ColumnImtiaz Ahmad Shad

فلاحی ریاست میں فلاحی تنظیموں کا کردار ۔۔ امتیاز احمد شاد

امتیاز احمد شاد

انسا نوں سے پیار و محبت اور ضرورت مند انسا نوں کی مددکے عمل کو ہر دین اور مذہب میں تحسین کی نظر سے دیکھا جا تا ہے لیکن دین اسلام نے خد مت ِ انسا نیت کو بہترین اخلا ق اور عظیم عبا دت قرار دیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسا نوں کو یکساں صلا حیتوںاور اوصاف سے نہیں نوازا بلکہ اُن کے درمیان فرق وتفا وت رکھا ہے اور یہی فرق و تفاوت اس کا ئنات رنگ وبو کا حسن و جما ل ہے۔ وہ رب چاہتا تو ہر ایک کو خوبصوت،مال دار،اور صحت یاب پیدا کر دیتا لیکن یہ یک رنگی تواس کی شانِ خلاقی کے خلاف ہوتی اور جس امتحان کی خاطر انسان کو پیدا کیا ہے، شاید اس امتحان کا مقصد بھی فوت ہو جاتا۔اُس علیم و حکیم رب نے جس کو بہت کچھ دیا ہے، اُسکا بھی امتحان ہے اور جسے محروم رکھا ہے اس کا بھی امتحان ہے۔وہ رب اس بات کو پسند کرتا ہے کہ معا شرے کے ضرورت مند اور مستحق افراد کی مدداُن کے وہ بھا ئی کریں جن کو اللہ نے اپنے فضل سے نوازا ہے تاکہ انسانوں کے درمیان باہمی الفت ومحبت کے رشتے بھی استوار ہوں اور دینے والوں کو اللہ کی رضا اور گناہوں کی بخشش بھی حاصل ہو۔مسلم شریف کی روایت ہے:مخلوق اللہ کا کنبہ ہے اور وہ شخص اللہ کو زیادہ محبوب ہے جوا س کے کنبے کیلئے زیادہ مفید ہو۔‘‘انسانیت کی خد مت کے بہت سے طریقے ہیں۔ بیوائوں اور یتیموں کی مدد،مسافروں، محتاجوںاور فقرا اور مساکین سے ہمدردی، بیماروں،معذوروں،قیدیوںاور مصیبت زدگان سے تعاون یہ سب خدمت خلق کے کام ہیں۔ حدیث نبوی ﷺ ہے : اعمال میں سے اللہ کے ہاں سب سے پسندیدہ وہ ہیں جن سے مسلمانوں کو خوشیاں ملیں، یا ان سے تکلیف دور ہو۔یاان سے قرض کی ادائیگی ہو یا ان سے بھوکوں کی بھوک دور ہو۔ ایک نشست میں نبی رحمت ﷺ نے صحابہ کرام ؓسے سوالات کئے۔آپ نے پوچھا:آج کس نے جنازے میں شرکت کی؟سیدناابوبکرؓنے فرمایا:میں نے۔ آپ ﷺنے فرمایا:آج کس نے بھوکے کو کھانا کھلایا؟سیدناابو بکرؓ نے فرمایا: میں نے۔ آپ ﷺنے پھر سوال کیا: آج کس نے اللہ کی رضا کیلئے روزہ رکھا؟ سیدناابو بکر ؓ نے فرما یا: میں نے۔آپ ﷺنے ایک بارپھر پوچھا: آج کس نے بیما ر کی عیادت کی؟ سیدناابوبکر ؓ نے فرمایا میں نے۔ نبی ﷺ نے فرمایا جس آدمی میں یہ چار باتیں جمع ہو جائیں وہ جنتی ہے۔مومنین کی ایک اہم صفت یہ ہے کہ وہ اللہ تعا لیٰ کی محبت کی وجہ سے مسکین، یتیم اور قیدی کو کھا نا کھلا تے ہیں۔
یتیم کی کفا لت کر نے والے کو نبی ﷺکی جنت کی رفاقت نصیب ہو گی۔یتیموں کو دھتکارنااور مسکین کو کھا نا نہ کھلانا مشرکین کا عمل ہے جیسا کہ قرآن مجید میں جا بجا اس کا ذکر آیا ہے۔ ایک حدیث میں بڑے عجیب انداز میں بھوکے، پیاسے اور بیمارکا ذکر آیا ہے۔امام مسلم حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے:نبی اکرم ﷺ نے فرما یا قیا مت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا:
اے آدم کے بیٹے!میں بیمارہوا تھا تو تُونے میری عیادت نہیں کی۔بندہ کہے گا: میرے اللہ! تُوتو رب العالمین ہے میں کیسے تیری عیادت کرتا؟ اللہ فرمائے گا:میرا فلاں بندہ بیمار تھا تو تُو نے اس کی عیادت نہیں کی۔ اگر تُو اس کی مزاج پرسی کرتا تو مجھے اس کے پاس ہی پاتا۔
اے آدم کے بیٹے! میں نے تجھے کھانے کو دیا لیکن میں بھو کا تھا تُو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا۔بندہ کہے گا:پرور دگار! تُو تو رب العالمین ہے میں تجھے کیسے کھانا کھلاتا؟ اللہ فرمائے گا:میرا فلاں بندہ بھوکا تھا، تُو نے اس کو کھانا نہیں کھلایا۔ اگر تُواسے کھا نا کھلاتا تو مجھے اس کے پاس ہی پاتا۔ اے آدم کے بیٹے! میں نے تجھے پا نی دیا لیکن میں پیاسا تھا، تُو نے مجھے پانی نہیں پلایا۔بندہ کہے گا: تُو رب العالمین ہے میں کیسے تجھے پانی پلاتا؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا:میرا فلاں بندہ پیاسا تھا، اگر تُواسے پانی پلا تا تو مجھے اس کے پاس پاتا۔
کتنے ہی حسین پیرائے میں خدمت خلق کے کام کی عظمت کا احساس دلا یا گیا ہے تاکہ ہم بھی نیکی کے ان کا موں کی طرف راغب ہوں۔یتیموں اور بیوائوں،فقراء اور مساکین سے اللہ تعالیٰ کو کس قدر محبت ہے اور کن کن طر یقوں سے اللہ ان کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔
یہ کام اصل میں تو مسلمان حکومتوں کے کرنے کا ہے لیکن ہمارے حکمرانوں کو اس طرف دھیان دینے کی فرصت ہی کہاں ہے۔ انفرادی طور پر بھی ہمیں اپنے پڑوسیوں اور رشتہ داروں میں بڑ ھ چڑ ھ کر ضرورت مندوں کی مدد کرنی چاہیے اور اجتماعی طور پر بھی بڑے پیمانے پر خدمت خلق کے ادارے اور تنظیمیں قائم کر کے مستحقین کی ضرورتوں کو پورا کرنے کا انتظام کرنا چاہیے۔ پاکستان کو اس حوالے سے یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس کے فرزند دنیا میں جہاں بھی آباد ہیں خیر اور بھلائی کے کاموں میں سر فہرست نظر آتے ہیں۔ ترکی میں مقیم ممتاز پاکستانی بزنس مین اور ٹیلی کام سیکٹر میں دنیا بھر میں اپنا بزنس پھیلانے والے مرزا فرخ جاوید بیگ ایسے انسان ہیں جن کے کئے گئے کاموں پر قوم فخر محسوس کرتی ہے۔ انہوں نے انسانیت کی فلاح کے لیے گلزار مدینہ فاؤنڈیشن قائم کر رکھی ہے جو گذشتہ کئی سالوںسے گلاب دیوی، چلڈرن ہسپتال اور جنرل ہسپتال میں 12سو افراد کو بلاناغہ کھانا تقسیم کر رہی ہے جبکہ کاہنہ اور یوحنا آباد میں سات مختلف آرفن ہاؤسز میں مقیم 200 سے زائد یتیم بچوں کو حفظان صحت کے اصولوں کے عین مطابق کھانا فراہم کر رہے ہیں۔انہوں نے اپنے کام کا آغاز ترکی کے شہر استنبول میں 150 یتیم بچوں کی کفالت اور تعلیم و تربیت کا بیڑہ اٹھاکر کیا ، اور اب گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان میں کام کر رہے ہیں۔ یقیناً ایسے لوگ ملک و ملت کا سرمایہ ہیں۔ پاکستان میں ان فلاحی کاموں کی نگرانی معروف صحافی خالد شہزاد فاروقی کر رہے ہیں، جو بذات خود اپنے اند ر ایک مکمل تنظیم اور انسانی خدمت کی درسگاہ کا درجہ رکھتے ہیں۔بطور پاکستانی ملکی حالات اور یہاں موجود سیاسی افراتفری کو دیکھ کر اکثر مایوسی ہوتی ہے مگر جب ملک میں موجود انسانیت کی فلاح کے لیے کام کرنے والے افراد اور اداروں پر نظر پڑتی ہے تو یقیناً حوصلے بلند ہو جاتے ہیں۔ گلزار مدینہ فاؤنڈیشن ہو یا الخدمت فاونڈیشن ،یا پھر ایدھی ایسی تنظیمیں یہ اقوام عالم میں پاکستان کا وقار بلند کرنے کے لیے کسی نعمت خداوندی سے کم نہیں۔ ملک میں یتیموں کی کفالت سے لے کر مسکینوں کو کھانا کھلانے تک ،تعلیمی اخراجات سے لے کر صحت کے معاملات تک اور پھر زلزلہ زدگان سے لے کرسیلاب زدگان تک ہر جگہ وطن عزیز کی یہ شاندار فلاحی تنظیمیں دن رات مصروف عمل دکھائی دیتی ہیں۔ یقین سے کہاجا سکتا ہے کہ پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست کے طور پر متعارف کروانے میں ان فلاحی تنظیموں کا کلیدی کردار ہے۔ایسی تنظیموں کی حوصلہ افزائی کرنے کا مطلب ریاست پاکستان کو مضبوط کرنا ہے۔ آج اس مادیت پرستی کے دور میں جو افراد انسانیت کا درد محسوس کرتے ہوئے احکام خدوندی اور پیغام مصطفی ﷺ کو سامنے رکھتے ہوئے خدمت خلق میں پیش پیش ہیں یقینا وہ لائق تحسین ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button