ColumnJabaar Ch

الوداع باجوہ صاحب .. جبارچودھری

جبارچودھری

 

جوحال اورحالت مسلح افواج کے نئے سپہ سالار کی تقرری پر کی گئی ہے اس کو دیکھ کر ’’کفرٹوٹا خدا خدا کرکے‘‘والا محاورہ بہت ہی عامیانہ سا محسوس ہوتا ہے۔ حکومت نے ہاں ناں کرتے آخرکار سید عاصم منیرکوآرمی چیف لگانے کا فیصلہ کردیا ہے۔ ساحر شمشاد کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف مقرر کردیا ہے۔ان دونوں افسروں کے ناموں کی منظوری کی سمری حکومت نے صدرکو بھجوادی جس پر صدر صاحب نے اپنی پارٹی کے چیئرمین عمران خان سے لاہورآکرمشاورت کی اورواپس اسلام آباد جاتے ہی سمری پردستخط کردیے۔
آرمی چیف کی تعیناتی کا معاملہ حل ہوگیا ہے لیکن جس طرح اس مسئلے کومتنازع بنانے کی کوشش ہوئی ۔جو تماشا لگایا گیا اس کو دیکھ کرروس اور یوکرین کی جنگ چھوٹا معاملہ لگنے لگا تھا۔تماشا دیکھ کر لگتا تھاکہ پاکستان میں اس کے علاوہ کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔یہی ایک ایسا ایشو ہے کہ پاک فوج کے قابل ترین چھ جرنیلوں میں سے بھی ایک کاانتخاب پھونک پھونک کرکیا جانا لازمی تھا۔وزیراعظم کے گردایسے گھیراڈالاگیا جیسے انہوںنے ان چھ میں سے نہیں بلکہ حمزہ شہباز کو سپہ سالارکے عہدے پرلگانے کا اعلان کردینا ہو۔سمری کے آنے اور نہ آنے پرہی سٹے بازی کی نوبت آنے والی تھی پھر منگل کی رات کو پچھلے پہرجاکر تصدیق کی گئی کہ سمری آگئی ہے اور جس ایک نام کی وجہ سے سمری آنے میں رکاوٹ تھی وہ نام بھی سمری میں شامل ہے۔اب وہی نام آرمی چیف بنادیا گیا ہے۔اس کو حکومت کی خوش قسمتی ہی کہہ لیں کہ ان کی خواہش اورسنیارٹی کا ملاپ ہوگیا اور حکومت کہنے میں بھی حق بجانب ہوئی کہ انہوں نے سنیارٹی اور میرٹ کے اصول کو اپنایا ہے کیونکہ جن دوافسروں کا انتخاب کیا گیا ہے وہ دونوں ہی سنیارٹی لسٹ میں پہلے اور دوسرے نمبر پر تھے۔
پاکستان کی سیاست اور پورے نظام کو جس طرح اس تعیناتی نے مفلوج کیا ہے اس میں قصور بھلے، عمران خان کا ہو۔اس حکومت اور وزیراعظم کا ہویا ادارے کے اندرکسی پسند یا ناپسند کا ہو میں تو اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مسلح افواج کے سپہ سالار کی مدت ملازمت کم از کم دس سال کردینی چاہیے تاکہ ہم کم از کم دس سال توسکون سے گزارسکیں اور اس طرح کے عالمی مسئلے سے دس سال تک بچت ہوجائے۔ تین سال کا عرصہ تو بہت ہی تھوڑاہے اور ہر تین سال بعد اس طرح کے ماحول کا سامنا کرنا میرے جیسے کمزوردل بندے کے توبس کی ہی بات نہیں ہے۔ اگرمدت ملازمت نہیں بڑھانی توپھر اس کا دوسرا حل یہ نکالا جاسکتا ہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی کا برائے نام اختیار جو اس ملک کے وزیراعظم کو حاصل ہے وہ اختیار چپ کرکے آرمی کے ادارے کو دے دینا چاہیے ۔وہ جس کو مناسب سمجھیں تین سال بعد آرمی چیف بناکر حکومت وقت کوآگاہ کردیا کریں تاکہ یہ ہیجان کی نوبت ہی نہ آئے۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ چھ سال سپہ سالار رہنے کے بعد انتیس نومبر کوریٹائرہوجائیں گے۔ایک ہفتہ پہلے تک ان کے نہ جانے اور مدت ملازمت میں ایک اور توسیع کی خبریں نماافواہیں گردش کرتی رہیں۔یہ افواہیں اس وقت دم توڑ گئیں جب فوجی ترجمان نے ان کی الوداعی ملاقاتوں کی خبر باقاعدہ طورپرجاری کردی۔اس کے بعد سے ان کی الوداعی ملاقاتیں مسلسل جاری ہیں ۔انہوں نے بدھ کے روز جی ایچ کیو میں یوم دفاع اورشہداکی تقریب سے اپنا الوداعی خطاب کیا۔یہ خطاب کئی اعتبار سے منفرد اور اہم تھا۔اب تک ایسے الوداعی خطابات کی مثال پہلے موجود نہیں تھی اس لیے بھی یہ خطاب کافی منفرد تھا۔اس کے علاو ہ یہ خطاب اپنے موضوعات کے اعتبار سے بھی کافی اہم اور معمول سے ہٹ کر تھا۔پہلی مرتبہ جنرل باجوہ نے سیاسی معاملات پر واضح اور کھلے اندازمیں اظہار خیال کیا۔ ان کے خطاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔پہلا حصہ وضاحت،دوسرااعتراف اور تیسرے حصے کو عزم کہا جاسکتاہے۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک اہم وضاحت اپنے ادارے کی طرف سے کی۔انہوں نے سانحہ مشرقی پاکستان کوفوج کی بجائے سیاسی ناکامی سے تعبیرکرتے کہا کہ وہ یہ بات تاریخ اورحقائق کی درستگی کیلئے لازمی کہنا چاہتے ہیں کہ انیس سو اکہتر فوجی نہیں بلکہ سیاسی ناکامی تھی اور اس جنگ میں فوجیوں کی تعدادبانوے ہزارنہیں بلکہ صرف چونتیس ہزار تھی، جس کا مقابلہ بھارت کی ڈھائی لاکھ فوج اور دولاکھ مکتی باہنی کے ٹرینڈلوگوں سے تھااور پاک فوج نے ان کا بہادری سے مقابلہ کیا۔فوج اس جنگ کے شہدا اورغازیوں کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور دیکھتی رہے گی۔پاک فوج کی طرف سے پچاس سال بعد پہلی مرتبہ کسی آرمی چیف نے اس طرح کی بات کی ۔بہت سے لوگ اس وضاحت سے اتفاق نہیں بھی کریں گے لیکن پاک فوج نے اپنا موقف ضرورواضح کردیا ہے۔
دوسراحصہ ان کے اس اعتراف کا تھا کہ پاک فوج ماضی میں سیاسی معاملات میں مداخلت کرتی رہی ہے ۔جنرل باجوہ نے کہا کہ ماضی میں پاک فوج سیاست میں ملوث رہی ہے جو کہ غیرآئینی اور غیر قانونی تھا لیکن ایک سال سے پاک فوج نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت سیاست میں ملوث نہیں ہوگی۔اعتراف کرنا بڑے دل کی علامت ہے جنرل باجوہ نے فوج کے اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کا اعتراف کیا یہ اچھی بات ہے ۔انہوں نے بین السطوراعتراف کیا کہ دوہزاراٹھارہ میں ہوئے الیکشن میں فوج کی مداخلت ہوئی تھی جس کے نتیجے میں عوامی مینڈیٹ کو تبدیل کیا گیا تھا۔تیسری بات وہ عزم ہے جو انہوں نے دہرایاہے کہ فوج اب غیر سیاسی رہے گی۔
فوج کے غیرسیاسی ہوجانے والا حصہ انتہائی اہم ہے ۔اس کو نقطہ آغازبنایا جاسکتا ہے کہ سیاسی جماعتیں اس بات پر یقین کرکے آگے بڑھیں اور عمران خان بھی یہ ضد اب چھوڑدیں کہ فوج ان کا ساتھ دے یا فوج اس حکومت کو گرائے یا فوج انہیں الیکشن لے کردے۔گوکہ اس عزم پر یقین کرنا کافی مشکل ہے کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ اس بات پر یقین آتے آتے ہی آئے گا۔اس کیلئے فوج کو بھی عملی طورپراس کا ثبوت دینا ہوگا۔اس کا ثبوت دینے کا پہلا اہم موقع آنے والے عام انتخابات ہوسکتے ہیں۔ ان انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ خود کو صرف سکیورٹی تک محدودرکھ کرعوام کو اپنے لیے اپنی پسند کی حکومت منتخب کرنے کا موقع دے اورسب سیاسی پارٹیاں بھی کھلے دل کا ثبوت دیں اور نتائج کو تسلیم کرنے کی روایت بھی ڈالیں۔ہماراسب سے بڑا مسئلہ ہی یہ ہے کہ ہم میں شکست تسلیم کرنے کا رواج ہی نہیں ہے۔ہر ہارنے والا پہلا جملہ جو کہتا ہے وہ ’’دھاندلی ہوگئی‘‘ہوتا ہے۔جب تک یہ روش نہیں بدلے گی سیاسی بحران کبھی ختم ہی نہیں ہوسکے گا۔
جنرل باجوہ نے الوداعی خطاب میں پاک فوج کی قربانیوں کا ذکرکیا۔شہدا اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔اس کیلئے انہوں نے پاک فوج کی پاکستان کیلئے خدمات پربھی بات کی ۔ایک اور اہم بات تھی پاکستان اس وقت جن معاشی مشکلات سے دوچار ہے ان مشکلات کا ذکربھی انہوں نے کیا اورساتھ ہی یہ کہا کہ معاشی مشکلات کا حل کسی ایک سیاسی پارٹی کے بس کی بات نہیں ہے ۔انہوں نے سب سیاسی اسٹیک ہولڈرز کو کہا کہ سب مل کراس ملک کا سوچیں۔یہ بات حقیقت ہے کہ ملک معاشی مشکلات کا شکار ہے۔مہنگائی آسمان چھورہی ہے۔ اس کا حل سیاسی استحکام اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی جمہوریت اور سیاست کا کلچراپنانے میں ہے۔صرف اپنی ذات اہم اور سیاسی لڑائی کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔جنرل باجوہ چوالیس سال فوج میں رہنے کے بعد ریٹائر ہورہے ہیں ۔ان کے چھ سالہ آرمی چیف کے دورپربحث آنے والے دنوں میں ہوتی رہے گی فی الحال ۔۔الودع باجوہ صاحب۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button