ColumnImtiaz Aasi

سیلاب اعمال کا نتیجہ ؟ .. امتیاز عاصی

امتیاز عاصی

ہمارا ملک جن مشکلات کا شکار ہے، کبھی ہم نے ان مشکلات کی وجوہات جاننے کی کوشش نہیںکی۔بارہ سال پہلے سیلاب آئے تو سوات کے جن مقامات پر ہوٹلز اور دیگر تعمیرات تھیں سیلاب کی نذر ہو گئیںلیکن بعد ازاں انہی جگہوں پر ہوٹلز تعمیر کر دیئے گئے ۔کتنے ہی ڈیم سیلابوں کی نذر ہو گئے۔ بلوچستان کے جن مقامات پر ماضی میں پہاڑوں سے آنے والے برساتی پانی نے نقصان پہنچایا تھا لوگوں نے انہی مقامات پر تعمیرات کر لیں۔ بلوچستان میں قریباً اڑھائی سو چھوٹے ڈیم ہیں اس کے باوجود کم از کم ایک ہزارسٹوریج ڈیموں کی ضرورت ہے ۔بلوچستان میں سب سے زیادہ نقصان ضلع واشق میں ہوا ہے اس کے بعد جو اضلاع سیلاب سے زیادہ متاثرہ ہیں ،ان میں قلعہ سیف اللہ، نصیرآباد اور جعفرآباد شامل ہیں۔ایک موقع پر بلوچستان کے اس وقت کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری پی اینڈ ڈی احمد بخش لہڑی نے صوبائی حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ واشق اور دیگر علاقوں میں جہاں برساتی پانی کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے وہاں کے سرکاری سکولوں کا planth level اونچا کر دیا جائے تاکہ سیلابوں سے پہلے وہاں کے رہنے والوں کو سکولوں میں پناہ دی جا سکے لیکن ان کی اس تجویز پر عمل نہیں ہو سکا۔
تعجب ہے حکومت نے ایران سے ٹماٹر سستے منگوانے کی فیصلہ کیا تو بلوچستان کے لوگوں نے ایران سے ٹماٹر لانے والے ٹرکوں سے ٹماٹروں کو ضائع کر دیا تاکہ وہ اپنے ٹماٹر مہنگے داموں فروخت کر سکیں۔اس وقت بلوچستان میں آٹا پندرہ سو روپے کلو فروخت ہو رہا ہے۔ہم کیسے مسلمان ہیں۔ مسلمان تو آپس میں بھائی بھائی ہوتے ہیں۔ درحقیقت ہمیں جن آفات کا سامنا ہے وہ ہمارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے۔نبی کریمﷺ کو جب کبھی مشکل پیش آتی تو سب سے پہلے اناالله وانا الیه راجعون پڑھنے کے بعد دو نوافل ادا فرماتے تھے۔ قرآن پاک میں حق تعالیٰ نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ انسانوں پر جو مشکلات اورآفات آتی ہیں وہ ان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے۔اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتے ہیں تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوں کا بدلہ ہے اور وہ تو بہت سی باتوں سے درگذر فرماتا ہے۔اس کا خطا ب اگر
اہل ایمان سے ہو تو مطلب ہوگا کہ تمہارے بعض گناہوں کا کفارہ تو وہ مصائب بن جاتے ہیں جو تمہیں گناہوں کی پاداش میں پہنچتے ہیںاور کچھ گناہ وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ یوں ہی معاف فرما دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی ذا ت بڑی کریم ہے۔ معاف کرنے کے بعد آخرت میں اس کا مواخذہ نہیں فرمائے گی۔ حدیث میں آتا ہے کہ مومن کو جو کبھی تکلیف پہنچتی ہے حتیٰ کہ اسے کانٹا چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے گناہ معاف فر ما دیتاہے۔اگر خطاب عام ہو تو مطلب ہوگا کہ تمہیں جو مصائب دنیا میں پہنچتے ہیں وہ تمہارے اپنے گناہوں کا نتیجہ ہے حالانکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ بہت سے گناہوں سے تو در گذر فرما دیتا ہے یعنی یا تو ہمیشہ کے لیے معاف کر دیتا ہے یا ان پر فوری سزا نہیں دیتا ۔
عقوبت و تغریر میں تاخیر یہ بھی ایک طرح کی معافی ہی ہے۔جیسے ایک دوسرے مقام پر فرمایا اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے کرتوں پر فوراً مواخذہ شروع فرما دے تو زمین پر چلنے والاہی باقی نہ رہے۔جب ہم اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کریں گے تو اس کا نتیجہ ہمیں دنیاوی مصائب کی شکل میں ملتا ہے۔یہ سیلاب ،زلزلے اور طوفان سبھی ہمارے اعمال ہی کا نتیجہ ہیں اس کے باوجود ہم سبق سیکھنے کی کوشش نہیں کرتے۔قرآن عظیم میں حق تعالیٰ نے جن چیزوں سے ہمیں منع فرمایا ہے ہم وہی کرتے ہیں،نہ کہ ان سے رک جاتے ہیں۔دھوکہ دہی، جھوٹ، ملاوٹ، وعدہ خلافی، چوری ، ڈاکہ زنی، زنا، قتل ،کم تولنا جانے کون کون سے گناہ ہیں جو ہم سے سرزد نہیں ہوتے۔ حالیہ سیلابوں میں کروڑوں گھر تباہ ہو گئے۔بستیاں کی بستیاں زمین بوس ہو گئیں۔لاکھوں لوگ کھلے آسمان تلے پڑے ہیں۔ان سب چیزوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں اپنے اعمال پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔سو د جیسی لعنت کو اللہ اور اس کے رسولﷺکے خلاف جنگ قرار دیا گیا ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں تمام مکتبہ فکر کے علمائے کرام کو سود کی لعنت سے نجات کے لیے مشاورت کے لیے بلایا گیا جس میں متفقہ طور پر آئندہ پانچ سالوں میں بتدریج سود سے چھٹکارہ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیالیکن بعض عقل مندوں نے اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کر لیا۔اب فیڈرل شریعت کورٹ نے سود کو پانچ سالوں میں ختم کرنے کا فیصلہ دیا ہے تو حکومت اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں چلی گئی ہے۔جب ہم اللہ سبحانہ تعالیٰ کے احکامات سے پہلو تہی کریں گے تو دنیاوی مصائب ہمارا مقدر بن جائیں گے۔
ملک کو وجود میں آئے 75 برس ہو چکے ہیں،اس عرصے میں ہمارا ملک کتنی مرتبہ سیلابوں کا شکار ہو چکا ہے اس کے باوجود کسی حکومت نے سیلابی تباہ کاریوں سے محفوظ رہنے کے لیے کوئی ٹھوس حکمت عملی نہیں اپنائی۔ جب کوئی مشکل پیش آتی ہے تو ہم دوسروں کے دست نگر ہوتے ہیں۔سب سے پہلی بات یہ ہے جن جگہوں پر پانی آتا ہے ان مقامات پر تعمیرات پر پابندی ہونی چاہیے تاکہ مستقبل میں جب کبھی ایسی صورت حال کا سامنا ہو تو لوگ محفوظ رہ سکیں۔سیلابی پانی کو محفوظ کرنے کے لیے ہمیں زیادہ سے زیادہ ڈیم بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔کالا باغ جیسا منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچ جاتا تو ملک کے بہت سے مسائل حل ہو سکتے تھے۔ اب بھی وقت ہے جو حکومت آئے کالا باغ ڈیم کی تعمیرکی طرف توجہ دے۔ ڈیم کی تعمیر سے جہاں بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہو گا وہاںسندھ کی زمین کو زیر کاشت لایا جا سکتا ہے۔سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی بحالی کوئی اتنا آسان کام نہیں، سب سے پہلے انہیں خوراک اور ادویات کی بہت ضرورت ہے تاکہ وہ زندہ رہ سکیں۔جن علاقوں میں سیلابی پانی آیا ہے ،وہاں کے رہنے والے مختلف بیماریوں کا شکار ہیں۔اس وقت ہمیں انفرادی طور پر زیادہ سے زیادہ متاثرہ لوگوں کی امداد کی ضرورت ہے جیسا کہ ہمارے دین نے بھی مشکل کی گھڑی میں اپنے بھائیوں کی مدد کرنے کا حکم دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button