CM RizwanColumn

مصنوعی ذہانت اور مصنوعی انقلاب

جگائے گا کون؟
تحریر سی ایم رضوان

موجودہ دور میں بہت زیادہ مقبولیت اور اہمیت حاصل کر لینے والی آرٹیفشل انٹیلی جنس یعنی مصنوعی ذہانت کیا ہے۔ ایک روبوٹک مشین سے سوچنے کا کام کروانا اور اس کی مصنوعی سوچ کے مطابق اس مشین سے کام لینا یا انسان کا خود کر لینا، اس مصنوعی ذہانت سے بات کو اگر آگے لے کر چلا جائے تو ہم جیسے شعر و ادب میں غرق لوگوں کے لئے تو دیوان غالب کا ایک عدد پہلا شعر ہی ساری کہانی بیان کر دیتا ہے کہ نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا۔ کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا۔ تقریباً ایک صدی پہلے دہلی کے ایک شاعر کا بیان کردہ تصنع کی جامعیت کا یہ فلسفہ جان اور مان لینے والے ہم جیسے ادب گزیدہ لوگوں کو جدید دور کی یہ آرٹیفشل انٹیلی جنس تھوڑا سا بھی متحیر اور متاثر نہیں کر سکتی۔ جس طرح کہ بانی پی ٹی آئی کا مصنوعی انقلاب پاکستان کے متعدد جدیدیت کے نام نہاد علمبردار اشخاص کو متاثر کرنے کے باوجود ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکا اور جس طرح کہ فلسطین کی بظاہر حمایت میں لڑنے والی تنظیم حماس کی فلسطینی عوام کے لئے مضرت رساں عسکری کارروائیاں ہماری نظر میں امریکی اور اسرائیلی مفادات کی محافظ ہیں۔ پراپیگنڈے، جھوٹ اور دھوکہ دہی جیسے ہتھکنڈوں سے دنیا کے کروڑوں لوگوں کے جذبات سے کھیلنے والے یہ چند کاری گر ہماری نظر میں محض کاغذی ہیرو اور بظاہر ان کے خلاف جھوٹی نعرہ کرنے والے جعلی زیرو ہیں۔ ویسے ایک سوال ہے کہ جس طرح ایک معقول انسانی ذہن آج دنیا کے وسائل اپنی عیاشیوں میں اڑانے والے ان شعبدہ بازوں اور انسانی خون سے ہولی کھیلنے والے ان نام نہاد مجاہدوں کو پہچان چکی ہے بالفرض اگر کل کلاں اس مصنوعی ذہانت نے بھی ان کو ننگا کر دیا تو پھر اس مصنوعی ذہانت کے موجد کہاں جائیں گے اور نام نہاد ہیرو کس نکڑ میں منہ دیں گے جو آج اپنی شرانگیز ذہانت سے شر کو روز بروز طاقت دے رہے ہیں اور خیر کو وقتی ناکامی سے دوچار کر رہے ہیں۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو لاحق خطرات کے باعث خود اس کے گاڈ فادر کہلایا جانے والا جیفری ہنٹن بھی آج سے ایک سال قبل ہی اس مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے خطرات سے متعلق دنیا کو خبردار کر چکا ہے اور ساتھ ہی کاروباری ادارے ان کوششوں میں لگے ہوئے ہیں کہ وہ کیسے اس ٹیکنالوجی کو اپنے حق میں استعمال کر سکتے ہیں۔ 75سالہ جیفری ہنٹن نے گوگل سے مستعفی ہونے کے بعد دنیا کو خبردار کر دیا تھا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس چیٹ بوٹس انسانوں سے زیادہ ذہین ہو سکتے ہیں۔ دوسری طرف کئی کاروباری اداروں کے سربراہان بھی اپنے اداروں کی بورڈ میٹنگز میں اسی بات پر زور دے رہے ہیں کہ وہ کیسے جلد از جلد چیٹ جی پی ٹی کی طرز کی ٹیکنالوجی کو اپنے کاروبار میں استعمال کر سکتے ہیں۔ اس چیٹ کے تماشے کا ایک خاکہ یہ ہے کہ چند ماہ قبل برطانیہ کی ایک بڑی کمپنی کے سربراہ نے چیٹ جی پی ٹی پر ایک کسٹمر کی شکایت کا متن ڈالا اور موقع پر ہی کچھ اصول چیٹ جی پی ٹی میں درج کر دیئے پھر اس آرٹیفیشل انٹیلی جنس چیٹ بوٹ سے کہا کہ وہ ان اصولوں کے مطابق اس شکایت پر ردعمل دے۔ تقریباً ایک منٹ میں چیٹ جی پی ٹی نے بغیر کسی کوڈنگ کی ضرورت کے ایک ایسا جواب دیا جو قابل قبول ہو سکتا تھا اور یہ بھی کہ اس سب سے حاصل ہونے والا نتیجہ 85فیصد قابل قبول اور درست تھا۔ یعنی اگر کسی کال سنٹر میں بیٹھا کوئی شخص اس شکایت کو حل کرتا تو وہ بہتر نتائج دیتا لیکن جو جواب چیٹ جی پی ٹی نے دیا، اس پر اس سے کئی گنا کم لاگت درکار تھی جو سٹاف رکھنے پر آتی ہے لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ اس 15فیصد پر توجہ مرکوز کرنے کے لئے جو چیٹ جی پی ٹی سے رہ گیا تھا، اس کے لئے سٹاف کی ضرورت تو ہوگی۔ اس لئے یہ امر واضح ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے نوکریوں کو لاحق خطرہ موجود ہے۔ گو کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ماڈل فی الحال اگر ایک ذہین بالغ جتنی قابلیت نہیں رکھتے تو وہ دن دور نہیں کہ جب وہ ایک ذہین ترین انسان جتنے قابل ہو جائیں گے، کیونکہ یہ روبوٹ بھی ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ساتھ طاقتور ہو رہے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی میں پیش قدمی توقع سے زیادہ تیزی سے ہو رہی ہے اور اس مقام کی جانب گامزن ہے جہاں اس کو اپنانا نسبتاً کفایتی ہوگا۔ ان روبوٹس کی موجودگی میں تخلیقی کاموں کے لئے اب ہفتوں کی بریفنگ کے بجائے سیکنڈوں میں کام شروع کیا جا سکتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی سے آنے والی تبدیلی اور اسے اپنانے کی رفتار کا مطلب ہے کہ رواں سال ہی ترقی یافتہ ممالک میں معیشت اور ملازمتوں پر اس کے اثرات نظر آ سکتے ہیں۔ یہ بھی خوش آئند ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس معیشت کے ان حصوں پر غلبہ حاصل کر سکتی ہے جن میں اب تک پیداوار میں بہتری کی گنجائش ہے کیونکہ یہ ایسے شعبے ہیں جن میں بہتر پیداوار کے لئے وقت اور علم درکار ہے۔ کیونکہ ٹیکنالوجی ہماری زندگی کے معیار میں بہت زیادہ بہتری لائی ہے۔ ہمارے تمام سمارٹ فونز پر سٹریمنگ سروسز کے ذریعے وہ تمام مواد اب فوری دستیاب ہوتا ہے جس کی کبھی ہم صرف خواہش کر سکتے تھے۔ اس جدت نے ہمارے فرصت کے وقت کو مزید پرلطف بنا دیا ہے لیکن اس نے ہمارے کام کے وقت کو زیادہ مفید نہیں بنایا ہے۔ اس نے انسان کے بوریت کے تجربے کو ختم کر دیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس نے آپ کو کام پر زیادہ مفید بنا دیا ہے۔ جس کا جواب یہ ہے کہ یہ انسان کی اپنی ترجیحات پر منحصر ہے یعنی اگر اس مصنوعی ذہانت کو انسان چاہے گا تو مثبت اور مفید بنا سکے گا ورنہ نہیں۔ دنیا کی معیشت کو اصل جھٹکا یہ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی اب کمرشل تناظر میں قابل استعمال ہے، نہ کہ صرف کم علمی یا بار بار کیے جانے والے یعنی روبوٹک کاموں کے لئے، جن کے بارے میں ہمیشہ سے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ ایسے کاموں کو ہی مشینوں سے کروایا جا سکتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی انتہائی تخلیقی، اعلیٰ قدر والے کام کے لئے کتنی قابل استعمال ہے، جسے مقابلے سے نسبتاً محفوظ تصور کیا جاتا تھا۔ اوپن اے آئی یا چیٹ جی پی ٹی کے بانی سیم آلٹ مین نے خود اس ٹیکنالوجی کے اب تک کے استعمال پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ خاص طور پر اس بات پر کہ کسی بھی تخلیقی عمل کے آغاز میں کاپی لکھنے، تصویر بنانے، موسیقی بنانے یا پروگرام کو کوڈ کرنے کے لئے ہفتوں کی بریفنگ کی بجائے اب سیکنڈوں میں یہ کام شروع کیا جا سکتا ہے اور یہ سب کچھ مصنوعی ذہانت کے اس ورعن سے ممکن ہے جو ابھی بالغ انسان کی سطح کا ذہین نہیں ہے۔ اس لئے اچھی خبر یہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا برطانیہ میں باقی دنیا کے مقابلے میں تیزی سے استعمال برطانیہ میں پیداوار کے بحران کو حل کر سکتا ہے۔
بری خبر یہ بھی ہے کہ یہ تبدیلی اتنی تیزی سے رونما ہو سکتی ہے کہ ملازمین کو اس کے مطابق ڈھلنے کا وقت نہ ملے۔ جس سے ایک سماجی اور معاشی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے تبدیل نہ کیا جائے لیکن آپ کی جگہ کوئی ایسا شخص لے سکتا ہے جو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو استعمال کرنا جانتا ہو۔ اس لئے سب کو کوڈ کرنا سیکھنا چاہیے لیکن شاید اب آئندہ یہ مشورہ ملنا بھی بند ہو جائے۔
یہ تو ہیں اس جدید دنیا کی باتیں جس کے رہنے والے کچھ کر رہے ہیں اور کچھ کرنا جانتے اور چاہتے ہیں لیکن ہمارے ملک میں تو پچھلے ساڑھے پانچ سال سے ایک مصنوعی سیاسی انقلاب نے مصیبت پیدا کر رکھی ہے۔ کمال مہربانی سے عرصہ ایک سال سے طاقتور حلقے اس مصیبت کو اصولی طور پر ختم کرنے کا کام شروع کر چکے ہیں اور وہ کام کرنا بھی چاہتے ہیں۔ یقیناً اس مصنوعی انقلاب کا خاتمہ ہی عین حب الوطنی اور وطن دوستی ہے اور یقیناً اس افراتفری پر مبنی انقلاب کے خاتمے کے بعد ہی ملک اپنے درست راستے پر گامزن ہو گا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ خاتمہ بالخیر خود بتا رہا ہے کہ اس خاتمے کی ضرورت اور اہمیت کس قدر زیادہ تھی اور ہے۔ حالات و واقعات خود گواہی دے رہے ہیں کہ اس مصنوعی سیاسی انقلاب نے ملک میں مصنوعی ذہانت کے طریقے کو اس بیدردی کے ساتھ اور منفی انداز میں استعمال کیا ہے کہ ملک کی اصلی ذہانت کیموفلیج ہو گئی ہے۔ تازہ کارروائی اس مصنوعی انقلاب نے یہ ڈالی ہے کہ ایک ویلاگر اور معروف رائٹر کی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک مصنوعی ویڈیو تیار کی ہے جو انتخابات میں استعمال کی جا سکتی ہے۔ اس مصنوعی انقلاب کی ساری کی ساری بنیاد جھوٹ اور مصنوعی سچ پر ہے۔ یہ بھی خوشی کی خبر ہے کہ اس مصنوعی انقلاب کو شاید یہ اندازہ ہی نہیں کہ اب اسے بیرسٹر گوہر اور شیر افضل مروت جیسے مصنوعی انقلابی دے دیئے گئے ہیں جو کہ چند ماہ بعد خود ہی اس مصنوعی انقلاب کا فاتحہ اپنے ہاتھوں سے پڑھیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button