تازہ ترینخبریںپاکستان سے

وزیرستان امن عوامی تحریک کا تیسرے روز بھی بدامنی کیخلاف احتجاجی دھرنا

وانا (رپورٹ آدم خان وزیر سے) قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان لوئر کے ضلعی ہیڈکوارٹر وانا میں ” وزیرستان امن اولسی پاسون” ( وزیرستان امن عوامی تحریک) کی تیسرے روز بھی بدامنی، ٹارگٹ کلنگ، ڈکیتی اور اغواء برائے تاوان کے خلاف احتجاجی دھرنا جاری ہے۔

امن کے قیام کے سلسلے میں ہونے والے احتجاجی دھرنے میں تیسرے روز لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

دوسری جانب اسسٹنٹ کمشنر وانا یاسر سلمان کنڈی نے اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ انکے مطالبات جائز ہیں اور مظاہرین کی دس پوائنٹس ایجنڈا ہے، اس پر پہلے سے کام جاری ہے۔

انکے جائز مطالبات حل کرنے کی کوششیں تیز کردی گئی ہے۔

مقامی سطح پر امن کے قیام کیلئے تمام سیاسی پارٹیوں کے مقامی قائدین، پی پی پی، اے این پی، جے یوآئی، جے آئی، پی ٹی آئی، این ڈی ایم، پختونخوا میپ، تاجر برادری، پی ٹی ایم، قبائلی عمائدین اور نوجوانوں کی بڑی تعداد احتجاجی دھرنے میں شریک رہے۔

مختلف سیاسی پارٹیوں کے مقامی رہنماؤں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا، اور ” وزیرستان امن اولسی پاسون” ( وزیرستان امن عوامی تحریک) کی جانب سے حکومت سے 10 نکاتی ایجنڈے پر مشتمل مطالبات پیش کئے۔

1: امن سول حکومت کی ذمہ داری ہے، پولیس کو اگر مطلوب اشخاص یا کسی جگہ سرچ آپریشن یا کاروائی کرنا لازمی ہو تو قانون کے مطابق ایکشن لیا جائے۔

اگر پولیس کو ایف سی یا فوج کی ضرورت پڑے تو پولیس آرڈر 2002 کے آرٹیکل 126 کے تحت مدد لے سکتی ہے۔

2: سابقہ فاٹا خیبر پختونخوا میں ضم ہوچکا ہے، 1973 کے آئین کے تمام شقیں سابقہ فاٹا کے علاقوں پر لاگو ہیں،

لہذا آئین و قانون کے علاوہ امن کمیٹی ، قومی لشکر یا 2007 معاہدہ ہمیں کسی صورت قابل قبول نہیں۔

3: جنوبی وزیرستان لوئر میں امن حکومتی رٹ کی بحالی سے مشروط ہے، حکومتی رٹ کی بحالی کیلئے لوئر وزیرستان کو الگ ڈی پی او، ججز بشمول تمام لائن ڈیپارٹمنٹ وانا منتقل کی جائے،

4: جمشید وزیر کو فی الفور بازیاب کیا جائے۔

5: سپین ، اعظم ورسک، شکئی، انگوراڈہ، زرملن، راغزائی تھانوں پر قائم چھوٹے بڑے بازاروں میں پولیس چوکیاں قائم کی جائے۔

پولیس کو قانونی اختیارات اور مراعات دی کائے، خاصہ دار فورس کی بند نوکریاں بحال کرنا اور موجودہ پولیس نفری کی حاضری کو یقینی بنایاجائے،

6: پولیس تھانوں ، پولیس چوکیوں اور دوران گشت پولیس کی تحفظ کیلئے ایمرجنسی بنیادوں پر ایف سی تعینات کی جائے۔

7: کالے شیشے والی گاڑیوں سرکاری /غیرسرکاری کے خلاف بلاامتیاز پابندی اور سخت کاروائی کی جائے، خلاف ورزی کرنے والے افراد کو گرفتار کرکے قانونی کاروائی کیلئے عدالتوں میں پیش کیا جائے۔

8: منشیات کے خلاف بلا تفریق کاروائی کی جائے۔

9: ہر قسم کے مسلح تنظیموں اور شرپسند عناصر پر پابندی عائد کی جائے۔

10: پاک افغان بارڈر انگوراڈہ پر تجارت میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے، اور پاکستانی شناختی کارڈ رکھنے والے کو انگوراڈہ گیٹ پر آنے جانے کی اجازت دی جائے۔

دھرنے کا شرکاء کا کہنا تھا کہ اگر ہمارے جائز مطالبات نہ مانے گئے تو احتجاجی دھرنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔

شرکاء کا مزید کہنا تھا کہ ہم حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ ہماری مطالبات کو سنجیدگی سے لیکر اسکا حل نکالا جائے ورنہ ہم سخت قدم اٹھانے پر مجبور ہوجائیں گے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button