ColumnQadir Khan

شہر قائد اہل سیاست سے مایوس ؟ .. قادر خان یوسف زئی

قادر خان یوسف زئی

کراچی ایک سونے کی چڑیا اورہر ایک کو اپنا حصہ چاہیے۔ جب تک کراچی کو سونے کی چڑیا سمجھ کر اس کے پَر نوچے جاتے رہیں گے ۔ کراچی میں احساس محرومی بڑھتا جائے گا۔ کراچی سے سب نے کچھ نہ کچھ لیا، لیکن کراچی کو کسی نے کچھ دیا نہیں۔ کراچی ہمیشہ سیاسی حوالے سے گیم چینجر رہا ہے، پاکستان میں اقتدار کی تبدیلی کے کھیل میں کراچی کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ماضی میں اٹھنے والی تحریکوں کی وجہ سے مرگلہ کی پہاڑیوں میں کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے والے یہی سمجھتے رہے تھے کہ خطرہ ابھی بہت دور ہے اس کو ہینڈل کر لیں گے لیکن دیکھا یہی گیا کہ ایسا بہت کم ہوا ہے اور ایک تیز اندھی نے سب کچھ آناًفاناً اڑا کر رکھ دیا تھا۔کراچی نے اقتدار کی بساط پلٹنے میں اہم کردار ادا کیا اور کم نشستوں والی جماعت ایک بار پھر کنگ میکر ثابت ہوئی ۔ لیکن ان کے رہنمائوں کا کہنا ہے کہ ان سے جو حکومت بھی اتحاد کرتی ہے اپنے وعدے پورا نہیں کرتی اور سارا ملبہ ان پر گرایا جاتا ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ کے منحرف رہنماؤں کی الگ جماعت پاکستان سر زمین پارٹی بنانے کے سلسلے نے کراچی کی سیاست کا مکمل رخ تبدیل کر دیا تھا، لیکن اس سے جو توقعات وابستہ رکھی جا رہی تھیں ، وہ پوری ہوتی نظر نہیں آئیں ، وجہ جو بھی ہو ، کراچی کی عوام نے پاک سر زمین پارٹی کو قبول نہیں کیا۔ گو کہ مصطفی کمال مایوس نظر نہیں آتے اور اپنے تئیں بہت کوشش کررہے ہیں ، لیکن ان کا سیاسی بیانیہ اہل کراچی پر اس طرح اثر انداز ہوتا نظر نہیں آرہا جس سے کسی بڑے بریک تھرو کی توقع کی جاسکے۔ تاہم عمومی صورت حال یہی ہے کہ اب کراچی کی عوام دیگر سیاسی جماعتوں پر بھی اعتماد نہیں کرتے ، پی ٹی آئی کو ایک بہت بڑا مینڈیٹ ملا ، یا دلوایا گیا ، اس سے قطع نظر اراکین اسمبلی کی بڑی تعداد کراچی کی وہ خدمت نہیں کرسکی جس کی توقع شہر قائد کو تھی۔ اس کی بھی جو وجہ ہو ، لیکن اس حقیقت کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ، وفاق میں مضبوط حکومت کی حامل جماعت اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔ مینڈیٹ ملنے والوں نے اہل کراچی کو مایوس کیا ۔ایم کیو ایم پاکستان جو خود کو بلا شرکت غیرے کراچی کا مالک سمجھتی تھی۔ وہ اپنا مینڈیٹ چھن جانے والوں کے ساتھ تین برس سے زائد اتحادی بن کر رہی ، وزراتیں بھی تھیں، لیکن ان میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل اتنا طویل اور گنجلگ ہوچکا ہے کہ ابھی تک اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہوسکی۔
غداری کے تمغے دینا تو خیر ہماری روایت بن چکی ہے، پاکستان کا کون سا ایسا سیاسی لیڈر ہے جیسے غدار نہیں کہا گیا۔اہمیت اس بات کی بھی نہیں کراچی کے عوام سے کتنا پیسہ وصول کیا گیا۔ کراچی کے عوام سے ٹیکس کی صورت میں 70 فیصد تو ویسے ہی وفاق لے رہا ہے لیکن کراچی کو حصہ کتنا دیا جاتا ہے یہ سوچنے کی بات ہے۔جب کہ کراچی کو تو سب اون کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن حقیقی معنوں میں کراچی سے کوئی بھی سیاسی جماعت مخلص نہیں ۔ کراچی لسانی فسادات کی بھیا نک تاریخ رکھتا ہے ۔ امن و امان کی صورت حال مجموعی طور پر سیاسی حوالے سے بہتر ہے لیکن سٹریٹ کرائم کی بڑھتی وارداتوں نے اہل کراچی کو بد ترین خوف میں مبتلا کردیا ہے۔ سٹریٹ کرائم اور دوران واردات مزاحمت پر قتل ہونے والوں کی بڑی تعداد لمحہ فکریہ ہے۔
کراچی میں بے امنی کا ذمے دار زیادہ تر بانی ایم کیو ایم اور ان کے عہدے دار اور ذمے داروں کو سمجھا جاتا تھا، ماضی میںایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل رحمان ملک پاکستان کے ڈپٹی اٹارنی جنرل اور ماہرین قانون کی ٹیم دستاویزی ثبوت لے کر لندن گئی تھی تا کہ ایم کیو ایم کے بانی کو پاکستان کے حوالے کیا جائے۔ وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر نے رحمان ملک کو خاص طور پر ہدایت کی تھی کہ وہ کارروائی مکمل ہونے تک لندن میں رکے رہیں۔ کیونکہ ملزمان کی حوالگی کا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان نہیں تھا۔ برطانیہ کے ہوم سیکریٹری مائیکل ہاروڈ نے کہا تھا کہ معاہدہ نہ ہونے کے باوجود ایسا طریق کار موجود ہے جس میں الطاف حسین کو پاکستان حوالے کیا جا سکتا ہے۔ وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا تھا کہ سینیٹر اقبال حیدر
نے کافی مواد دیا ہے۔ آج2022ء میں بھی بانی ایم کیو ایم ہر طرح کے الزامات کے باوجود لندن میں مقیم ہیں، عمران خان، جارج گیلوے، حبیب جان بلوچ، بریف کیس بھر کر برطانیہ جانے والے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا سب اس دعوے کے ساتھ گئے کہ انہیں گرفتار کر کے پاکستان لائیں گے لیکن کوئی بھی کامیاب نہیں ہو سکا۔
عوام کو کسی نے نہیں بتایا کہ رحمان ملک صاحب آپ ناکام کیوں لوٹے، ڈاکٹر ذوالفقار مرزا تو بریف کیس لے کر گئے تھے وہ بھی عوام کو نہیں بتا سکے کہ ان بریف کیسوں کو کس سمندر میں پھینک آئے۔ متحدہ تین حصوں میں تقسیم ہوئی، بعد میں عامر خان نے بھی معافی مانگ لی اور دوبارہ متحدہ کا حصہ بن گئے۔متحدہ میں دھڑے بازیوں اور اختلافات کی خبریں میڈیا میں آتی رہیں، لیکن بحث اس پر بھی نہیں ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ پاکستان میں اتنے افراد ملک دشمنوں نے خود کش دھماکوں میں شہید نہیں کیے جتنے کراچی میں لسانی فسادات میں بے گناہ انسانوں کو مارا گیا۔ چاہے ان کا نظریہ کچھ بھی ہو، لیکن بلوچ، پختون اور مہاجر تو ان ٹارگٹ کلرز کی وجہ سے بڑی تعداد میں بے گناہ مارے گئے۔ مصطفیٰ کمال متحدہ کی اندرونی کہانی بہت اچھے لفظوں میں بیان کرتے ہیں کہ ہر کوئی ماں کے پیٹ سے مجرم پیدا نہیں ہوتا، حالات و واقعات اور لالچ ہی ان کو مجرم بننے پر مجبور کرتے ہیں۔
کراچی سونے کی چڑیا ہے، اس سے حق لینا ہے تو حق دینا بھی ہو گا۔ متحدہ کے منحرف اراکین با الفاظ دیگر باغیوں کو اکٹھے کرنا اہم نہیں ہے۔ بلکہ اہم یہ ہے کہ کراچی کو اس کا حق کون دے گا، کراچی کے عوام تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے سب سیاسی جماعتوں کو آزما کر دیکھ لیا ہے۔کراچی کا 90فیصد رقبے کا انفرا اسٹرکچر مکمل طور پر برباد ہوچکا ہے ۔ کھنڈرات کا منظر ہر علاقے میں ملتا ہے ۔ سیلاب کا لے کر نام نہاد قوم پرستی کی سیاست نے اہل کراچی کو متفکر کردیا ہے کہ اگر یہی حالات رہے تو ان کا کیا ہوگا ۔ شہر قائد کو اس حق دلانے کے دعوے کرنے والے کب کیا اور کتنا کریں گے کسی کو نہیں معلوم۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button