ColumnQaisar Abbas

بلند ترین کرکٹ سٹیڈیم .. قیصر عباس صابر

قیصر عباس صابر

 

ضلع نگر میں پسن کرکٹ سٹیڈیم ہمارا اگلا پڑاؤ تھا۔مناپن کے اوشو تھنگ ہوٹل کی صبح راکا پوشی کے برف دیدار اور لذت بھرے ناشتے سے ذرا بڑھ کر خوبصورت تھی ۔ چیریاں سرخ ، سرمئی اور سیاہ رنگ نچھاور کرتی تھیں ۔ اسرار احمد صبح خیزی کے عادی تھے اس لیے ہمارے جاگنے سے پہلے دلکش منظر اپنے کیمرے میں محفوظ کر چکے تھے۔ پہاڑی دنیا کے سکوت میں جیپ کے انجن کا شور دراصل طبل جنگ ہوتا ہے ، ہماری جیپیں تیار تھیں اور مناپن کی صبح کو آلودہ کر رہی تھیں۔
اوشو تھنگ سے نکل کر ہم راکا پوشی سے آنے والے بپھرے ہوئے نالے کے شور میں گم ہو گئے، سیاہی میں بدل چکا سلیٹی رنگ پانی بلند و بالا ہوٹل کے پہلو سے اتر کر دریائے ہنزہ کا حصہ بننے جا رہا تھا۔ سحاب اور عون اپنے کرکٹ کے ہتھیار ساتھ رکھے ہوئے تھے۔ سحاب نے کرکٹ کے نام پر ڈاکٹر عینی ہاشمی کے اصولوں کے جو بخئے ادھیڑے تھے وہ اسرار احمد کی چھتری تلے دب چکے تھے اور اب دنیا کا بلند ترین قدرتی کرکٹ سٹیڈیم ہماری منزل تھا ۔
جیپیں مناپن کی گلیوں سے گزر کر پسن کی طرف ہچکولے بھرتی دوڑ رہی تھیں۔ راکا پوشی کا پرکشش بدن عریاں ہو کر ہمارے سامنے آتا جاتا تھا مگر ہمارے پیش نگاہ آٹھ ہزار فٹ بلند وہ میدان تھا جسے قدرت نے صرف کرکٹ کیلئے تخلیق کیا تھا ۔ گزشتہ برس پی سی بی نے گلگت حکومت سے لیز پر لینا چاہا مگر معاملات طے نہ ہو سکے ۔ صوبائی وزیر نے جب پسن سٹیڈیم کا افتتاح کیا تو تین کلومیٹر تک پختہ سٹرک بنائی گئی تھی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ اس میدان کو عالمی میدانوں کے برابر سہولیات دے کر آباد کرنا چاہتا تھا مگر یہاں پر پہلا مقابلہ گلگت کی مقامی ٹیموں کے مابین کروایا گیا ۔
ہم نے جب میدان کو پہلی نظر دیکھا تو دیکھتے ہی رہ گئے۔ راکا پوشی کے گلیشئر میدان کے دہانے تک آتے تھے ۔ پانی کا شور شائقین کی فاتح تالیوں جیسا تھا۔ ہم سکتے میں آ گئے کہ میدان کے طرفین میں لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ بالکل یوں تھی جیسے بنائی گئی ہو۔ آخر اب تک یہ میدان ہماری نظروں سے اوجھل کیوں تھا۔ پارکنگ کا انتظام بھی قدرتی تھا۔ پہاڑوں کے درمیان ایک پیالہ وادی اور پھر یہاں حسن فطرت کی موجودگی ، بے ساختہ زبان سے نکل رہا تھا ’’اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے‘‘
کنول اور فوزیہ اس قدر حسن فطرت کے سامنے سجدہ ریز تھیں کہ گلیشرز تک پہنچ گئیں ۔ عون عباس اور سحاب احمد کے حصے میں یہ اعزاز آ گیا کہ دنیا کے بلند ترین میدان میں کرکٹ کھیل لی۔ ہم نے آیت زہرا اور حجاب زہرا کے ساتھ گرائونڈ کی بلند پہاڑی دیواروں پر بنے نقوش میں اپنے نام کنندہ کئے ۔ راکا پوشی کے سائے میں برف ہوتے ہوئے وجود برف ہونے کو تھے اور ہر سو اپنائیت بکھری پڑی تھی ۔
راکا پوشی کے بیس کیمپ تک چلے جانے سے کہیں بہتر یہ لینڈ سکیپ تھی اور یہ مشورہ سید اسرار حسین شاہ کا تھا ۔شاہ جی مستنصر حسین تارڑ کو بھی انہی وادیوں میں لے گئے تھے جس کے نتیجے میں ’’راکا پوشی نگر‘‘جیسا سفر نامہ منظر عام پر آیا تھا ۔
ہمارے سامنے وادی راکا پوشی تھی اور سامنے بلند سفید وجود اپنے لازوال گیت گنگناتے تھے۔ قدرتی سٹیڈیم پر اب حکومت اور کرکٹ کے حوالے سے با اثر طاقتوں کی نظر کرم پڑ رہی تھی اور آہستہ آہستہ شاید یہ انسانی ہاتھوں میں آ کر اپنا فطری حسن کھونے والا تھا ۔ تاریخ شاہد ہے کہ انسان نے ہمیشہ ترقی کے نام پر فطرت کو تباہ کر ڈالا ہے ۔ ہم شاید آخری سیاح تھے جو اس سٹیڈیم کو اس کی اصل حالت میں دیکھ رہے تھے ۔
شام ہونے سے پہلے راکا پوشی کی برف سرمئی رنگت میں ڈھل کر ندیوں میں پانی پانی ہونے کو تھی جب ہم واپس اوشو تھنگ ہوٹل کیلئے روانہ ہوئے۔ فوزیہ فضا میں خنکی کی وجہ سے جیپ میں بیٹھی تو ہم سب جیپوں کی طرف چلے آئے ۔ ہم ہنزہ نہیں جانا چاہتے تھے کیونکہ ہنزہ کمرشل ہو چکا تھاایک کوٹھا تھا اور نگر محبت میں ڈوبی قدرت کی شاہکار ریاست تھی ۔
نگر ، مناپن اور پسن ندیوں ، گلیشرز اور شاداب درختوں کی سر زمین ہے مگر قراقرم سے گزرنے والے سیاحوں کیلئے کشش راکا پوشی کے برف معبد میں ہے جو ہر طرف سے آئینہ تمثال ہے۔ قدرتی کرکٹ میدان کے قریب تو برف زاروں کی خوشبو تھی اور بالکل ایسے مہک تھی جیسے فیری میڈوز میں تھی ، جیسے بیال کیمپ میں تھی ، اسی طرح کی خوشبو نانگا پربت کے روپل چہرے سے نکلتی تھی ۔
کرکٹ سٹیڈیم کے لینڈ سکیپ سے نکل کر واپس جانا مشکل فیصلہ تھا مگر جانا بھی ضروری تھا ۔ قدم قدم حسن دریچے تھے جن میں جھانکنا خود کو قید کرنے کے مترادف تھا ۔ ہم نے ہنزہ اور نگر کو بارہا دیکھا تھا مگر ایسا احساس پہلی بار دامن گیر تھا ۔ کرکٹ میدان میں جب ہم اترے تو اوّل اوّل کا نشہ پہلی محبت جیسا تھا ۔ راما اور فیری میڈوز جیسا احساس میسر آیا ہی تھا کہ ترک ہو گیا کیونکہ ہم یہاں رک نہیں سکتے تھے ۔ جیپ ڈرائیور نئی تعمیر ہونے والی سٹرک کے آخری کنارے پر ہمارے منتظر تھے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button