ColumnQadir Khan

فہم کی حدود میں عقل کی عیاری ۔۔ قادر خان یوسف زئی

قادر خان یوسف زئی

 

آپ غور کیجئے کہ1868میں دنیا کی مذہب ترین قوم کے منتخب افراد اپنی عقل و بصیرت کی پوری روشنی میں کامل غور و خوض کے بعداس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ سیاہ رنگ کے انسانوں کا مرتبہ، سفید رنگ کے انسانوں کے برابر کبھی نہیں ہوسکتا ، اس لیے یہ دونوں ایک صف میں کھڑے نہیں ہوسکتے ، اس فیصلہ کو ابھی تیس برس بھی ہونے نہ پائے تھے کہ اس قوم کے بہترین دماغ پھر ایک جگہ جمع ہوئے اور وہ کامل غور و فکر کے بعد ، اس نتیجہ پر پہنچے کہ 1868کا فیصلہ غلط تھا ، سیاہ رنگ کے انسانوں کو بھی حق حاصل ہے کہ وہ تعلیم کی روشنی سے بہرہ یاب ہوں لیکن انہیں سفید فام بچوں سے الگ رکھ کر تعلیم دینی چاہئے البتہ اس تعلیم کے انتظامات اور سہولتوں میں کسی قسم کا فرق نہیں کرنا چاہیے یعنی ان کی تعلیم یکسا ںلیکن جداگانہ ہونی چاہیے ، البتہ اس تعلیم کے انتظامات اور سہولتوں میں کسی قسم کا فرق نہیں کرنا چاہیے ۔ اس فیصلہ کو بھی اسی طرح سراہا گیا جس طرح 1868کے فیصلہ کو سراہا گیا تھا ، اس فیصلہ پر صرف نصف صدی گذری تھی کہ اس قوم ے بہترین دماغ پھر جمع ہوئے اور کامل غور و خوض کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ جداگانہ اور مساوی دو متضاد الفاظ ہیں جو کہ بیک وقت ایک جگہ اکھٹے نہیں ہوسکتے ۔ حیرت ہے کہ1896میں ہمارے اسلاف اتنی سی بات کو بھی سمجھ نہ سکے لہٰذا اس غیر معقول اور مضحکہ خیز فیصلہ کو بدل دینا نہایت ضروری سمجھا گیا ۔غور کیجئے کہ 1868کی عقل نے ایک فیصلہ کیا جسے 1896کی عقل نے غیر معقول قرار دیا اور 1896کی عقل نے جو فیصلہ کیا اسے 1954کی عقل نے حماقت ٹھہرادیا ۔یہ نہیں کہا جاسکتا کہ 1868یا 1896کے فیصلے عقل پر مبنی نہیں تھے۔ وہ بھی عقل کے ہی فیصلے تھے اور 1954 میں بھی جو فیصلہ کیا گیا وہ بھی عقل کا ہی فیصلہ ہے اس سے ظاہر ہے کہ ہر آنے والے دور کی عقل گذرے ہوئے دور کی عقل کے فیصلوں کو غلط ٹھہراتی چلی جاتی ہے۔ بقول اقبال
زماں زماں شکند آنچہ می تراشد عقل
یعنی جو کچھ ایک فرد کی زندگی میں ہوتا ہے وہی کچھ انسانیت کی تاریخ میں ہوتا ہے ، ایک فرد جو فیصلے بچپن میں کرتا ہے انہیں خود ہی جوانی کی عمر میں پہنچ کر مسترد کردیتا ہے اور جو فیصلے جوانی کے زمانے میں کرتا ہے ، پختگی کی عمر میں پہنچ ان پر خود ہی ہنستا ہے ، غور کیجئے کہ عقل فیصلے کس طرح کرتی ہے اور پھر اپنے فیصلوں کو بدلتی کیوں ہے ؟ انسان کے حواس کچھ معلومات بہم پہنچاتے ہیں ، اس کے دل و دماغ ان فیصلوں کی چھان پھٹک کرتے ہیں اور کسی ایک نتیجہ پر پہنچتے ہیں ، اس نتیجہ کو عقل کا فیصلہ کہتے ہیں یہ ظاہر ہے کہ انسا ن کے حواس محدود ہیں ،وہ اپنے دائرہ کے اندر کی معلومات ہی بہم پہنچا سکتے ہیں ، جس زمانے میں کوئی انسان پیدا ہوتا ہے ، اسی زمانے تک کی معلومات اس کے دائرہ حواس کے اندر آسکتی ہیں ، سو جب یہ معلومات محدود ہیں تو ان سے اخذ کردہ نتائج بھی محدود ہوں گے ، یہی عقل کے فیصلوں کی بنیادیں ، عقل ایک فیصلہ کرتی ہے اور پھر اسی پر عمل پیرا ہوجاتی ہے ۔ کچھ عرصہ کے تجربہ کے بعد اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس فیصلہ میں غلطی تھی ۔ وہ اس مقام پر رکتی ہے اور اپنے سابقہ ناکام تجربہ کی روشنی میں ایک نیاموڑ مڑتی ہے یہی عقل کا طریق کار ہے ۔ وہ اسی تجارب کیلئے آگے بڑھتے چلی جاتی ہے۔ تجربہ کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں جس سے وہ قدم اٹھانے سے پہلے معلوم کرسکے کہ اس فیصلہ صحیح ہے یا غلط ۔
اب اس حقیقت کی جانب واپس آتے ہیں کہ نظام تعلیم میں جتنے تجربے کئے گئے اس کا ایک نتیجہ سامنے آیا ہے کہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق سرکاری پالیسی میں پرائمری سے اعلیٰ تعلیم کے حصول تک تعلیم کا معیار ایسا نہیں جس میں ہنر مند اور آئی ٹی پروفیشن میں قابل نوجوانوں کی کھیپ بن سکے اور سائنسی علوم میں ملک و قوم کا بہترین سرمایہ ثابت ہو۔ یہاں عقل کام نہیں کرتی کہ جس قسم کی دوہری تعلیم دی جا رہی ہے کیا اس سے ملک و قوم کی فلاح و بہبود اور جدید دور کے تقاضے پورے کئے جاسکتے ہیں تو اس کا جواب کسی ان پڑھ سے بھی معلوم کریں تو اس قسم کی تعلیمی پالیسی کوناقص پالیسی قرار ہی نہیں دے گا بلکہ اسے وقت کا ضیاع ہی سمجھے گا پرائیویٹ اداروں میں تکنیکی تعلیم دی جاتی ہے لیکن اس تک رسائی ہر طالب علم کیلئے ممکن نہیں ۔ دوہرا نظام تعلیم بدلنے کی باتیں کئی دہائیوں سے کی جا رہی ہیں لیکن طبقات کے منقسم شدہ نوجوانوں میں احساس محرومی بڑھتا جارہا ہے اور معاشرے کے قابل فرد بننے کا سفر کافی دوری پر ہے۔
کچھ اسی طرح عقل کے ہاتھوں ملک کے سیاسی معاشرتی نظام پر لیے جانے والے فیصلوں کے مضر اثرات نمایاں طور پر جڑیں کھوکھلی کررہا ہے۔ بار بار کئے جانے والے تجربوں نے ملک کے انتظام و انصرام کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے اور اس کی درست ترتیب کیلئے عقل کے مثبت فیصلے کب کئے جائیں گے اس کے امکانات میں بھی شکوک کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔موجودہ حالات کا ہی تجزیہ کرلیں توسمجھنے میں کوتاہی نہیں ہوگی کہ مسیاست ، معیشت اورتحفظ سے لے کر جتنے فیصلے کئے گئے ، عقل کہتی ہے کہ وہ فرسودہ اور ناقابل عمل تھے ۔ وقت تقاضا کرتا ہے کہ عقل سے پیدل ہونے سے قبل مناسب فیصلے کرکے سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران کو ٹالا جاسکتا ہے۔
معاشرت میں تمام امور میں درست راہ کا انتخاب سب سے پہلے تعلیم سے شروع ہوتا ہے ۔ غریب او ر امیر کے تعلیم کا میزان ( کالے اور سفید ) یکساں ہونا چاہے لیکن اس یکساں کو جداگانہ کرنے کے بجائے صرف مساوی کا اصول و قانون اپنانے کی ضرورت ہے۔جب تک اس واضح فرق کے ساتھ نیا معاشرہ ترتیب دینے کی شروعات نہیں کی جائیں گی اس وقت تک درست فیصلے بھی نہیں ہوں گے ، کچھ وقت بعد اندازہ ہوجائے گا کہ قوم و ملت کیلئے عقل کے فیصلے زمانے کی تیز رفتار کے ساتھ نہیں چل سکتے ۔ یاد داشت کے مقابلے کے بجائے عقل و فہم کے امتحانات اور عملی تعلیم ہی قوم کو نئے زمانے کے ساتھ ہم آہنگ کرسکتی ۔ زمینی حقائق کے مطابق تعلیم ہی وہ پہلا زینہ جس پر چڑھ کر آگے بڑھا جاسکتا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button