تازہ ترینخبریںپاکستان سے

ایم کیو ایم کے دھڑوں میں اتحاد ، پی ایس پی بھی شامل

 متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے دھڑے بسروں کے بعد آج پھر سے ایک ہوگئے، مصطفیٰ کمال اور فاروق ستار ایم کیو ایم مرکز بہادرآباد پہنچ گئے ، مصطفیٰ کمال نے پی ایس پی سے ایم کیو ایم میں شمولیت کا اعلان کردیا۔

مصطفیٰ کمال نے پی ایس پی کو ایم کیو ایم میں ضم کرنے کا اعلان کردیا۔ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ مشترکا کاوشیں رنگ لائی ہیں، مصطفیٰ کمال، فاروق ستار اور ان کے ساتھیوں کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ قوم میں مایوسی پیدا کرنے والوں کو آج مایوسی ہو رہی ہے، پاکستان بنایا تھا، اب پاکستان بچائیں گے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ آج تاریخی دن ہے، آج نہ سمجھ میں آنے والے فیصلے ہونے جا رہے ہیں، الطاف حسین سے کوئی ذاتی لڑائی نہیں تھی، جو کچھ بٹتا تھا، سب کو ملتا تھا۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ روزانہ پاکستان کی ریاست اور پاکستان کی فوج کو گالی دی جا رہی تھی، کراچی کو را کے تسلط سے اس لیے آزاد نہیں کروایا کہ آصف زرداری کا اس پر تسلط ہو۔ آج مصطفیٰ کمال اور اس کے ساتھی ایک اور ہجرت کر رہے ہیں، یہ ہجرت پی ایس پی سے ایم کیو ایم کی طرف ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ آصف زرداری کا ارادہ ہے کہ بلاول کو وزیراعظم پاکستان بنائیں، بلاول کو وزیراعظم بنانا ہے تو کراچی کو ساتھ لے کر چلنا پڑے گا، پاکستان چلانے والوں سے گزارش ہے کہ اب کراچی کے لوگوں کے دکھوں کا مداوا کرنے کا وقت ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی پاکستان کو پالتا ہے، آج بھی پاکستان کو چلا سکتا ہے، پال سکتا ہے، سٹیبلشمنٹ سے کہتا ہوں، کراچی کے نوجوانوں کو ایک بار مکمل معافی دی جائے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ خالد مقبول صدیقی کی رہنمائی میں کام کریں گے، کوئی کورنگی کوئی سینٹرل ضلع پر قبضے کا خواب دیکھ رہا ہے، ذرا سا شریف کیا ہوئے، پورا شہر ہی بدمعاش ہوگیا۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ آج ایک متحرک اور منظم ایم کیو ایم شروع کرنے جا رہے ہیں، ایک ری برانڈڈ ، ایک ریفارم ایم کیوایم سامنے لا رہے ہیں، جنیوا سے 10 ارب ڈالرز ملنے پر خوش ہو رہے ہیں، کراچی کو موقع دیں، 10 ارب ڈالر تنہا کراچی کما کر دے سکتا ہے، ایم کیو ایم کی تقسیم زہر قاتل تھی۔

فاروق ستار نے کہا کہ لکیر 23 اگست کو کھینچی گئی، تو ہم پر 22 اگست کا مقدمہ اب تک کیوں چل رہا ہے؟ ہمیں جو فیصلہ کرنا تھا، وہ فیصلہ ہم 23 اگست کو کر چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شارع فیصل پر دھرنا دے یں تو دیکھتے ہیں پھر 15 جنوری کا الیکشن کیسے ہوتے ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button