ColumnRoshan Lal

پاکستان ، دیوالیہ ہونے کا خطرہ؟ .. روشن لعل

روشن لعل

 

گزشتہ ہفتے کی گئی اپنی ایک تقریر میںعمران خان دوسری کئی باتوں کے علاوہ پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی پیش گوئی بھی کرگئے ۔ عمران نے اپنی اس پیش گوئی کو جس سوال کے ذریعے جواز فراہم کرنے کی کوشش کی اس کا لب لباب یہ ہے کہ پاکستان کے بیرونی قرضے ہر آنے والے دن میں اس لیے مزید بڑھ رہے ہیں کیونکہ نہ ہمارے پاس قرض کی اصل رقم اور سود ادا کرنے کیلئے وسائل موجود ہیں اور نہ ہی مستقبل قریب میں موجود ہونے کا امکان ہے ، لہٰذا اس ملک کو دیوالیہ تو ہونا ہی ہے۔ عمران خان کے اس بیان پر وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے فوری رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے دیوالیہ ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ ملکی اور غیر ملکی میڈیا نے اسحٰق ڈار کے رد عمل کی بجائے عمران خان کے بیان کو زیادہ اہمیت دی۔ اپنا اقتدار ختم ہونے کے بعد سے ، عمران خان موجودہ اتحادی حکومت کومورد الزام ٹھہراتے ہوئے تسلسل سے پاکستان کا مستقبل مخدوش ہونے کے بیانات دیتے چلے آرہے ہیں۔ اپنی حکومت ختم ہونے کے دوماہ بعد عمران خان نے تو یہ بیان بھی داغ دیا تھا کہ عنقریب یہاں نیوکلیئر پروگرام کا خاتمہ اور ملک کے تین ٹکڑے ہوجائیں گے۔ گو کہ کئی لوگ عمران خان کے بیانات کو زیادہ سنجیدہ نہیں سمجھتے مگر جہاں تک ملک کے دیوالیہ ہونے کا معاملہ ہے تو اس خدشے کا اظہار وہ معاشی ماہرین بھی کر رہے ہیں جو عمران خان کے دور حکومت سے ایسی باتیں کرتے چلے آرہے ہیں۔ یہ معاشی ماہرین بھی اپنے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے وہی سوال اٹھا رہے ہیں جو عمران خان نے کیا ہے ، ہاں یہ الگ بات ہے عمران نے تو اب یہ سوال اٹھایا لیکن ماہرین یہی سوال عمران کے دور حکومت سے کرتے چلے آرہے ہیں۔
جن معاشی ماہرین نے بھی پاکستان کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ، وہ یہ باتیں عمران خان کی طرح کسی قسم کے سیاسی مفادات کی وجہ سے نہیں کر رہے ۔ چاہے عمران خان یہ باتیں سیاسی مفادات کی وجہ سے کر رہے ہیں مگر وقت کا تقاضا یہ ہے کہ کسی بھی حلقے کی طرف سے ظاہر کیے گئے ملک کے دیوالیہ ہونے کے خدشات کو غیر سنجیدگی کا طعنہ دے کر نظر انداز نہ کیا جائے ۔ اس وقت بیرونی قرضوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے جس طرح پاکستان کی معیشت عدم توازن کا شکار ہے ، اس طرح کے عدم توازن کی وجہ سے اپریل 2022 میں سری لنکا کو دیوالیہ قرار دے دیا گیا تھا۔پاکستان اس وقت دیوالیہ ہونے کے کس حد تک قریب یا دور ہے اس کا اندازہ لگانے کیلئے اس بات پر غور کیاجانا ضروری ہے کہ جب سری لنکا کو دیوالیہ قرار دیا گیا ، اس وقت وہاں کے حالات کیا تھے۔
سری لنکا کو دیوالیہ تو اپریل 2022 میں قرار دیا گیا مگر اس سے کچھ ماہ پہلے ہی اس کی معاشی حالت مخدوش ہو چکی تھی۔پاکستان میں معدنی اور خوردنی تیل کے علاوہ زیادہ تر زرمبادلہ ان اشیا کی درآمد پر خرچ کیا جاتا ہے جن کا شمار سامان تعیش میں ہوتا ہے ۔ سری لنکا کا معاملہ یہ ہے کہ وہاں زرعی عمل انتہائی محدود ہونے کی وجہ سے عام کھانے پینے کی اشیا پر بھی زرمبادلہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔ خوراک میں شامل صرف چاول اور چائے ، دو ایسی اشیا ہیں جن میںسری لنکا دیوالیہ ہونے سے قبل نہ صرف خود کفیل تھا بلکہ برآمد بھی کرتا تھا۔ دیوالیہ ہونے سے دو سال قبل سری لنکا کے زرمبادلہ کے ذخائر چار بلین ڈالر تھے جو فروری 2022 میں کم ہو کر قریباً دو بلین ڈالر رہ گئے تھے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں پچاس فیصد کمی کے بعد جب انتہائی ضرورت کی اشیا درآمد کرنا بھی ممکن نہ رہا تو سری لنکا میں تیزی سے روزانہ کی بنیاد پر مہنگائی میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا۔ سری لنکا میں مہنگائی میں کس قدر تیزی سے اضافہ ہوا اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ جنوری اور فروری 2022 کے دوران وہاں افراط زر میں 25 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ بجلی کی پیداوار کیلئے کیونکہ معدنی تیل درآمد کرنے کیلئے زرمبادلہ موجود نہیں تھا اس لیے تیل کی فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے بجلی کی پیداوار اس حد تک کم ہو گئی کہ عوام کو 24میں سے 20گھنٹے لوڈ شیڈنگ برداشت کرنا پڑی۔ یہ چند باتیں اس وقت کی مختصر عکاسی ہیں جب سری لنکا دیوالیہ ہوا ، مگر یہاں یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ اس ملک کے دیوالیہ ہونے کی نوبت کیوں آئی۔
واضح رہے کہ سری لنکا میں زرمبادلہ کے حصول کے دو بڑے ذرائع میں سے ایک بیرونی دنیا سے وہاں آنے والے سیاح اور دوسرا چائے اور چاول کی درآمدرہی ہے۔ ان دونوں ذرائع میں سے ایک سری لنکا میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات اور دوسرا وہاں کے سابق صدر گوٹاپا راج پکھشا کی ناقص حکمرانی کی وجہ سے متاثر ہوا۔ سال 2018 کے دوران بیرونی دنیا سے2.3 ملین سیاح سری لنکا آئے مگر 2019 میں سیاحوں نے اس وجہ سے سری لنکا آنے سے گریز کیا کیونکہ وہاں دہشت گردی کے واقعات میں جو سینکڑوں لوگ مارے گئے ان میں 45 غیر ملکی سیاح بھی شامل تھے۔ جہاں تک راج پکھشا کی ناقص حکمرانی کا تعلق ہے تو اس کی مثالیں یہ ہیں کہ پہلے اس نے بیرونی قرضوں میں جکڑے ہوئے اس ملک میں سستی شہرت حاصل کرنے کیلئے ویلیو ایڈڈ ٹیکس میں پچاس فیصد کمی کی جس سے اسے عارضی شہرت تو مل گئی مگر ٹیکس وصولی کا ہدف پورا نہ ہونے کی وجہ سے ملک دیوالیہ ہونے کی طرف گامزن ہوگیا۔ سستی شہرت کی ہوس رکھنے والے راج پکھشا نے دوسرا کام یہ کیا کہ اپنے ملک میں اچانک زرعی عمل میں کیمیائی کھادوں اور کیڑے مار ادویات کے استعمال پر پابندی عائد کردی۔ اس اچانک فیصلے کی وجہ سے چائے اور چاول کی پیداوار اس حد کم ہوگئی کہ جو سری لنکا یہ دونوں اشیا برآمد کر کے زرمبادلہ کماتا تھا اسے قرض کی بنیاد پر بنایا گیا زرمبادلہ کا انتہائی محدود ذخیرہ صرف کر کے ان اشیا کو درآمد کرنا پڑا۔ اسی طرح کی کچھ دوسری وجوہات کی بنا پر سری لنکا کو دیوالیہ قراردیا گیا تھا۔
مذکورہ باتوں سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سری لنکا کیوں دیوالیہ ہوا۔ سری لنکا نے دیوالیہ ہونے سے قبل بہت ہاتھ پائوں مارے کہ اسے کہیں سے بیرونی قرضہ مل جائے مگر یہ کوشش اس وجہ سے کامیاب نہ ہو سکی کیونکہ وہاں کے حکمران قرض دینے والوں سے کیے گئے وعد ے پورے کرنے میں ناکام رہے تھے۔ سری لنکا کے دیوالیہ ہونے کے پس منظرجاننے کے بعد یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اس معاملے میں ہمارا ملک بھی خطرے کے زون سے باہر نہیںہے ۔ عمران خان نے پاکستان کے دیوالیہ ہونے کا جو خدشہ ظاہر کیا ہے اسے بے بنیاد تصور نہیں کیا جاسکتا مگر اس کے ساتھ یہ کہے بغیر بھی نہیں رہا جاسکتا کہ اگر خدانخواستہ یہ ملک دیوالیہ ہوگیا تو اس کی ایک بڑی وجہ عمران خان کا وہ طرز حکومت بھی ہوگا جوسابق سری لنکن صدر گوٹاپا راج پکھشا کی حکمرانی سے کسی طرح بھی مختلف نہیں تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button