسندی، بداخلاقی جیسی قباحتوں سے نجات نہیں پا سکتے۔ آج ہم دنیا کی نظروں میں کہاں کھڑے ہیں اس کیلئے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں، ہمارے ہمسایہ ملک بھارت کو دیکھ لیں دنیا میں اس کا کیا مقام ہے۔ کم از کم ہمیں اپنے دشمن سے تو سبق سیکھ لینا چاہئے۔ رب تعالیٰ کی ذات پاکستان کو ہمیشہ سلامت رکھے۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button