Column

ٹرانس جینڈر ایکٹ یا ہم جنس پرستی کا قانون؟ ۔۔عبدالمعید زبیر

عبدالمعید زبیر

آج کے پرفتن دور میں پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی ضرورت ہے۔ ملمع سازی کر کے پیش کی جانے والی ہر چیز کے پیچھے فوراً نہیں چل پڑنا چاہیے بلکہ پہلے اسے جاننا اور سمجھنا چاہیے پھر اس پر عمل کرنا چاہیے۔ 2018ء میں شاہد خاقان عباسی کے دوران اقتدار پیپلز پارٹی کی طرف سے ٹرانسجینڈر ایکٹ کے نام سے قانون پیش کیا گیا۔ جسے تینوں بڑی پارٹیوں سمیت دیگر تمام پارٹیوں نے مشترکہ طور بڑی تیزی سے پاس کروایالیکن صرف جمعیت علماء اسلام کی واحد رکن اسمبلی نعیمہ کشور نے آواز اٹھائی اور اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے واپس کمیٹی میں بھیجنے کی استدعا کی مگر نوید قمر اور سپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے ان کی آواز کو دبا دیا گیا۔ان کے بعد عمران خان برسر اقتدار آئے تو ان کی انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری صاحبہ نے اس عمل کو مزید تیز کیا اور بڑی’’محنت و کوشش‘‘کے ساتھ اسے پورے پاکستان میں نافذ کر دیا گیا۔ اصطلاحات سے ناواقف لوگ اسے واقعی پیدائشی intersex یعنی خنثی کیلئے محافظ خیال کرتے ہیں مگر درحقیقت اس ایکٹ کا ان کی کمیونٹی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ وہ تو آج بھی ہمارے معاشرے میں پہلے کی طرح مختلف مسائل میں گھرے ہوئے ہیں۔ بلکہ یہ قانون تو ان کو مزید بے راہ روی کی طرف لے جانے والا ہے۔ ہم اس ایکٹ کی کچھ بنیادی چیزیں جان لیں تو یہ بات بالکل واضح ہو جائے گی کہ کم از کم یہ خنثی یا خواجہ سرائوںکو تحفظ فراہم کرنے کیلئے تو بالکل بھی نہیں بلکہ ہم جنس پرستی کو عام کرنے کی کوشش ہے۔ اس کے نام پر ہی غور کر لیا جائے تو بہت کچھ سمجھ آ جاتا ہے۔ اس کا نام ٹرانسجینڈر ایکٹ ہے۔ اس کے لفظی معنی ہی جنس کی تبدیلی کے ہیں حالانکہ ہم اس کے ذریعے ان لوگوں کے تحفظ کی بات کر رہے ہیں جو پیدائشی صنفی ضعف کا شکار ہوتے ہیں۔ اس میں ان کا اپنا کوئی کردار نہیں ہوتا بلکہ ان کی خلقت میں کچھ کمی ہوتی ہے۔
جینڈر کا لفظ کتنا خطرناک ہے اور اس کے معاشرے پر کیا نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان تمام ہم جنس پرستی کے معاملات کو اقوام متحدہ اپنے ذیلی ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے تحت مکمل تحفظ فراہم کرتی ہے۔ پاکستان میں بھی ٹرانسجینڈر ایکٹ کی بنیاد ہم جنس پرستی پر ہے۔ اس ایکٹ کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے ہمارے مشفق اور محنتی دوست جناب ایڈووکیٹ عبدالرحمن اور ان کے ساتھیوں عماد حسین اور شعیب مدنی وغیرہ نے مذہبی زعما کو بیدار کرنے کی کوشش کی، سوشل میڈیا پر آگاہی مہم چلائی، لوگوں کو شعور دینے کی کوشش اور ساتھ ساتھ اس ایکٹ کو شریعت کورٹ میں چیلنج کیا۔ بہت عرصہ اس پٹیشن کا جواب ہی نہیں دیا گیا بلکہ دھمکیاں دی گئیں کہ پٹیشن واپس لی جائے۔ مگر جب عدالتی اصرار بڑھا تو جو جواب انہوں نے داخل کروایا، اس نے اس ایکٹ کی قلعی کھول کر رکھ دی۔ جواب میں دو بنیادی باتیں کی گئیں۔ پہلی یہ کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ہم نے اس ایکٹ کو بنایا ہے۔ لہٰذا کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ اور اس میں دس نام لکھے گئے۔ خوجہ سرا کمیونٹی، ٹرانسجینڈر ایکٹوسٹ، UNDP، نیشنل کمیشن آن ہیومن رائٹس، وفاقی محتسب کی ٹاسک فورس برائے ٹرانسجینڈر، سیکس اینڈ جینڈرر پر کام کرنے والی NGO، تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمنٹیرینز، فیمینسٹ گروپ، سول لبرل سوسائٹی اور اسلامی نظریاتی کونسل۔ان میں اسلامی نظریاتی کونسل بالکل انکار کر چکی ہے کہ ان سے بالکل مشاورت نہیں کی گئی۔ بلکہ انہوں نے واضح لکھ دیا کہ خنثی کے تمام حقوق اسلام دے چکا ہے۔ صرف نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ جس پر جج صاحب نے سوال بھی اٹھایا کہ کیا وفاقی وزارت اب عدالت سے بھی جھوٹ بولے گی کہ اس میں اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے شامل ہے؟ دوسری طرف خواجہ سرا کمیونٹی میں چند منظور نظر لوگوں کو بٹھایا گیا ہے۔ وہ بھی انہی کی بات کرتے ہیں۔ اس کے علاؤہ تمام وہ تنظیمیں اور لوگ ہیں جو فارن فنڈڈ ہیں۔ جیسا کہ ان کے نام سے بھی واضح ہو رہا ہے۔ ان لوگوں کو نوازا جاتا ہے بدلہ میں یہ لوگ ان کے لیے کام کرتے ہیں۔وزارت کی طرف سے دوسرا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ ہم نے یہ تمام قانون’’یوگیا کارتا پرنسپلز‘‘کے مطابق بنایا ہے۔ ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ اس میں LGBT رائٹس کا خیال رکھا گیا۔ جس پر جج صاحب برہم ہوئے اور سوال کیا کہ کیا آپ یوگیا کارتا پرنسپلز کو جانتے ہیں کہ وہ کیا ہیں؟ کیا آپ کو LGBT رائٹس کا پتہ ہے؟ کیا آپ پاکستان میں ہم جنس پرستی کو فروغ دینا چاہتے ہیں؟یاد رہے کہ یوگیا کارتا پرنسپلز 2006 میں انڈونیشیا کے شہر یوگیا کارتا میں عاصمہ جہانگیر کے سمیت انتیس ممالک کے نام نہاد ہیومن رائٹس کے علمبرداروں نے مل کر طے کیے۔ جس میں sexual orientation, Gender identity, Gender expression، جسم فروشی، زنا کاری، اسقاط حمل اور فحاشی جیسے جرائم کو قانونی تحفظ دلانے اور ان کو جرائم کی فہرست سے نکالنے کا متفقہ مطالبہ کیا گیا۔ اور اب انہیں باقاعدہ طور پر اقوام متحدہ کے قوانین سے مربوط بھی کر دیا گیا ہے۔اب اگر ان اصطلاحات کو سمجھا جائے تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ کس طرح ٹرانسجینڈر ایکٹ 2018ء تشکیل دیا گیا۔
Sexual orientation سے مراد کسی فرد کی رومانوی، جذباتی کشش، جسمانی تعلق اور احساس جو وہ کسی کے لیے بھی محسوس کرتا ہے۔ لہٰذا اگر کوئی فرد کسی بھی انسان، جانور یا فحش کھلونوں سے تعلق قائم کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ قانون اسے تحفظ فراہم کرے گا۔ حالانکہ اسلام ایسے کسی بھی تعلق کو بالکل حرام قرار دیتا ہے۔ اسلام میں صرف عورت اور مرد کا جسمانی تعلق نکاح کی صورت میں ہی جائز ہوتا ہے۔ اس کے علاؤہ تمام تعلقات حرام ہیں۔
Gender identity سے مراد وہ شناخت ہے جو کوئی فرد اپنے احساسات کی بنیاد پر اختیار کرتا ہے۔ لہٰذا کوئی مرد یا عورت احساسات کی بنیاد پر اپنی شناخت بدل کر جیسے مرضی عورتوں یا مردوں میں رہے، پڑھے یا پڑھائے۔ اسے کسی قسم کی کوئی روک ٹوک نہیں ہو گی۔ اسی طرح دو مرد یا عورت احساسات کی بنیاد پر شادی کریں یا تعلق قائم کریں۔ انہیں مکمل اختیار ہے۔ حالانکہ اسلام میں اپنی مرضی سے جنس اختیار کرنے کا کوئی تصور ہی نہیں۔ یہ اختیار قادر مطلق کے پاس ہے کہ وہ کسی کو مرد پیدا کرے یا عورت۔ مگر یہاں یہ اختیار افراد کو منتقل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
Gender expression سے مراد وہ جنسی شناخت ہے جو کوئی مرد و عورت اختیار کرتا ہے چاہے اس کا اظہار کرے یا نہ کرے۔ لہٰذا ایک وقت میں کوئی مرد ہے تو دوسرے وقت میں عورت بن سکتی ہے۔ ایک وقت میں اگر کوئی عورت ہے تو دوسرے وقت میں مرد بن سکتا ہے۔ جو چاہے جب چاہے شناخت اپنا لے۔ اسے جرم تصور نہیں کیا جاسکتا۔زرا سوچیے! کہ ان پرنسپلز کے تحت بنائے گئے ٹرانسجینڈر ایکٹ کا خنثی یا خواجہ سرائوں کے تحفظ سے کتنا تعلق ہوگا۔ کیا یہ اسلامی ملک پاکستان کے وفادار ہیں جو ہم جنس پرستی کو قانونی تحفظ دے کر نوجوان نسل کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دینا چاہتے ہیں۔ اس قانون کے پاس کروانے میں سوائے دو مذہبی پارٹیوں کے تمام سیاسی پارٹیاں متفق ہیں۔ اگر پاکستان میں ہم جنس پرستی کا راستہ روکنا ہے تو ہمیں اسی وقت اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ اپنا احتجاج ریکارڈ کروانا ہوگا۔ ایسے مکروہ چہروں کو قوم کے سامنے عیاں کرنا ہو گا۔ ورنہ یہ طوفان ہمارے خاندانی نظام کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دے گا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button