ColumnImtiaz Ahmad Shad

خلق خدا کی فریاد ۔۔ امتیاز احمد شاد

امتیاز احمد شاد

 

زمینی خداجب اپنے ظلم اور جبرکو بام عروج پر لے جاتے ہیں تو عرش معلی کا مالک اور کائنات کا خالق اپنی مخلوق کو انصاف فراہم کرنے کیلئے کوئی نہ کوئی نجات دہندہ ضرور بھیجتا ہے۔اسی لیے ارشاد باری تعالی ہے کہ ـاللہ کی رحمت سے مایوس مت ہوں۔حصہ بقدر جثہ سب نے وطن عزیز کی بربادی میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ظالم ہمیشہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ کامیاب ہو گیا مگر اسے یہ معلوم نہیں کہ اس سے نجات دلانے والا کس قدر طاقتور ہے۔شیخ سعدی فرماتے ہیں کہ ایک بادشاہ کسی مہلک بیماری میں مبتلا ہو گیا کافی دن علاج کرنے کے باوجود جب اسے آرام نہ آیا تو طبیبوں نے صلاح مشورہ کر کے کہا کہ اس بیماری کا علاج صرف انسان کے پتے سے کیا جاسکتا ہے اور وہ بھی ایسے انسان کے پتے سے جس میں یہ یہ خاص نشانیاں ہوں۔ یہ کہہ کر حکیموں نے وہ نشانیاں بتائیں اور بادشاہ نے حکم دے دیا کہ شاہی پیادے سارے ملک میں پھر کر تلاش کریں اور جس شخص میں یہ نشانیاں ہوں اسے لے آئیں۔ پیادوں نے فوراً تلاش شروع کر دی۔ خدا کا کرنا کیا ہوا کہ وہ ساری نشانیاں ایک غریب کسان کے بیٹے میں مل گئیں۔ پیادوں نے کسان کو ساری بات بتائی کہ بادشاہ کے علاج کیلئے تیرے بیٹے کے پتے کی ضرورت ہے۔ اسے ہمارے ساتھ بھیج دے اور اس کے بدلے جتنا چاہے روپیہ لے لے کسان بہت غریب تھا۔ ڈھیر سارا روپیہ ملنے کی بات سن کر وہ اس بات پر آمادہ ہو گیا کہ سپاہی اس کے بیٹے کو لے جائیں۔ چنانچہ وہ اسے بادشاہ کے پاس لے آئے۔خاص نشانیوں والا لڑکا مل
گیا تو اب قاضی سے پوچھا گیا کہ اسے قتل کر کے اس کے جسم سے پتا نکالنا جائز ہو گا یا نہیں!قاضی صاحب نے فتویٰ دے دیا کہ بادشاہ کی جان بچانے کیلئے ایک جان کو قربان کر دینا جائز ہے۔قاضی کے فتوے کے بعد لڑے کو جلاّد کے حوالے کر دیا گیا کہ وہ اسے قتل کر کے اس کا پتا نکال لے لڑکا بالکل بے بس تھا۔ وہ اپنے قتل کی تیاریاں دیکھ رہا تھا اور خاموش تھا۔ زبان سے کچھ نہ کہہ سکتا تھا لیکن جب جلاد تلوار لے کر اس کے سر پر کھڑا ہو گیا تو اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی۔ بادشاہ خود اس جگہ موجود تھا۔ اس نے اسے مسکراتے ہوئے دیکھا تو بہت حیران ہوا۔ جلاّد کے ہاتھ میں ننگی تلوار دیکھ کر تو بڑے بڑے بہادر خوف سے کانپنے لگتے ہیں۔ اس نے جلاّد کو ر کنے کا اشارہ کر کے لڑکے کو اپنے پاس بلایا اور اس سے پوچھا اے لڑکے۔ یہ تو بتا، اس وقت مسکرانے کا کون سا موقع تھا؟لڑکے نے فوراً جواب دیا، حضور والا دنیا میں انسان کا سب سے بڑا سہارا اس کے ماں باپ ہوتے ہیں لیکن میں نے دیکھا کہ میرے
ماں باپ نے روپے کے لالچ میں مجھے حضور کے سپرد کر دیا۔ماں باپ کے بعد دوسرا سہارا انصاف کرنے والا قاضی اور بادشاہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی ظالم کسی کو ستائے تو وہ اسے روکیں۔ لیکن قاضی اور بادشاہ نے بھی میرے ساتھ انصاف نہ کیا اب میرا آخر ی سہارا خدا کی ذات تھی اور میں دیکھ رہا تھا کہ جلاّد ننگی تلوار لے کر میرے سرپر پہنچ گیا اور خدا کا انصاف بھی ظاہر نہیں ہو رہا۔ بس یہ بات سوچ کر مجھے ہنسی آ گئی۔لڑکے کی یہ بات سنی تو بادشاہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے حکم دیا کہ لڑکے کو چھوڑ دو۔ ہم یہ بات پسند نہیں کرتے کہ ہماری جان بچانے کیلئے ایک بے گناہ کی جان لی جائے۔لڑکے کو اُسی وقت چھوڑ دیا گیا۔ بادشاہ نے بہت محبت سے اسے اپنی گود میں بٹھا کر پیار کیا اور قیمتی تحفے دے کر رخصت کیا۔ کہتے ہیں۔ اسی وقت سے بادشاہ کی بیماری گھٹنی شروع ہو گئی اور چند دن میں ہی وہ بالکل تندرست ہو گیا۔ پاکستانی عوام کی حالت اس وقت اس لڑکے کی مانند ہے جو ہر طرف سے ناامید ہو کر اللہ تعالی کی بارگاہ میں ہونٹوں پر مسکراہٹ لیے شکوہ کر تا ہے۔اس بد قسمت قوم کو کبھی اغیار کی خواہشات پر ذبح کیا گیا تو کبھی اپنوں کے شوق کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔نظام عدل نے ہمیشہ ظل سبحانی کی جان کو بائیس کروڑ بھیڑ بکریوں کی جانوں سے مقدم جانا۔بلکتی ہوئی عوام کی خاطر آج
تک طاقتور ایوانوں میں غم کے بادل نہیں منڈ لائے۔طاقتور حلقوں کو جب بھی عوام کی محبت سے لے کر جان تک کی ضرورت پڑی عوام ایک لمحے کیلئے بھی نہیں ہچکچائی،تن من دھن سب قربان کر دیا۔مگر اس بدقسمت عوام پر جب بھی کوئی افتاد آئی طاقتور حلقے ایوانوں میں بیٹھے عوام کا لہو پینے والوں کے ساتھ کھڑے ہو گئے،بالکل اسی طرح جس طرح تلوار نکال کر جلاد اس لڑکے کی جان لینے کیلئے تیار ہو گیا۔افسوس اس بات کا ہے کہ عوام اس وقت اپنے پتے اور جگر بیچ کر بچوں کو خوراک فراہم کرنے پر مجبور ہے اور مقتدر حلقے اس سارے وحشت اور بربریت کے کھیل کو سیاسی قرار دے کر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔موجودہ حالات میں عوام کے پاس سوائے اللہ تعالی کے کوئی سہارا نہیں۔مرکزی حکومت اور اس کے تمام کردار بادشاہ کے ان ہرکاروں کی طرح ہر اس شخص کو ڈھونڈ رہے ہیں جوکلمہ حق بلند کرنے کی تھوڑی سی بھی جسارت رکھتا ہے۔کبھی یہ کوئی نہیں سوچ رہا کہ خلق خدا کس قدر تکلیف میں ہے۔جس کو دیکھو عوام کے خون کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ان کی جان کو جب بھی کوئی خطرہ محسوس ہوا یہ اسی وقت پورے ملک کو الٹ پلٹ کر دیتے ہیں مگر جب عوام اپنے درد ان کے سامنے رکھے تو یہ مزید ان زخموں پر نمک پاشی سے باز نہیں آتے۔ان کرداروں کا نام لے کر قلم و قرطاس کی حرمت کو پامال نہیں کرنا چاہتا، مگر اس بار پر امید ہوں کہ اس لڑکے کی فریاد کی طرح اللہ تعالیٰ نے بائیس کروڑ بے زبان، بے بس اور مجبور انسان نما مخلوق کی فریاد بھی سن لی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ عوام ان تما م کرداروں کو پہچان چکی۔
وہ وقت بہت قریب ہے جب قاضی کے احکامات سے لے کر جلاد کی تلوار تک سب حکم خداوندی سے رد کر دیئے جائیں گے۔ خلق خدا راج کرے گی اور پھر کوئی بادشاہ کسی کسان کے بیٹے کا اپنی صحت مندی کیلئے خون بہا نے کی جرأت نہیں کرے گا۔ بکھری ہوئی سوچ کبھی منزل نہیں پاتی،جب ٹوٹی پھوٹی سوچ کو نظریہ کے سانچے میں ڈھالنے والا رہنما مل جائے تو کمزور سے کمزور قوم بھی غلامی کی زنجیریں توڑ کر خوشحالی کو اپنا مقدر بنا لیتی ہے۔اس سے زیادہ اور کیا واضح ہو کہ ہر کردار جس نے میرے دیس کا ایک ایک اعضاء بیچ ڈالا کھل کر عوام کے سامنے آچکا۔اس کے باوجود اگر انہی کرداروں کو نجات دہندہ تصور کرنا ہے تو پھر یاد رہے،اللہ اس قوم کی تقدیر نہیں بدلتا جو اپنے مقدر کو بدلنے کی کوشش نہیں کرتی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button