ColumnKashif Bashir Khan

یہ سب تو وہ ہی ہیں ۔۔ کاشف بشیر خان

کاشف بشیر خان

 

جنوری 1977میں اس وقت کے مقبول ترین وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اچانک اپنی مقبول ترین حکومت کی آئینی مدت ختم ہونے سے ڈیڑھ سال قبل عام انتخابات کا اعلان کیا تو اس وقت کی اپوزیشن حیران رہ گئی تھی کیونکہ وہ سب منتشر اور عوامی حمایت سے محروم تھے لیکن چند ہی دنوں کے بعد اپوزیشن ذوالفقار علی بھٹو کو بھی حیران کرتے ہوئے نو سیاسی جماعتوں کا ایک اتحاد سامنے لے آئی۔ پاکستان قومی اتحاد کے نام سے سامنے آنے والے اس اتحاد کا صدر مولانا مفتی محمود اور سیکرٹری جنرل رفیق احمد باجوہ کو بنایا گیا تھا۔ائیرمارشل اصغر خان،سردار شیر باز مزاری،نواب زادہ نصراللہ خان، مولانا شاہ احمد نورانی، ولی خان، پیر صاحب پگاڑہ، جماعت اسلامی کے مولانا مودودی اور میاں طفیل محمد وغیرہ کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر سے سردار عبد القیوم خان وغیرہ بھٹو مخالف پاکستان قومی اتحاد کے نام سے بننے والے اس متضاد خیالات اور نظریات پر مشتمل اتحاد کا حصہ تھے۔پھر جو ہوا وہ سب نے دیکھا اور جو اتحاد بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی اور بھٹو کے خلاف بنا تھا اس نے بھٹو کی عالمگیر شہرت کے خلاف انتخابات میں تو غالباً 35 سیٹیں جیتیں لیکن انتخابات کا بائیکاٹ کر کے ایک منظم احتجاجی تحریک چلائی اور اس تحریک کو پھر مذہب کی آڑ لے کر تحریک نظام مصطفی ﷺ کا نام دے کر ملک میں ایسی بے سروسامانی پیدا کی کہ بعد میں قومی اتحاد اور حکومت کے درمیان معاہدہ طے ہونے کے باوجود اس وقت کےآرمی چیف جنرل ضیاءالحق نے اقتدار پر قبضہ کر کے ملک میں مارشل لاء لگا دیا تھا۔قارئین کویاد دلانے کی ضرورت ہے کہ 1977 کے انتخابات سے قبل ہی اس وقت کے مقبول رہنما تحریک استقلال کے ائر مارشل اصغر خان نے انتخابات سے قبل بیان دینے شروع کر دیئے
تھے کہ اگر عام انتخابات میں ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی جیتی تو ہم اسے تسلیم نہیں کریں گے۔ پاکستان قومی اتحاد اور ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے درمیان مذاکرات ہو رہے تھے ائر مارشل اصغر خان نے پاکستان آرمی کو اقتدار سنبھالنے کی دعوت دیتے ہوئے خط بھی لکھا تھا۔جب مذاکرات عروج پر تھے تو ایک روز اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان قومی اتحاد کے جنرل سیکرٹری رفیق احمد باجوہ کوون ٹو ون میٹنگ کی دعوت دی۔رفیق احمد باجوہ نے اس کا ذکر جماعت اسلامی کے دوستوں سے کیا جنہوں نے رازداری سے باجوہ صاحب کو وزیر اعظم بھٹو سے ملنے کامشورہ دیا لیکن جب رفیق احمد باجوہ وزیر اعظم بھٹو کو ملنے گئے تو جماعت اسلامی نے اس وقت کے میڈیا کو یہ راز افشاء کر دیا۔رفیق احمد باجوہ کو قومی اتحاد کی سیکرٹری جنرل شپ سے ہٹا دیا گیا اور جماعت اسلامی کے پروفیسر عبدالغفور کو پاکستان قومی اتحاد کا جنرل سیکرٹری بنا دیا گیا۔قومی اتحاد کے اتحاد کو عوام میں قابل قبول بنانے میں رفیق احمد باجوہ کا بہت بڑا کردار تھا کہ قومی اتحاد کے جلسوں میں لوگ میلوں کا فاصلہ طے کر کے رفیق احمد باجوہ کی پرجوش تقریریں سننے آیا کرتے تھے۔ملک میں مارشل لاء لگنے کے بعد جو ہوا وہ دنیا جانتی ہے کہ کیسے قومی اتحاد کی قریباً تمام ہی قیادت نے جنرل ضیاء الحق کی آمریت کو خوش آمدید کہا تھا اور وزارتیں وغیرہ بھی قبول کر لی تھیں۔اسی طرح جب نوے روز میں انتخابات کروانے کا وعدہ سالہاسال پورا نہ ہوا تو اصغر خان،مفتی محمود اور نوابزادہ نصر اللہ خان نے پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر ایم آر ڈی میں شمولیت بھی اختیار کر لی تھی لیکن پاکستان میں آمریت تب ہی ختم ہوئی تھی جب ضیاءالحق کا طیارہ فضا میں دھماکے سے تباہ ہوا تھا۔قومی اتحاد میں شامل تمام جماعتوں میں سے جماعت اسمبلی نے اس تمام آمرانہ دور میں فائدہ اٹھایا جسے جنرل ضیاءالحق کی بی ٹیم بھی کہا جاتا تھا۔پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یوں تو بہت سے اتحاد بنتے اور ٹوٹتے رہے لیکن پاکستان قومی اتحاد ایسا اتحاد تھا جس نے نہ صرف پاکستان کے مقبول ترین لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی چڑھا دیا بلکہ ان کی ایک آمر کو سپورٹ کی وجہ سے گیارہ سال ملک میں آمریت کے اندھیرے بھی چھائے رہے۔
پاکستان میں جو موجودہ سیاسی اتحاد پی ڈی ایم بنا وہ بھی ماضی کے قومی اتحاد سے مختلف نہیں اور پاکستان کے موجودہ حالات کی سنگینی بھی ویسی ہی ہے جیسی 1977 میں تھی لیکن فرق یہ ہے کہ اس وقت بننے والے اتحاد کو حکومت نہیں ملی تھی جبکہ پی ڈی ایم اتحاد کو 2022 میں عمران خان کی حکومت گھر بھیج کر حکومت مل چکی ہے۔یہ ایک الگ بحث ہے کہ پی ڈی ایم کی حکومت صرف مرکز میں ہے اور اس کی اہلیت،جواز اور قابلیت پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ماضی میں اگر قومی اتحاد میں شاہ احمد نورانی شامل تھے تو آج ان کا بیٹا انس نورانی اس اتحاد میں ہے۔مفتی محمود کا صاحبزادہ فضل الرحمان اور پوتا اسعد رحمان، چوہدری ظہور الٰہی کا بیٹا چودھری شجاعت حسین، خواجہ صفدر کا بیٹا خواجہ
آصف، آپا نثار فاطمہ کا بیٹا احسن اقبال، شیر باز مزاری کے بھائی کاپوتا دوست محمد مزاری، ولی خان کا پوتا ایمل خان اور سب سے بڑی بات کہ بھٹو کی بیٹی کا صاحبزادہ بلاول بھٹو زرداری بھی اس اتحاد کا حصہ ہے جس نے ماضی کے پاکستان قومی اتحاد کی طرح اقتدار حاصل کرنے کیلئے آج اس ملک کی سالمیت کو نہ صرف داؤ پر لگا دیا ہے۔ بلاول نے اپنی والدہ اور آصف علی زرداری نے اپنی شریک حیات(بینظیر بھٹو) کے خلاف غلیظ مہم چلانے والےاپنے پرانے حریف شریف خاندان سے نہ صرف ہاتھ ملایا بلکہ شہباز شریف کے نیچے بلاول بھٹو کیلئے وزارت خارجہ بھی قبول کی۔ جہاں ماضی میں پاکستان قومی اتحاد پر استعماری سرمایہ دارانہ نظام کا آلہ کار بننے کا الزام تھا بلکہ ثبوت بھی ملک میں ان رہنماؤں کو کثیر امریکن ڈالرز کی شکل میں دیکھا گیا تھا اور پاکستان قومی اتحاد کو بیرونی امداد یا سہولت کاری دنیا نے دیکھی تھی۔اسی طرح آج بھی موجودہ وفاقی حکومت یا حکومتی اتحاد پر امپورٹڈ اور رجیم چینج کا آلہ کار ہونے کے ایسے داغ ہیں جو ہر آنے والے دن کے ساتھ گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ماضی کے قومی اتحاد اور آج کے پی ڈی ایم کی اصلیت کھلنے میں وقت لگنے کا فرق ضرور ہے کہ اس وقت (1977)میں میڈیا اور ذرائع ابلاغ اتنے تیز نہیں تھے جبکہ آج دنیا بھر میں تیز ترین ذرائع ابلاغ کی فراوانی ہے اور سوشل میڈیا نے دنیا کو گلوبل ویلیج سے بھی ایک ہاتھ آگے پہنچا دیا ہے۔ ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو استعمار اور سامراج کا ہدف تھا جبکہ آج عمران خان سرمایہ دارانہ نظام اور استعمار کا ہدف ہے۔ دراصل یہ دنیا کے وسائل پرقبضہ کی پرانی جنگ ہے۔دنیا میں طاقت کے نئے محور کھل چکے ہیں اور ایسے میں پاکستان میں امریکی مددگار حکمران کی ضرورت موجودہ دور میں امریکہ کی اشد ضرورت ہے۔ وفاقی حکومت اور کچھ ادارے عمران خان کی جان کے درپے ہیں لیکن عوام کی ناقابل مثال حمایت اور محبت نے ابھی تک تمام قوتوں کی یہ خواہش اور کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا لیکن یہ صورتحال پاکستان کیلئے نہایت ہی خطرناک اور پریشان کن ہے کہ عوامی مینڈیٹ سے عاری کسی بھی حکومت کو اقتدار میں بزور طاقت رکھنا آج کے جدید دور میں تادیر ممکن نہیں نظر آتا بالخصوص جب عوام بھی نوشی زبوں حالی کا شکار ہوکر اس ساری صورتحال کو سمجھ چکے ہوں اور سیاسی شعور کے تحت اپنے حقوق کیلئے گھروں سے باہر نکلتے دکھائی دے رہے ہوں، بطور صحافی مجھے کوئی شک نہیں کہ بات صرف عمران خان پر ایک قاتلانہ حملہ تک نہیں رکے گی کیونکہ ماضی میں جیسے بھٹو کے خلاف مذہب کارڈ کھیلا گیا تھا اس سے زیادہ شدت سے آج مذہب کارڈ عمران خان کے خلاف کھیلا جا رہا ہے اور اس کو کھیلنے والے ماضی کے ان بیرونی آلہ کار اورمہروں کا تسلسل ہیں جنہوں نے ماضی میں پاکستان میں یہ مکروہ کھیل کھیلا۔گویایہ سب تو وہ ہی ہیںاورنئی بوتل میں پرانی شراب والا معاملہ ہے، اگر فرق ہے تو کراچی کی لسانی تنظیم کا جو ایک آمر نے تشکیل دی تھی، ایسے خوفناک کھیل کا نتیجہ پاکستان میں کشت و خون اور فساد کے علاؤہ کچھ بھی نہیں نکلنے والا۔ہر گزرتے دن کے ساتھ وفاقی حکومت اور اس کو طاقت فراہم کرنے والوں کے خلاف عوام کے غم و غصہ میں اضافہ نظر آ رہا ہے جو پاکستان کی سالمیت کے تناظر میں نہایت ہی خطرناک ہے۔آج مقتدر حلقوں سمیت تمام سیاسی فریقین کو اپنی اپنی اناؤں کے خول سے نکل کر پاکستان کے عوام اور ریاست کی سلامتی کی خاطر کم از کم ایک ایسا فوری راستہ نکالنا ہو گا جو عوامی رائے کے اظہار کے فوری اور پرامن انعقاد(نئے انتخابات) کی جانب نکلتا ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button